Voice of Asia News

ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا:حسنین جمیل

انور مقصود کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ میرا تعلق اس نسل سے ہے جو ان کے T.Vڈرامے دیکھ کر جوان ہوئی ہیں۔ طنزومزاح کی دنیا کے وہ بادشاہ ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کو ان جیسے اور بھی لکھاری ملے جن میں اظہر شاہ خان اور فاروق قیصر شامل ہیں مگر انور مقصود کا انداز تحریر سب سے جداگانہ ہی رہا۔ انہوں نے اداکاری بھی کی اور T.Vپروگراموں کی میزبانی بھی کی۔ اردو ادب کے مزاح میں جو مقام مشتاق احمد یوسفی کو حاصل ہے وہی مقام T.Vمیں انور مقصود کو حاصل ہے۔ 80اور 90کی دہائی بلاشبہT.Vکی دنیا میں انور صاحب کے نام رہی ہے۔ پہلے PTV کے لیے بعد میں نجی چینلز آنے کے بعد انہوں نے یادگار ڈرامے لکھے۔ 1983-84میں ان کا ایک یادگار ڈرامہ سریل تھا ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ جس میں بشری انصاری، شکیل اور سلیم ناصر نے یادگار اداکاری کی تھی، خاص طور پر سلیم ناصر مرحوم نے ایک رقاص کا کردار بڑی مہارت سے ادا کیا تھا۔ وہ ڈرامہ جب نشرہوا تھا اس وقت جنرل ضیا الحق کی حکومت تھی۔ سرکاری T.Vسنسرشپ کا شکار تھا۔
ایسے میں ایک ایک مکالمے پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔ لکھاری کے لیے ایک ایک لفظ سرکاری T.V کے سوچ کر لکھنا پڑتا تھا۔ ایک تقریب میں انور مقصود سے جنرل ضیا الحق کی ملاقات ہوئی۔ صدر صاحب نے کہا انور صاحب آپ مصوربھی ہیں کیوں نہ آپ کی تصویروں کی نمائش سرکاری سطح پر کرائی جائے۔ اس پر انور صاحب نے جواب دیا سر آپ کا دور حکومت اسلامی ہے میری تصویروں کے کردار برہنہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں جب ان کے لکھے ہوئے ڈرامے نشر ہوتے تھے تو حکام بالا کی کڑی نظر ان پر ہوتی تھی مگر یہ لفظوں کا جادوگر پھر بھی اپنی بات کر جاتا تھا۔’’آنگن ٹیڑھا‘‘ اُس دور کی کہانی ہے جب جنرل ضیا الحق نے فنون لطیفہ پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور فن کار بے روزگار ہو چکے تھے۔ اب اسی کہانی کو 2019ء میں انور مقصود نے تھیٹر کے لیے لکھا۔ کہانی کو وہ اور پیچھے لے گئے۔ بھٹو صاحب کے دور سے کہانی شروع ہوتی ہے ضیاء الحق کے دور میں ختم ہوتی ہے۔ ثقافت کی ترویج کے لیے بھٹوحکومت میں کام شروع ہوئے تھے ۔فیض احمد فیض کو حکومت کا مشیر مقرر کیا جا چکا تھا۔ سرکاری سرپرستی میں کتھک اور بھارت نائیم سکھانے کی اکیڈمیاں بن چکی تھیں مگر جنرل ضیا الحق کی حکومت آتے ہی ان کو غیر شرعی کام قرار دے کر بند کر دیا گیا۔ اکبر ایک ماہر رقاص تھا جو بے روزگار ہو گیا اب وہ جگہ جگہ نوکری کے لیے جاتا ہے۔ تھیٹر پر اس کھیل کو نئے فنکاروں نے پرفام کیا اور خوب کیا۔ اکبر کے کردار کو سلیم ناصر مرحوم نے امر کر دیا تھا مگر تھیٹر میں نوجوان فن کار نے چار چاند لگا دیئے۔ ڈرامے کے ڈائریکٹرداور محمود نے بطور ہدایت کار ناٹک پر اپنی گرفت قائم رکھی ہے کہیں بھی اعلیٰ پائے کے لکھے سکرپٹ میں بطور ڈائریکٹر جھول نہیں آنے دی۔ ڈرامہ ایک تاریخی دستاویز ہے کہ کیسے بنام اسلام فنون لطیفہ کے تمام شعبوں کو کچلا گیا اور ایک بار پھر اورنگ زیب عالمگیر کی یادتازہ کی گئی اور آج کے جمہوریت کے اوتار اس وقت ایک فوجی آمر کے تھانیدار بنے بیٹھے تھے۔ ناٹک میں وزیراعظم عمران خان کی بھی نقالی کی گئی ہے اور فوجی حکمرانوں پر خاصی تنقید کی گئی ہے۔ شرکا میں سابق گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول بھی موجود تھے جو فوجی حکومتوں پر کیا جانے والا طنزومزاح دلچسپی سے دیکھتے رہے اور تحمل سے برداشت کرتے رہے۔
مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔یہ ناٹک اسلام آباد او رلاہور کے سرکاری تھیٹرہالوں میں پیش کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران کی نقالی پیش ہوئی اور ان پر طنز بھی کیا گیا۔ سرکاری طور پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوئی۔ یہ قابل تحسین عمل ہے جمہوری روایات کو فروغ دینے کا باعث ہوگا۔ ماضی میں بے نظیر بھٹو کے عہد میں شاہد محمود ندیم کا لکھا ہواڈرامہ ’’زرد دوپہر‘‘ ٹیلی کاسٹ ہوا تھا۔ جس میں اداکار شجاعت ہاشمی نے نوازشریف کی نقالی کی تھی۔ نوازشریف جب اقتدار میں دوبارہ آئے تو انہوں نے ادکارشجاعت ہاشمی پر پابندی عائد کر دی تھی مگر اس ناٹک میں جس طرح ایک ریٹائر جرنیل اور سابق گورنر پنجاب کے سامنے فوجی حکمرانوں پر تنقید ہوئی اور وزیراعظم عمران خان پر طنز ہوا اس کو برداشت کرنا اور ناٹک بند نہ کرنا قابل تعریف عمل ہے۔ اس ناٹک کا سب اہم بنیادی نکتہ جو ہے وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے حکمران طبقات نے کبھی فن کاروں کی حوصلہ ا فزائی نہیں کی۔اور بنام مذہب بلاجواز فن کی ترویج کو پابند کیا گیا۔ ایک عالمگیر مذہب کو فنون لطیفہ سے کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فن کار ،ادیب سماج کا روشن چہرہ ہوتے ہیں۔ کراچی آرٹس کونسل کے احمد شاہ میڈیا کو بتایا کہ ہم حسینہ معین کے ڈرامے ’’اِن کہی‘‘ کو بھی تھیٹر کے ناٹک کے قالب میں ڈھال رہے ہیں۔ کراچی آرٹس کونسل تھیٹر کے حوالے بہت سنجیدہ ہے۔اور تھیٹر کو اس کی اصل روح کے مطابق ڈھال رہا ہے۔ بدقسمتی سے تھیٹر کی شکل گذشتہ 25سے 30سالوں میں خاصی بدنما کر دی گئی ہے۔ تھیٹر کا ڈرامہ بغیر اچھے سکرپٹ کے ممکن نہیں ہے۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔ کیونکہ انورمقصود اور دوسرے بڑے لکھاری اپنا کام بھرپور طریقے سے کر چکے ہیں۔ اب نئے لکھنے والوں کو پرموٹ کرنا ہوگا۔
hassnainjamil@yahoo.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •