پاک فضائیہ کے کارنامے تاریخ کاروشن باب محمد شاہ دوتانی(کوئٹہ)

کسی بھی ملک کی ائیر فورس اپنے جیٹ طیاروں, بہترین حکمت عملی اور مشن کے ساتھ اپنے ملک کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔یہ ملک کی فضائی حدود کا کنٹرول سنبھالنے اور ان کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ دوسری فورسز کو بھی مدد فراہم کرتی ہے۔پا کستان کی ائیر فورس کو دنیا کی چھٹی بڑی ائیرفورس ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور یہ پاکستان کی مسلح افواج کا ایک حصہ ہے۔ بنیادی طور پر یہ ائیر فورس 1947 میں بھارت اور برطانیہ سے آزادی کے بعد قائم کر دی گئی اور اس وقت اس کا نام ‘‘ رائل پاکستان ائیر فورس‘‘ رکھا گیا۔ آزادی کے وقت پاکستان سے جن آلات اور جنگی طیاروں کا وعدہ کیا گیا تھا جب وہ 1956 تک پورے نہیں کیے تھے تو پاکستان نے اپنی ائیر فورس کا نام تبدیل کر دیا۔اس وقت پاکستان ائیرفورس کے پاس 1530 ہوائی جہاز ہیں۔ ان میں میراج، ایف۔7، ایف۔16 اور کئی دوسرے شامل ہیں۔ پاک فضائیہ کے پاس 2015 میں اس کے اپنے بنائے گئے 200 جے ایف۔17 تھنڈر ہیں۔ پاک فضائیہ کے پائلٹوں کا شمار دنیا کے بہترین پائلٹس میں ہوتا ہے۔
پاک فضائیہ نے اﷲ کے فضل و کرم سے ستمبر 1965 کی جنگ میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو زچ کرکے یہ ثابت کر دیا کہ مشینوں سے زیادہ اہم ان کو استعمال کرنے والے انسان ہوتے ہیں۔ دفاع وطن میں پاک فضائیہ کا کردار قوم کے لیے رہتی دنیا تک قابل فخر ہے۔ پاکستان قوم نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ کوئی ترنوالا نہیں ہے جسے آسانی سے ہضم کیاجا سکے۔
ایئر مارشل نور خان کی کمان میں فضائیہ کے پاس مختلف نوعیت کے کل 149 جنگلی طیارے جبکہ بھارتی ایئرفورس مارشل ارجن سنگھ کی سربراہی میں ملے جلے 504 جنگی طیاروں پرمشتمل تھی۔ عددی برتری کے نشے میں چور بھارتی فضائیہ کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جب آڑے ہاتھوں لیا تواس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ یکم ستمبر 1965 کو چھمب کے محاذ پر پاک فضائیہ کاپہلا دو بدو مقابلہ بھارتی وائیو سینا سے ہوا۔پاکستان کے دو شاہینوں سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی اور فلائیٹ لیفٹیننٹ احمد بھٹی نے جنگ کے پہلے دن ہی اپنے F-86 سیبر طیاروں میں پرواز کرتے ہوئے 4بھارتی ویمپائر طیاروں کو زمین بوس کردیا۔ اس جھڑپ کے بعد ویمپائر طیارے دوبارہ پاکستان کے حدود کی طرف آنے کی جرأت نہ کر سکے بلکہ ان کو صرف تربیتی مقاصد کے لیے مختص کر کے محاذ جنگ سے ہٹا دیا گیا۔ اپنی پہلی ہی جھڑپ میں پاک فضائیہ نے دشمن پر دھاک بیٹھا دی اور یہ پیغام بھجوایا کہ شاہینوں سے الجھنے کے لیے ذرا سنبھل کر آنا۔
ستمبر 1965 کے دن پاک فضائیہ کی اہم مہمات:
پاک فضائیہ نے بھارتی بری فوج پرایک کاری ضرب لگائی شاہینوں کے دستے نے سکواڈرن لیڈر سید سجاد حیدر کی زیر کمان امرتسر واہگہ روڈ کے ساتھ لاہور کی جانب بڑھتی ہوئی بھارتی بکتر بند فوج کو 20 منٹ میں پے درپے حملے کرکے شدید نقصان پہنچایا۔
ظہر کے وقت اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں آٹھ شاہین بھارتی ہوائی مستقر پٹھان کوٹ پر حملہ آور ہوئے اور دشمن کو اس کے گھونسلے میں ہی اتھ پتھل کردیااس جاندار فضائی حملے میں پاک شاہینوں نے دشمن کے بارہ جنگی طیارے مکمل طور پر تباہ کردیئے اس کے علاوہ دو C-119 طیاروں( فضائی نقل و حمل کیلئے استعمال ہونے والے) اور فضائی ٹریفک کنٹرول سسٹم کوخاصا نقصان پہنچایا۔شام 5بجے کے قریب پاک فضائیہ کے تین شاہین اسکوڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی (مشن کے قائد) فلائیٹ لیفٹیننٹ سیسل چوہدری اور فلائیٹ لیفٹیننٹ یونس حسین اپنے مشن پر دشمن کے علاقے میں گئے دشمن نے ان تین شاہینوں کے مقابلے کے لیے درجن بھرہنٹر طیارے بھیجے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پانچ ہنٹروں کوزمین بوس کیا اسی مشن میں سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی اور فلائیٹ لیفٹیننٹ یونس حسین نے جام شہادت نوش کیا۔
7ستمبر 1965 کے دن پاک فضائیہ کی اہم مہمات
یہ دن فضائی جنگ کا سخت ترین دن تھا بھارت نے فضائی برتری حاصل کرنے کیلئے اپنی پوری قوت میدان میں جھونک دی جب کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے طیاروں کا بے دریغ صفایا کیا۔
صبح 5 بج کر 38منٹ پرسرگودھا بیس پرحملہ کرنے کیلئے بھارتی وائیوسینا کے 6 مسٹیئر طیارے آئے پاک فضائیہ کے ہوا باز فلائیٹ لیفٹیننٹ امجد حسین خان نے اکیلے ہی اپنے F-104 سٹار فائٹر پہلے سے دفاع وطن کے لیے فضاؤں میں محو پرواز تھے۔ عظیم ہوا باز سکواڈرن لیڈر (بعدمیں ایئر کموڈور ریٹائرڈ) ایم ایم عالم (محمد محمود عالم) نمبر 11 سبیبر سکواڈرن کے افسر کمان (فروری 1964 تا اپریل 1966) ان ہی چار F-86 سبیبر طیاروں میں سے ایک میں دفاع وطن کے لیے مامور تھے۔ جونہی یہ طیارے سرگودھا بیس پر نیچی پرواز کرتے ہوئے حملہ کے لیے تیار ہوئے تو آپ ان کے درپے ہو گئے اور ان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ آپ نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے 30 سیکنڈ کے اندر اندر چار ہنٹر طیاروں کو تباہ کر دیا اوراسی دوران دشمن کا پانچواں ہنٹر طیارہ بھی مار گرایا جوکہ ایک ریکارڈ ہے۔ یاد رہے کہ دشمن کے طیارے ہاک ہنٹر (برطانوی ساختہ) پاک فضائیہ کے F-86 سبیبر (امریکی ساختہ) کی نسبت زیادہ جدید تھے اس کے باوجود پاک فضائیہ کے جانباز نے ان کواپنی اعلیٰ تکنیکی مہارت سے ڈھیر کردیا۔
اسکواڈرن لیڈرایم ایم عالم نے سبیبر کی فلائنگ 1400 گھنٹوں سے زیادہ کی ہوئی تھی اس کے علاوہ رائل ایئرفورس برطانیہ کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتے ہاک ہنٹر کو بھی اڑانے کاتجربہ رکھتے تھے لہٰذا وہ دشمن کے طیارے کی استعداد سے بھی بخوبی واقف تھے بعد میں ایک غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے اپنی تاریخ ساز مہم کو جن الفاظ میں بیان کیا ان کا مفہوم یہ ہے۔
’’ہم جونہی دریائے چناب سے پار ہوئے تو میں نے ساتھی پائلٹ کے ہمراہ دشمن کے پانچ ہنٹر طیاروں کو مکمل جنگی فارمیشن میں دیکھادشمن کے طیاروں کوجب میری آمد کا احساس ہوا تو اس وقت وہ میری گن کی رینج میں آچکے تھے لہٰذا سب طیارے جلدی میں ایک ہی سمت بائیں جانب کو مڑ گئے اس طرح ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے وہ اکٹھے رہے یہ فیصلہ دشمن کی ایک فاش غلطی تھی کیونکہ ایسی صورتحال میں دو مخالف سمتوں میں طیاروں کو بکھر جاناچاہیے تھا لیکن بھارتی طیارے ایک ہی سمت میں جاتے ہوئے میرے سامنے رہے یہ سب کچھ انتہائی کم وقت میں ہوا لہٰذا میں نے یکے بعد دیگر چارطیاروں کوتباہ کردیا۔ اس کے بعد اسی سارٹی میں دشمن کے پانچویں طیارے کو بھی مارگرایا۔‘‘
مغربی بنگال میں کلکتہ کے نزدیک کلائی کنڈا کابڑا جنگی ہوائی اڈہ تھاجو کہ مشرقی پاکستان میں تعینات پاک فضائیہ کیلئے زبردست خطرہ تھا۔ 7ستمبر کو سکواڈرن لیڈر سید شبیر حسین اور فلائیٹ لیفٹیننٹ عبدالحلیم کی زیر قیادت کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے ہوابازوں نے زمین پر کھڑے بھارتی وائیو سینا کے 14 کینبرا طیارے اورایک C-199 طیارہ تباہ کیا، اس معرکہ میں دشمن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے پاکستان ہوا باز فلائیٹ لیفٹیننٹ طارق حبیب شہید ہوئے فلائنگ افسر محمد افضل بھی اس مہم میں شہید ہوئے۔
7 ستمبر کے بعد پاک فضائیہ کی برتری قائم ہو چکی تھی دشمن میں مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہی تھی۔ 9 ستمبر کے بعد بھارتی وائیو سینا نے دن کی روشنی میں پاک فضائیہ کے ہوائی اڈوں کی جانب منظم حملوں کاسلسلہ ترک کردیا تھاجبکہ اس کے بعد پاک فضائیہ کے شاہین جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے علاقے میں دور تک حملہ آور ہوئے۔13 ستمبر 1965کو سکواڈرن لیڈر علاؤالدین احمدتین اور شاہینوں کے ساتھ F-86 سبیبر طیاروں میں گورد اسپور کا فضائیہ معائنہ کرنے کے لیے دشمن کے علاقے میں گئے اسی اثناء میں ان کو وگورو اسپور ریلوے اسٹیشن پراسلحہ سے لدی ہوئی ٹرین نظر آئی آپ نے ساتھیوں سے مل کر اس ٹرین پرحملہ کردیا اور تیسرے حملے میں ٹرین کو مکمل تباہ کرنے کے بعد اسی تباہ شدہ ٹرین سے راکٹ لگنے سے آپ دشمن کے علاقے میں ہی طیارے کے ساتھ گر کر شہید ہو گئے۔ جنگ ستمبر میں بھارتی ایئر فورس نے ایک اورپانچ کے عددی تناسب کے ساتھ پاکستان پرحملہ کیا تاہم بھارت کے پاس جدید طیارے ہونے کے باوجود پاک فضائیہ نے بہتر جنگی منصوبہ بندی اور قوم و وطن کی محبت سے سرشار سرگرم زمینی اور فضائی عملے کی مہارت کی وجہ سے بھارتی ایئر فورس کی ایک نہ چلنے دی۔
muhammadshahdotani@gmail.com