Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر پرسلامتی کونسل کی مصلحت پسندی :محمد قیصر چوہان

 
بھارت کشمیر ہڑپ کرچکا ہے اور خوف کے سائے کشمیر میں لہرا رہے ہیں۔یہ کشمیری کبھی بھارتی کرفیو کو توڑ کر پاکستان کا پرچم تھامے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اورکشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ 5اگست سے لے کر اب تک درجنوں کشمیریوں کو بھارتی فوج شہید کرچکی ہے جبکہ سیکڑوں زخمی اور ہزاروں گرفتار ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ، فوج، عدالت، حکومت ، اہل سیاست سب ادھر ادھر کی باتیں کررہے ہیں۔ ترانے بنا رہے ہیں بیانات داغ رہے ہیں اور کشمیری خوراک سے محروم ہو رہے ہیں۔ کشمیری بہنوں کی عزتیں داؤ پر لگ چکی ہیں، یہاں سے بھارت کے مندروں میں گھنٹی بند ہونے کے بیانات دئیے جارہے ہیں۔ اگر بیانات اور تقریروں سے کشمیر آزاد ہوسکتا تو بہت پہلے ہو جاتا۔ لیکن کشمیر جیسے چھینا گیا ہے اسی طرح آزاد ہوگا۔ عوامی دباؤ کے نتیجے میں یوم آزادی پر کچھ نمائشی اقدامات کیے گئے۔ کشمیر پر سرکاری نعرہ دیا گیاتھا، اس میں کشمیر کو سرخ رنگ سے ظاہر کیا اور کشمیر کا پرچم بھی پاکستان کے پرچم کے ساتھ لہرایا گیاتھا۔
مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی قبضے کی صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس کابلا کسی نتیجے پر پہنچ کرختم ہونا نیک شگون ہرگز نہیں ہے ۔اصولی طور پر اس اجلاس میں ہونے والی بحث و تمحیص کے نتیجے کے بارے میں سیکوریٹی کونسل کے سربراہ کو ایک بیان جاری کرنا چاہیے تھا مگرایسا نہیں ہوا۔کونسل کے مشاورتی اجلاس میں کیا کچھ ہوا ، اس کے بارے میں صرف اور صرف چین کے نمائندے نے لب کشائی کی تھی جبکہ بقیہ مستقل اور غیر مستقل ارکان نے اس بارے میں خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا تھا۔ اقوام متحدہ کے ادارے کا قیام جب عمل میں لایا گیا تھا ، اس وقت ضرور پوری دنیا کواس سے اچھی امیدیں تھیں کہ اب جو بھی زیادتی کرے گا ، اس کو پوری دنیا مل کر غلط بھی کہے گی اور اسے بزور قوت روکے گی بھی۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب اس ادارے کے ساتھ امیدیں بدترین کے بھی نچلے درجے میں ہیں۔ یہ ادارہ جنگیں روکنے میں تو اپنا کردارکیا ادا کرتا البتہ اس نے پوری دنیا کو جنگ میں دھکیلنے میں ضرور اپنا کردار ادا کیا ہے۔ توقع کی جاتی تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں عمومی طور پر اور اس کی سیکوریٹی کونسل میں خصوصی طور پر جو قرارداد منظور ہوجائے ، اس کی خاص اہمیت ہے اور جو اس پر عملدرآمد نہیں کرے گا ، دنیا بھر کی اقوام اس پر عملدرآمد کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گی اور جب تک ان قراردادوں پر عمل نہ ہوجائے ، مذکورہ ملک کی حیثیت عالمی برادری میں اچھوت جیسی ہوگی مگر اس ادارے کی سیکڑوں منظور کردہ قراردادوں کی بس اتنی ہی اہمیت ہے کہ وہ اب اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس سب کے باوجود پاکستان کی حکومت نے اقوام متحدہ کے مشاورتی اجلاس سے بڑی امیدیں وابستہ کی ہوئی تھیں اور اسے پاکستان میں سرکاری سطح پر انتہائی اہمیت دی گئی تھی۔ سلامتی کونسل میں چینی مندوب نے جو کچھ مشاورتی اجلاس کی کارروائی کے بارے میں بتایا تھا ، وہ بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں تھا۔مثال کے طور پر انہوں نے بتایا تھا کہ اجلاس میں اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ مقبوضہ وادی جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ تاہم اجلا س میں بھارت پر زبانی بھی زور نہیں دیا گیا کہ وہ5 اگست سے قبل کی صورتحال کو بحال کرے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں استصواب کروانے کی بات کرنا اور اس کیلئے اقدامات کرنا تو بہت دور کی بات ہے ، کوئی یہ بھی کہنے کو تیار نہیں ہے کہ بھارت اپنے آئین کی شق 370 کو ریاست کے عوام کی مرضی کے بغیر ختم نہیں کرسکتا۔ اس پر بھی پاکستانی حکومت اور سیاست دانوں نے خوشی کے شادیانے بجائے اور اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں صرف اور صرف طاقت کا سکہ چلتا ہے۔اور تاریخ کا بھی یہی سبق ہے کہ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ اس وقت بھارت نے پورے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کررکھاہے۔
انسانی حقوق کی کون سی خلاف ورزی ہے جو مقبوضہ وادی میں نہیں کی جارہی۔ ان کی خواتین کی آبروریزی کی جارہی ہے اور نوجوانوں کو عقوبت خانوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہر کچھ دن کے بعد ایک اجتماعی قبر کی نشاندہی ہوتی ہے جس سے ان سیکڑوں نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں جنہیں بھارتی فوج نے لاپتا کردیا تھا۔ کشمیری یہ سارے مظالم صرف اس جرم کی پاداش میں برداشت کررہے ہیں کہ وہ بھارتی حکمرانی کو مسترد کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ اگر کشمیری بھارت میں رہنے کی حامی بھر لیں تو حیدرآباد اور دیگر ریاستوں کے مسلمانوں کی طرح انہیں بھی زندہ رہنے کا پروانہ مل جائے گا۔ ہر طرح کے ظلم کے باوجود کشمیریوں میں حریت کی شمع نہ صرف روشن ہے بلکہ اس میں روز شدت ہی پیدا ہورہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کا ردعمل ابھی تک انتہائی مایوس کن ہے۔ ابھی تک پاکستان مسلمان ممالک ہی کی حمایت حاصل نہیں کرسکا ہے۔ چین نے بھی شق 370 کے خاتمے کے بجائے محض لداخ کی بات کی ہے۔ بھارت کا رویہ ہر سطح پر جارحانہ ہے۔ وہ خارجہ پالیسی میں بھی جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور فوجی سطح پر بھی۔ روز پاکستان کے اندر گولہ باری کر کے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو شہید کردیتا ہے۔اب تو ایٹمی حملے کی بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس سب کے جواب میں پاکستان سے صرف ایک ہی نعرہ بلند ہوتا ہے اور وہ ہے جنگ اچھی چیز نہیں ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ جنگ کبھی بھی اچھا آپشن نہیں رہا ہے مگر فلسطین اور کشمیر والوں کے پاس اس کے علاوہ اور کون سا آپشن باقی چھوڑا گیا ہے۔ بہت سی جگہوں پر نہ چاہتے ہوئے بھی منہ توڑ جواب دینا ہی مسئلے کا واحد حل ہوتا ہے۔ پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی دراندازی کا اگر پاکستان بروقت جواب نہ دیتا تو کیا بھارتی مسلسل جارحیت سے رک سکتے تھے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اب بھی ہے کہ بھارتی رکنے میں ہی نہیں آرہے ہیں۔ بھارت نے سیاچین پر قبضہ کیا مگر دنیا نے کیا کرلیا سوائے طرفین کو تحمل کی تلقین کرنے کے۔ اب بھی سب یہی بھاشن دے رہے ہیں کہ تحمل سے کام لیا جائے۔ جب فاک لینڈ کے جزائر پر ارجنٹائن نے قبضہ کیا تھا تو اس وقت برطانیہ نے کیوں تحمل سے کام نہیں لیا اور بجائے ارجنٹائن پر حملہ کرنے کے مذاکرات کیوں نہ کئے۔ جب روس متنازع جاپانی جزائر پر فوج اتارتا ہے تو وہاں پر کیوں تحمل کا مظاہری نہیں کیا جاتا اور مذکرات کا آپشن کیوں ختم ہوجاتا ہے۔ عراق پر کیوں امریکا نے فوج کشی کی ، وہاں پر مذاکرات کیوں نہیں کیے گئے۔بھارت نے کشمیر پر 72 برسوں سے قبضہ کیا ہوا ہے ، وہاں پر بہیمیت اور سفاکی کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔اب اس قبضے کو اس نے مستقل حیثیت دے دی ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی کون سی خلاف ورزی ہے جو آج کے جدید دور میں نہیں کی جارہی۔ اس کے علاوہ پاکستان پر بلاجواز روز بمباری کی جاتی ہے اور پاکستانی شہریوں کو روز شہید کردیا جاتا ہے۔ اس سب پر بھی پاکستان ہی کو تحمل اور برداشت کی تلقین کی جارہی ہے۔ کوئی زبانی بھی یہ کہنے کو تیار نہیں ہے کہ بھارت نے زیادتی کی ہے اور کشمیر یوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی آزادی دی جانی چاہیے۔ دنیا جو کچھ بھی کہے اور کرے ، کم از کم پاکستانی حکومت کو تو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے راست اقدام کرنا چاہیے۔
کبھی امریکا کی آس ، کبھی او آئی سی سے امیدیں اور اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے توقعات۔ یہ سب بیکار ہیں۔ کوئی مدد کو نہیں آئے گا۔ جو کچھ کرنا ہے خود پاکستان کو کرنا ہے۔ تنظیم اسلامی کانفرنس کے رکن ممالک کے بھارت سے گہرے تجارتی اور کاروباری تعلقات ہیں جن کو یہ مسلم ممالک محض کشمیر یا مجبور و مقہور مسلمانوں کی خاطر نظر انداز نہیں کر سکتے خواہ کفار بے دریغ ان کا خون بہاتے رہیں۔ بس ان کے معاشی و تجارتی مفادات پورے ہوتے رہیں۔او آئی سی نے اب تک مقبوضہ فلسطین اور قبلہ اول کیلئے کیا کر لیا ، میانمر اور افغانستان پر صلیبی قوتوں کے خلاف کون سا قدم اٹھا لیا۔ آپ کہتے رہیں کہ بحرانوں سے نکلنے کیلئے اتحاد عالمی نا گزیر ہے۔ یقیناً ایسا ہے مگر یہ اتحاد ہے کہاں۔ صورتحال تو یہ ہے کہ عالم اسلام میں مسلمان ،مسلمان کو مار رہے ہیں اور کفر ملت واحدہ بنا ہوا بغلیں بجا رہا ہے۔ مسلم ممالک اور بھارت کے تجارتی تعلقات کا مختصر سا جائزہ یہ ہے کہ گزشتہ سال بھارت سے سعودی عرب کی تجارت 27.48 بلین ڈالر کی تھی جس میں اس سال مزید اضافہ ہوا ہے۔ سعودی ولی عہد نے اعلان کیا ہے کہ 2023ء تک بھارت میں سرمایہ کاری 100 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اور سعودی عرب کی باہم تجارت 3.6 بلین ڈالر سالانہ ہے بھارت اور ملائیشیا کی تجارت کا تخمینہ 16.83 بلین ڈالر ہے اور پاکستان کے ساتھ 1.27 بلین ڈالر۔ یہ ممالک بھارت کے خلاف اپنے مسلمان بھائیوں کا ساتھ کیوں دیں گے۔
مسلم ممالک کے حکمران اگر اسلامی غیرت کا مظاہرہ کریں توبھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ لیکن اپنے مفادات کے سامنے کشمیریوں، فلسطینیوں اور میانمر کے مسلمانوں کے خون کی کوئی حقیقت نہیں۔ بھارت کو بھی مسلم ممالک کی بے غیرتی کا خوب اندازہ ہے۔ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمانوں پر بند ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں عید الاضحی کے موقع پر بھی مرکزی مساجد بند رہیں، پوری وادی میں مسلسل کرفیو ہے۔ شہری گھروں میں محصور ہیں۔کشمیر کیلئے بیک وقت اقدامات کرنے ہوں گے۔ فوج کی بڑی قابل ذکر تعداد کشمیر کی سرحد پر پہنچائی جائے۔ پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کردی جائے۔ اگر 72برس سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جا رہا تھا تو آج اسے دشمن کے مکمل قبضے میں دیکھ کر اطمینان کیوں ہے۔ اسے چھڑانے کیلئے بے چین کیوں نہیں ہیں۔ احتجاج، مطالبے اور مظاہرے کرنا حکمرانوں کا کام نہیں ہوتا ہے۔ ہمت ہے تو اقدام کریں ورنہ استعفیٰ دے کر گھر جائیں کیونکہ مقبوضہ کشمیرکو بھارت کے ظلم وجبر سے آزاد کرانے کیلئے صرف اور صرف جذبہ جہاد کی ضرورت ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •