Voice of Asia News

شکر کا استعمال نہ صرف موٹاپے بلکہ دانتوں کی خرابی

 

لاہور(وائس آف ایشیا)عالمی ادارہ ِصحت نے متنبہ کیا ہے کہ خوراک میں ضرورت سے زیادہ شکر کا استعمال نہ صرف موٹاپے بلکہ دانتوں کی خرابی کے علاوہ دیگر کئی امراض کا بھی سبب بن سکتا ہے۔اقوام ِمتحدہ کے صحت سے متعلق ادارے نے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کی رو سے بڑوں اور بچوں کو اپنی روزمرہ خوراک میں سے شکر کا 10فیصد کم کرنا چاہیئے، تاکہوہ مستقبل میں کئی طبی مسائل سے بچ سکیں۔گذشتہ کئی سالوں سے ایسی اشیا کی فروخت میں، جس میں شکر کی مقدار زیادہ ہو، تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسی چیزوں میں ’گلوکوز‘، ’فرکٹوز‘ اور ’چینی‘ شامل ہے۔ مگر روزمرہ کی خوراک میں زیادہ شکر کےباعث لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے برے نتائج سامنے آئے ہیں۔عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق، 1980کے بعد سے دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح میں دو گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔عالمی ادارہ ِصحت کا کہنا ہے کہ 2017میں18برس یا اس سے بڑی عمر کے 1ء9ارب افراد کا وزن ان کے نارمل وزن سے زیادہ تھا، جبکہ ان میں سے چھ سو ملین افراد زیادہ موٹاپے کا شکار تھے۔2013میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال یا اس سے کم عمر کے 42ملین بچے موٹاپے یا شدید موٹاپے کا شکار تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے آگہی بڑھائی جائے اور یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ زیادہ شکر والی غذاؤں کے استعمال سے کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خوراک میں شکر کی مقدار کم کرکے نہ صرف موٹاپے سے بچاؤ ممکن ہے بلکہ دانت بھی صحتمند رہتے ہیں۔عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق کاربونیٹڈ ڈرنکس یا سوڈے میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سوڈے کے ایک کین میں ۱۰ٹی سپون شکر موجود ہوتی ہے جو انسان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ دودھ، پھلوں اور سبزیوں میں موجود شکر انسان کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •