Voice of Asia News

مذاکرات نہیں بلکہ فوجی پیش قدمی کی جائے:محمد قیصر چوہان

 
چند دن پہلے پاکستان کے وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی نے کہا تھا کہ اب بھارت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ابھی وزیر اعظم کے اس دعوے کی روشنائی خشک نہیں ہوئی تھی کہ حکومت نے یوٹرن لیتے ہوئے بھارت کومذاکرات کی مشروط پیشکش کر دی۔ اس پیشکش میں جو شرائط ہیں وہ ایسی ہیں کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ بھارت یہ تمام شرائط نہیں مانے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ شرائط پیش کی ہیں ظاہری بات ہے وزیر اعظم کی مرضی سے پیش کی ہوں گی ان کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ وزیر اعظم تو ’’بھارت سے بات نہیں ہو گی‘‘ کااعلان کر چکے ہیں لیکن پھر ایسی کیا مجبوری آن پڑی ہے کہ حکومت کو پھر یو ٹرن لینا پڑ گیا۔اب اس کے دو تین امکانات ہیں ایک یہ کہ بھارت تمام شرائط مان لے۔ تو کیا ہو گا۔ کشمیری قیادت رہا ہو جائے گی ،کرفیو ختم ہو جائے گا۔ اور شاہ محمود قریشی کو بھی کشمیری قیادت سے ملنے دیا جائے گا۔ پھر کیا فرق پڑے گا اب مذاکرات کس بات پر کریں گے شرائط اور پیشکش میں اس کا ذکر نہیں۔ جبکہ اصل بات یہی ہے کہ مذاکرات کشمیر کی آزادی پر ہونے چاہییں۔ شاہ محمود کی شرائط ماننے کے نتیجے میں کشمیری 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن پر پہنچ جائیں گے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ بھارت کشمیری قیادت کو رہا کر دے اور کرفیو ختم کر دے لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو حریت قیادت سے نہیں ملنے دے گا۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ صرف کرفیو ختم کر دیا جائے وہ بھی رفتہ رفتہ دو ہفتوں میں اور حریت قیادت قید میں رہے۔ تو کیا وزیر خارجہ مذاکرات کریں گے۔خود وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے مذاکرات کا ماحول نہیں ہے۔ ان کا کہنا بالکل بجا ہے۔بھارت اس وقت طاقت کے گھمنڈ میں ہے اور عالمی برادری اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ایسے میں اس نے کشمیر میں آرٹیکل 370 اور35 اے ختم کر کے ریاست کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور پاکستان نے اب تک کچھ نہیں کیا۔ جو کام بھٹو نے کیا ، ایوب خان کرگئے ، جنرل پرویزمشرف کرتے رہے۔ بے نظیر اور نواز شریف نے بار بار کیا وہی اب عمران خان بھی کر رہے ہیں۔ اس کا نام کبھی خیر سگالی ، کبھی اعتماد سازی کے اقدامات ، کبھی امن کی آشا ، اور کبھی انہیں ذمے دار ریاست کی خصوصیت والے اقدامات کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ، بھارت نے کشمیر پر قبضہ مستحکم کیا ہم نے کرتار پور راہداری کھولنے کی جلدی مچا دی ، بلکہ اب تو تاریخ بھی دے ڈالی۔ بھارت نے کرفیو ، گرفتاریاں ، اغوا ، خواتین کی بے حرمتی کی حدود پامال کر دیں۔ ہمارے وزیر خارجہ خیر سگالی اور اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر مندر چلے گئے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی اس کو سفارتکاری یا سفارتی دباؤ نہیں سمجھے گا اور نہ ہی بھارت پر اس کا کوئی اثر ہو گا۔ اس لیے قرآن نے واضح طور پر منع کیا ہے کہ کفار کی باتوں میں نہ آؤ۔ یہ کفار تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ تم ان کے دین کی پیروی کرنے لگو۔شاہ محمود قریشی سے قبل بلاول ، مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی مندر جا چکی ہے۔ ارے آپ ہندو دھرم بھی اختیار کر لیں تو بھارت اسے تسلیم نہیں کرے گا بلکہ ہمارے رہنما خود رسوائی کے سوا کچھ نہیں پائیں گے۔ بھارت خیر سگالی کی زبان نہیں سمجھتا۔ اسے اس کی زبان میں جواب دینے کی ضرورت ہے۔ حکمران مندروں کے دورے کریں ، ہولی کھیلیں یا ہندوؤں کے تمام تہوار منائیں۔ بھارتی جنونی حکمران اور ہندو جنونی کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہیں گے۔ ان کو روکنے کا طریقہ مذاکرات نہیں۔بھارت نے مذاکرات کے نام پر 72 سال گزار دیے۔ ایک بار پھر وہ اسی طرح کے ڈرامے کرے گا جو پہلے کرتا آیا ہے لہٰذا وزیر خارجہ عمران خان کے بیان کی لاج رکھیں بھارت کو مذاکرات کی مشروط یا غیر مشروط پیشکش کرنے کے بجائے ہر شعبے میں پیش قدمی کریں۔ پوری حکومت اور طاقت کے مراکز صرف ایک نکتے پر توجہ مرکوز کریں کہ بھارت کا کشمیر پر قبضہ اس کی فوج کی وہاں موجودگی سب غلط ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی سیاستدانوں کے وفود بھیجے جائیں ، نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ محض سیر سپاٹے والوں کو نہ بھیجا جائے۔ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم کے ٹیلی فون کام نہیں آئیں گے۔ کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے تو دنیا کو واضح پیغام دیں۔ سب سے پہلے وزیر اعظم اپنی فوج کو کشمیر کی طرف پیش قدمی کا حکم دیں۔ جب تک فوجی پیش قدمی نہیں ہو گی دنیا بھی ہماری بات نہیں سنے گی۔ بھارت کشمیر اور دیگر ریاستوں میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے اس کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ کیرالہ میں اس کا اظہار ہوا ہے۔ پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا۔ یہ محض چند طلبہ کی حرکت نہیں ہے بلکہ بھارتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔اس سے قبل ناگا لینڈ بھی آزادی کا اعلان کر چکا ہے۔ کشمیر کا معاملہ تو صرف پاکستانی حکومت کے جراتمندانہ اقدامات کا منتظر ہے۔ جس روز ہمارے حکمران جرات کامظاہرہ کریں گے کشمیریوں کو بھی ناگا لینڈ کی طرح آزادی کا اعلان کرنے کا موقع ملے گا۔ پھر اقوام متحدہ ،یورپ امریکا سب دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ مندروں میں جانے اور مشروط پیشکشیں کرنے کے بجائے حکومت شملہ معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرے ، بھارت کے لیے فضائی اور زمینی راہداری بند کرنے کا اعلان کرے اور ہر قسم کی تجارت مکمل بند کر دے۔ پھر کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے آدھا گھنٹہ یا پورا دن کھڑے ہوں تو ان کو بھی قوت ملے گی۔یہ کام پاکستانی صدر مملکت ، وزیراعظم اور فوجی قیادت کو کنٹرول لائن جا کر کرنا چاہیے۔ اس سے اچھا پیغام جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل کی سرپرستی اور پشت پناہی کی بدولت بھارتی حکومت نے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو سبوتاژ کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنالیاہے۔ کشمیریوں پر بھارتی ریاستی دہشت گردی اور ظلم کی ہر حد کو پار کیا جارہا ہے اور کشمیریوں کی نشل کشی کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بھارت کشمیر میں 72 سال سے بے رحمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ خون بہا رہا ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ عملی طور پر عالمی طاقتیں اْس کے ساتھ کھڑی ہیں، اور اوآئی سی ایک مردہ ادارے کی صورت میں سامنے موجود ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے سربراہ کو فون کرکے کشمیریوں کی زندگیاں بچانے کیلئے اپیل کررہے ہیں۔ قریشی صاحب کشمیری ہوں یا دنیا میں کسی بھی جگہ کے مسلمان ،اﷲ تعالیٰ نے جس چیز میں زندگی رکھی ہے اسے جہاد کہا جاتا ہے اقوام متحدہ، او آئی سی یا دیگر تنظیموں سے اپیلوں کے نتیجے میں کسی کو زندگی نہیں مل سکتی۔ افغان عوام کو زندگی ملی تو ان کے جہاد کے نتیجے میں وہ جہاد کسی حکومت نے شروع نہیں کیا تھا۔ بوسنیا میں جو زندگی مسلمانوں کو ملی اور انسانی حقوق کا مجرم سلاخوں کے پیچھے گیا تو وہ جہاد کے نتیجے میں گیا۔ فلپائن میں صرف جہاد نے مسلمانوں کا صوبہ بنوایا۔اخوان زندہ ہیں تو جہاد کے سبب فلسطینی زندہ ہیں ،جہاد کے نتیجے میں عالمی برادری اور اپیلوں کا اس میں کوئی دخل نہیں۔کشمیر میں بھی جب تک جہاد جاری رہا اور اس کی تھوڑی بہت پشتیبانی جاری رہی کشمیریوں کو زندگی ملی ہوئی تھی۔ لیکن جب جہاد مجاہدین اور تحریک مزاحمت کا راستہ پاکستان کی جانب سے بند کردیا گیا تو پھر کشمیری بھی مرنے لگے اور مجاہدین کی شہادتیں بھی بڑھ گئیں۔ اﷲ نے جہاد میں زندگی رکھی ہے اور ہمارے حکمران اپیلوں اور ٹیلی فون کال کے ذریعے زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ اس خیال کو تمام مسلمان حکمران اپنے دماغ سے نکال دیں کہ زندگی بھیک مانگنے سے ملے گی۔ زندگی جس راستے سے ملتی ہے کشمیریوں نے تو اسے گزشتہ72 برس سے اپنایا ہوا ہے باقی لوگ اسے ترک کرنے بلکہ گناہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہی افغان مجاہدین طالبان جنہیں امریکا سمیت پوری دنیا دہشت گرد قرار دیتی تھی آج انہیں امریکا نے دہشت گردی کے لیبل سے آزاد کر دیا ہے جب کہ اس کے عوض طالبان نے جنگ بندی کی امریکی اپیل منظور نہیں کی اتنا احسان کیا کہ حملوں میں 50 فیصد کمی کر دی جائے۔ یہ جہاد ہی تو ہے جس کی برکت سے آج طالبان امریکا کو اپنی شرائط بتا رہے ہیں کہ معاہدہ طے پاتے ہی امریکا اپنے ڈرون لے جائے گا۔ فوجی انخلاء کیلئے 14 ماہ دیئے جائیں گے اور اسلحہ منتقلی کیلئے 2 سال دیں گے۔ طالبان نے کبھی زندگی کی بھیک نہیں مانگی۔ دنیا کو مسئلہ کشمیر کی کیا پڑی اگر پاکستان کے حکمران اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انہیں چاہیے کہ زندگی کی بھیک نہ مانگیں بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کو دہشت گرد ملک بھارت سے آزاد کرائیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •