Voice of Asia News

کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا:شوکت علی چوہدری

کشمیر میں لگنے والے لگاتار کرفیو نے کشمریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔5 اگست سے آج تک ان پر کیا کیا ستم بیت گے پاکستانیوں سمیت پوری دنیا ان سے بڑی حد تک بے خبر ہے۔ حکومت پاکستان کی اب تک کی سفارتی محاذ پرکی جانے والی کوششوں کے کوء خاطر خواہ نتاہج سامنے نہی آے ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے کا نہہی کہا ہاں ان سفارتی کوششوں کے نتیجہ میں اتنی آوازیں ضرور بلند ہونا شروع ہوء ہیں کہ بھارت کشمریوں کے انسانی حقوق بحال کرے۔کوئی بھی ملک بھارت کو یہ کہنے کو تیار نہیں کہ بھارت نے اپنے آہیں میں تبدیلی کر کے جس طرح مقبوضہ کشمیر کو باقاعدہ بھارت کا حصہ قرار دیا وہ سراسر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے بر خلاف ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس بھارتی حرکت پر دنیا کے طاقت ور ممالک بھارت کے ساتھ ہیں اور کوء بھی ملک بھارت کو ناراض کرنا نہیں چاہتا۔حتکہ عرب ممالک بھی باقاعدہ بھارت کے حق میں ہیں اور چند ایک عرب ممالک نے تو عین ان ہی دنوں میں بھارتی وزیراعظم کو تمغوں تک سے نوازا ہے۔وہ اس کام کو التوا میں بھی ڈال سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
بھارت کا یہ دعوی کہ کشمیر ہمیشہ سے بھارت کا حصہ تھا اور تقسیم ہند کے وقت کشمیر کے مہاراجہ نے کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کیاتھا۔یہ بہت طویل کہانی ہے اس کو سمجھنے کے لیے کشمیر کی پوری تاریخ جو کوئیس ہزار سالوں پر محیط ہے اس کا مطالعہ کرنا ہو گا۔تب بات سمجھ میں آئے گی کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہی تھا اور اس کی اپنی ایک جداگانہ حیثیت تھی تاریخ دان حسن جعفر زیدی کی مرتب کردہ کتاب "مسئلہ کشمیر کا آغاز”میں وہ لکھتے ہیں کہ کشمیر کے قدیم دور کی تاریخ کو بارھویں صدی عیسوی کے ایک برھمن شاعر کلہانہ نے راج ترنگی کینام سے سنسکرت زبان میں منظوم کیا ہے اس کے مطابق وادی کشمیر میں باقاعدہ حکومتی نظام 2450 قبل مسیح میں قائم ہوا جب ایک شخص گمنند نے یہاں اپنا راج قائم کیا۔‘‘اس وقت سے لے کر تقسیم ہند تک کشمیر جن جن حکمرانوں کے قبضہ میں رہا اس کی مکمل تفصیل بھی اس کتاب میں موجود ہے جو کچھ اس طرح ہے ۔اشوک38سال۔کنشک اور بقیہ کشان۔100سال۔مہر گل،ھن۔20 سال ۔بکرما جیت،ریاست مالوہ۔192 برس۔مغل 166 سال۔افغان 67 برس۔سکھ 27 سال۔کل ملا کر 609 سال،اگر ان تمام ادوار کو دیکھا جاے تو کشمیر کی ہزاروں سال کی تاریخ میں اس پر 609 سال غیر ملکیوں نے حکومت کی ہے جس سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کشمیر تاریخ کے کسی بھی دور میں بھارت کا حصہ رہا ہو۔بالکل اسی طرح جیسے بھارت پر بھی مختلف ادوار میں مختلف حکمران قبضہ کڑتے رہے لیکن ان قبضوں کا یہ مطلب تونہی نکالا جاتا کہ بھارت فلاں ملک کا حصہ تھا یا ہے۔ایسی ہی پوزیشن کشمیر کی بھی رہی۔
البتہ اب ایسا ضرور ہوا ہے کہ مودی سرکار نے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی باقاعدہ کوشش کا آغاز کیا ہے جو نہ تو تاریخی حوالوں سے ٹھیک ہے اور نہ ہی قانونی حوالوں سے۔یہ تو سیدھی جارحیت ہے جو بھارت اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر کر رہا ہے۔اب یہ بات پوری دنیا کے سوچنے کی ہے کہ کیا طاقت کے بل بوتے پر ایسا کرنا جاہز ہے ؟ اور آج کی دنیا اس طرح کی بربریت کو نہی روکتی تو کیا پھر جنگل کے قانون کی واپسی کا سفر دوبارہ شروع نہ ہو جاے گا اور۔بتدریج دنیا ایک نہ ختم ہونے والے انتشار کا سفر شروع کر دے گی۔البتہ ایسا ضرور ہوا کہ ہندوستان کے مغل حکمرانوں اور بعد میں راجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر پر اپنا تسلط قائم کیا اور آخر میں انگریز بہادر نے کشمیر پر قبضہ کر کے اسے جموں کے راجہ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔اور بعد میں جب ہندوستان سے انگریز کے جانے کا فیصلہ ہو گیا تو آل انڈیا نیشنل کانگریس کی قیادت نے بہت چالاکی اور مکاری کے ساتھ انگریز واسراے کے ساتھ ساز باز کرکے کشمیر کے راجہ کو انگریز واسراے کے توسط سے پریشراہز کروا کر اس سے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کروایا گیا۔مہاراجہ کشمیر کے اس فیصلہ کو کشمیر کی مسلم آبادی کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی اور انہوں نے روز اول ہی سے اس فیصلہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیے رکھا۔مہاراجہ کشمیر کے اس فیصلہ کے رد عمل میں ہی کشمیر پر لشکر کشی ہوئی تھی اور کشمیر کو اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر ہی اس وقت کی بھارتی حکومت جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے پاس گی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے کرواہیں گے۔پچھلے 72 سال سے کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے۔بہتر ہوتا کہ ان 72سالوں میں پاکستانی حکمران اس حل طلب مسلہ کو حل کرواتے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اب بھارتی حکمران نریدر مودی نے اپنے آہیں میں تبدیلی کرتے ہوے کشمیر کو باقاعدہ بھارت کا حصہ قرار دے دیا ہے۔کشمیر کی آزادی کے لیے اب تک 90 ہزار کشمیری اپنی جان کی قربانی دے چکے ہیں اور اپنی آزادی کے لیے ابھی اور کتنی قربانیاں دینا ہوں گیں اسکا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔بھارت سرکار کی اس کارواء کی بھر پور مزمت پورے بھارت سمیت پوری دنیا کہ حق پرست عوام کر رہے ہیں جو کہ بہت خوش آئند ہے۔لیکن عوام کے اس بھر پور احتجاج کے باوجود بھارتی حکومت کشمیر سے کرفیو اتھانے پر رضا مند نظر نہی آتی۔بھارتی حکومت کے اس ہٹلری رویہ نے جہاں ایک طرف کشمیریوں کے جان و مال عزت و آبرو کو خطرات سے دو چاروکیا ہوا وہیں اس نے اس پورے خطہ سمیت دنیا کے امن کو داو پر لگایا ہوا ہے۔اس سے پہلے کہ دیر ہو جاے اور کوء بہت بڑا انسانی المیہ نہ رونما ہو جائے دنیا کے مہذب ممالک اس مسئلہ کے حل کا کوئی راستہ نکالیں۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •