Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر مذاکرات سے نہیں جہاد سے آزاد ہوگا:محمد قیصر چوہان

 
امریکا اور اسرائیل کی سرپرستی اور پشت پناہی کی بدولت بھارتی حکومت نے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو سبوتاژ کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنالیاہے۔ نریندرمودی نے اپنے انتخابی منشور کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کردیا ہے۔خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ اس سے قبل اِس آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائداد نہیں خرید سکتا تھا۔ اس کے ساتھ سرکاری نوکریوں اور ریاستی اسمبلی کیلئے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق بھی صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔لیکن اب آئین کی شق 370 اور 35 اے کو منسوخی کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو آبادی، جغرافیہ اور مذہبی لحاظ سے تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی، اور اب وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسانے کا عمل تیز ہوجائے گا۔ اِس وقت مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے پانچ اگست سے وسیع پیمانے پر کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل و حرکت اور عوامی جلسوں اور جلوسوں کے انعقاد پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ تمام تعلیمی اداروں کو بند ہیں جبکہ پورے جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمرفاروق سمیت تمام حریت پسند قیادت گھروں یا جیلوں میں نظربند ہے۔ سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداﷲ بھی گھروں میں نظربند ہیں، کشمیر میں بھڑکائی ہوئی آگ تیز ہوگئی ہے۔ کشمیریوں پر بھارتی ریاستی دہشت گردی اور ظلم کی ہر حد کو پار کیا جارہا ہے اور کشمیریوں کی نشل کشی کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بھارت کشمیر میں 72 سال سے بے رحمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ خون بہا رہا ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ عملی طور پر عالمی طاقتیں اْس کے ساتھ کھڑی ہیں، اور اوآئی سی ایک مردہ ادارے کی صورت میں سامنے موجود ہے۔
ایک عالمی سازش کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنوانے کے بعد اب بین الاقوامی برادری بھارت اور پاکستان کے حکمران سب مل کر کشمیر کے مسئلے کے اصل سبب اور حقائق کو تبدیل کرنے پر کمر بستہ ہیں۔چند دن قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فون کرکے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کشمیر یوں کی زندگیاں بچائے۔ ادھر بھارتی حکومت نے اپنی اپوزیشن کو کشمیر جانے سے روک دیا۔ راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا وفد سرینگر ائر پورٹ سے واپس کر دیا گیا۔ صحافیوں کو بھی اجازت نہیں ملی پولیس انتظامیہ اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ اس ساری صورتحال کو تمام اخبارات نے بہت زیادہ اُجاگر کیا تھا۔بھارتی اپوزیشن رہنماؤں کی پرواز میں موجود کشمیریوں نے جو صورتحال بتائی وہ بھی ہولناک ہے۔ رفتہ رفتہ ساری دنیا مسئلہ کشمیر کے اصل سبب اور تنازع کے بجائے کرفیو، گرفتاریوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اپوزیشن یا صحافیوں کے دورے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اگر کرفیو اٹھا لیا جائے تو بڑی کامیابی قرار دی جائے گی۔ پاکستانی وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے سربراہ کو فون کرکے کشمیریوں کی زندگیاں بچانے کیلئے اپیل کررہے ہیں۔ قریشی صاحب کشمیری ہوں یا دنیا میں کسی بھی جگہ کے مسلمان ،اﷲ تعالیٰ نے جس چیز میں زندگی رکھی ہے اسے جہاد کہا جاتا ہے اقوام متحدہ، او آئی سی یا دیگر تنظیموں سے اپیلوں کے نتیجے میں کسی کو زندگی نہیں مل سکتی۔ افغان عوام کو زندگی ملی تو ان کے جہاد کے نتیجے میں وہ جہاد کسی حکومت نے شروع نہیں کیا تھا۔ بوسنیا میں جو زندگی مسلمانوں کو ملی اور انسانی حقوق کا مجرم سلاخوں کے پیچھے گیا تو وہ جہاد کے نتیجے میں گیا۔ فلپائن میں صرف جہاد نے مسلمانوں کا صوبہ بنوایا۔اخوان زندہ ہیں تو جہاد کے سبب فلسطینی زندہ ہیں ،جہاد کے نتیجے میں عالمی برادری اور اپیلوں کا اس میں کوئی دخل نہیں۔کشمیر میں بھی جب تک جہاد جاری رہا اور اس کی تھوڑی بہت پشتیبانی جاری رہی کشمیریوں کو زندگی ملی ہوئی تھی۔ لیکن جب جہاد مجاہدین اور تحریک مزاحمت کا راستہ پاکستان کی جانب سے بند کردیا گیا تو پھر کشمیری بھی مرنے لگے اور مجاہدین کی شہادتیں بھی بڑھ گئیں۔ اﷲ نے جہاد میں زندگی رکھی ہے اور ہمارے حکمران اپیلوں اور ٹیلی فون کال کے ذریعے زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ کشمیری او رپاکستانی قیادت کے رویوں میں زمین آسمان کا فرق ہے یہاں سے بار بار خوفزدہ کرنے والے بیانات جاری ہو رہے ہیں کہ جنگ ہونے والی ہے جنگ منڈلا رہی ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے وغیرہ وغیرہ لیکن کشمیری قیادت کے عزم و حوصلے کا یہ عالم ہے کہ پانچ اگست سے جاری کرفیو کے بعد 23 اگست بروزجمعہ کو کرفیو توڑنے کا اعلان کر دیا اور صرف اعلان نہیں کیا بلکہ کرفیو عملا بھی توڑ ڈالا۔ پورا کشمیر اینٹوں اور پتھروں سے بھرا ہوا تھا۔ حیرت ہے پاکستانی قیادت کو کشمیری نوجوانوں کی وہ تصویر نظر نہیں آئی جس میں وہ دونوں ہاتھوں میں پتھر اٹھائے ہوئے ہے۔ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کی مودی کی اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیا جا سکا۔ اب دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے نتیجے میں کشمیر میں کرفیو ختم ہونے کا امکان پید اہو گیا۔ لیکن کرفیو ختم ہو گیا تو کیا مسئلہ کشمیر حل ہو گیا مسئلہ کشمیر کا حل تو یہ ہے کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی سے استصواب کا حق دیا جائے وہ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ اگر بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہوتے تو وہ کرفیو نہ توڑتے بلکہ علی گیلانی، مودی کو فون کرتے کہ بھائی ذرا کرفیو میں نرمی کردو ہمیں کھانے پینے کا مسئلہ ہے۔ کشمیری تو زندگی کیلئے مر رہے ہیں۔ اگر مسئلہ صرف کرفیو ہوتا تو کشمیری کب کا یہ کرفیو ختم کراچکے ہوتے۔ کشمیر کا مسئلہ کرفیو ہے نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی مسئلہ صرف بھارتی قبضہ ہے جب بھارتی قبضہ ختم ہو جائے گا تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کرفیو کا مسئلہ بھی نہیں رہے گا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تو پورے بھارت میں ہور ہی ہیں پاکستان میں حکمرانوں نے ہزاروں لوگوں کو لاپتا کر رکھا ہے۔ امریکا اور برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے نام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی جگہ کسی متنازع علاقے پر بزور قوت قبضہ نہیں کیا گیا۔ چین میں بھی مسلمانوں کے انسانی حقوق سلب ہیں۔ یہ ساری خلاف ورزیاں بھی یقینا قابل مذمت ہے لیکن کسی علاقے پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد ہے۔ لہٰذا پاکستانی حکمران صرف ایک نکتے پرتوجہ مرکوز رکھیں کہ کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کرایا جائے۔ جس جانب پاکستانی حکمران اور عالمی برادری پیش قدمی کررہی ہے اس کے نتیجے میں کشمیری وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے سے قبل تھے۔ اصل مسئلہ وہیں موجود رہے گا۔ اس خیال کو تمام مسلمان حکمران اپنے دماغ سے نکال دیں کہ زندگی بھیک مانگنے سے ملے گی۔ زندگی جس راستے سے ملتی ہے کشمیریوں نے تو اسے گزشتہ72 برس سے اپنایا ہوا ہے باقی لوگ اسے ترک کرنے بلکہ گناہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہی افغان مجاہدین طالبان جنہیں امریکا سمیت پوری دنیا دہشت گرد قرار دیتی تھی آج انہیں امریکا نے دہشت گردی کے لیبل سے آزاد کر دیا ہے جب کہ اس کے عوض طالبان نے جنگ بندی کی امریکی اپیل منظور نہیں کی اتنا احسان کیا کہ حملوں میں 50 فیصد کمی کر دی جائے۔ یہ جہاد ہی تو ہے جس کی برکت سے آج طالبان امریکا کو اپنی شرائط بتا رہے ہیں کہ معاہدہ طے پاتے ہی امریکا اپنے ڈرون لے جائے گا۔ فوجی انخلاء کیلئے 14 ماہ دیئے جائیں گے اور اسلحہ منتقلی کیلئے 2 سال دیں گے۔ طالبان نے کبھی زندگی کی بھیک نہیں مانگی۔ دنیا کو مسئلہ کشمیر کی کیا پڑی اگر پاکستان کے حکمران اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انہیں چاہیے کہ زندگی کی بھیک نہ مانگیں بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کو دہشت گرد ملک بھارت سے آزاد کرائیں۔
بھارتی وزیر اعظم مودی جارحانہ موڈ میں ہیں اور کسی بھی معقول بات کو سننے پر راضی نہیں ہیں۔ وہ اپنے ہی آئین کے برخلاف مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرچکے ہیں اور اس پر ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں۔ اس پر پاکستان کا ردعمل صرف اور صرف یہ رہا ہے کہ مودی سے درخواست کریں گے کہ وہ کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کردے۔ مودی کی رعونت کا یہ عالم ہے کہ وہ پاکستانی وزیر اعظم کو نشستند ، گفتنداور برخاستند کی حیثیت بھی دینے کو تیار نہیں ہے۔ سابق مشرقی پاکستان میں مداخلت ، کشمیر سے پاکستان آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنانے سمیت ہر معاملے میں بھارت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔’’اب کی مار تو بتاؤں‘‘ ہر مرتبہ پاکستان کی طرف سے یہی جواب آتا ہے۔ اب بھی یہی کہا جارہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو پھر بھارت کی خیر نہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملہ کرنے سے باز رہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں پانچ اگست سے مسلسل کرفیوہے ، انسانی حقوق کی کونسی خلاف ورزی ہے جو وہاں پر نہیں کی جارہی۔ ہر گھر پر روز چھاپے مارے جارہے ہیں اورنوجوانوں کے ساتھ ساتھ دس بارہ سال کے بچوں تک کو گرفتار کرکے حراستی مراکز میں منتقل کیا جارہا ہے۔ چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین کی عصمت دری اب عام سی بات ہوگئی ہے۔ مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔ میری پاکستان کے ارباب اقتدار سے ایک ہی درخواست ہے کہ منافقت ختم کریں اور صاف و سیدھی زبان میں بتائیں کہ کشمیر کے بارے میں ان کی پالیسی کیا ہے۔ اگر پاکستان عملی طور پر کشمیر سے دست کش ہوچکا ہے تو بہتر ہوگا کہ اس کا اعلان کردیا جائے تاکہ کم از کم کشمیری تو یکسو ہو کر جائیں۔ وہ خواہ مخواہ پاکستان سے الحاق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •