Voice of Asia News

چھ ستمبر1965 جرأت و ہمت کے ناقابل تسخیر جذبوں کا دن : محمد قیصر چوہان

چھ ستمبر1965
جرأت و ہمت کے ناقابل تسخیر جذبوں کا دن : محمد قیصر چوہان
پاک فوج نے جدید سامان ضرب و حرب سے لیس دشمن کے گھمنڈ کو خاک میں ملا دیا
قوموں کی زندگی میں کچھ دن امر بن کر ابھرتے ہیں اور وہی ان کی پہچان بن جاتے ہیں اور پھر زمانے کے سرد و گرم میں گرتے ہوئے حوصلوں کو سنبھالا دیتے ہیں۔ 6 ستمبر کا دن پاکستانی عوام کے لیے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ یہ دن ہماری پوری قوم کے ذہنوں میں نہ مٹنے والے نقوش چھوڑ گیا ہے ایسے نقوش جو ہمیں حب الوطنی اور یگانگت کی یاد دلاتے رہیں گے جس کا مظاہرہ ہم نے آج سے 54برس قبل اپنے سے کہیں بڑے جارح دشمن کے خلاف کیا اور اسے شکست فاش سے دو چار کیاتھا۔ 6 ستمبر کا دن ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دن عوام اور فوج کی باہمی یگانگت اور اتحاد کی غمازی کرتا ہے جب دونوں نے یکجا ہو کر اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کا مظاہرہ کرتے ہوئے عددی طور پر برتر دشمن کے گھناؤ نے عزائم کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا ایک عظیم اور یادگار دن ہے۔ اس دن ہم ان بہادر خواتین و حضرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں شہادت پائی۔
پاکستانی قوم بالخصوص لاہور اور سیالکوٹ کے باسی آج بھی اس رات کو نہیں بھولے جب جنوب مشرق کی طرف سے دشمن نے رات کے اندھیرے میں سرحد عبور کر کے پاکستان پر دھاوا بول دیا اور سپیدہ سحر نمودار ہونے تک پاکستان کی سرزمین پر کافی اندر تک گھس آئے۔ ہمارے بہادر جوانوں نے دشمن کی یلغار کو روکتے ہوئے حب الوطنی کی ایسی لازوال داستانیں رقم کیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ 6 ستمبر1965 کا واقعہ دلیری، بھائی چارے، قومی ہم آہنگی اور وطن سے محبت کی ایسی لازوال داستان ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ 6 ستمبر کی رات لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر عددی برتری کے نشے میں دھت بھارت کی 21 انفنٹری ڈویژن ، ایک آرمڈ ڈویژن اور ایک آرمڈ بریگیڈ پر مشتمل نے جب حملہ کیا تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ پاکستان کی صرف ایک انفنٹری ڈویژن پر مشتمل مختصر سپاہ اس بے باکی اور جوانمردی سے دشمن کے حملے کا جواب دے گی۔
جنگ ستمبر کے سترہ دنوں میں دنیانے جرأت، جوانمردی، ہمت اور حوصلے کے ایسے ایسے کارنامے دیکھے جن کی جنگی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ صرف لاہور کے محاذ پر دشمن نے 13 تا بڑ توڑ حملے کئے اورہر حملے میں اسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیالکوٹ کے محاذ پر پاکستان کی بہادر اور جری افواج نے دشمن کے 15 حملے پسپا کئے۔ چونڈہ کے محاذ پر لڑی جانے والی ٹینکوں کی جنگ عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ ثابت ہوئی جس میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔ قصور کے محاذ پر پاکستانی افواج نے نہ صرف دشمن کے تابڑ توڑ حملوں کو پسپا کیا بلکہ کئی میل تک بھارت کے اندر گھس گئیں اور کھیم کرن پر قبضہ کر لیا۔ اکھنور کے محاذ پر پاکستان نے بھارت کے تین سو پچاس مربع میل کے علاقے پر قبضہ کر کے اس سیکٹرمیں بھارتی حملے کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔
6 ستمبر کو ایسا لگا کہ غیرت، محبت اوردفاع کاجذبہ جھرجھری لے کر بیدار ہو گیا ہو۔ پوری قوم چاہے وہ سیاستدان ہوں یا آرٹسٹ، مفکر، تاجر اور سپاہی، دشمن کے خلا ف یک جان ہو گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب تمام تلخیاں وطن کی محبت میں بھلائی جاچکی تھیں کراچی سے خیبر تک کسی کی نہ کوئی ذات تھی نہ شناخت اگر کچھ تھا پاکستانیت کا جذبہ۔ کوئی سندھی تھا، نہ کوئی بلوچی، پنجابی تھا نہ پٹھان۔ سب پاکستانی تھے۔ یہ تھا وہ جذبہ جس کے سامنے دشمن کی ساری تیاریاں، سارے حملے ماند پڑ گئے جو جیتا وہ تھا جذبہ حریت یا اپنے وطن سے محبت کا جذبہ، پیار، یگانگت اور بھائی چارے کا جذبہ…… یوں فتح پاکستان کا مقدر بنی۔
زندہ قوموں کی پہچان ہے کہ ہمیشہ اپنے محاسبے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر حال کا جائزہ لیتی ہیں اور اپنے مستقبل کو روشن کرنے میں کوشاں رہتی ہیں۔
حربی میدان میں آزادی سے اب تک پاکستان دنیاکے نقشے پر ایک مضبوط قوم بن کر ابھرا ہے۔ آج پاکستان ایک ایٹمی طاقت بن چکاہے اور ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ الحمداﷲ پاکستان کی مسلح افواج نے ماضی میں بھی دشمن کی ہر چال کو ناکام کیا ہے اور ابھی ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ افواج پاکستان آج اقوام عالمی میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور عوام دوستی کے حوالے سے عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ ہو، اندورنی محاذ پر آفت زدہ علاقوں میں عوام کی خدمت ہو یا ملکی ترقی کے مختلف منصوبے پاکستانی مسلح افواج نے ہمیشہ پہلی آواز پر لبیک کہا ہے۔ ساٹھ کی دھائی سے اب تک اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں پاکستان افواج کا کردار ہمیشہ قابل تحسین رہا ہے جس سے ملکی وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔اب تک پاکستانی آرمی کے پچاس ہزار سے زائد آفیسرزاور جوان اقوام متحدہ کے پرچم تلے دنیا کے مختلف محاذوں پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔
آزادی کے 71 برس میں وطن عزیز بڑی کڑی آزمائشوں سے گزرا ہے۔ دنیا آج دہشت گردی جیسے عفریت کی لپیٹ میں ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ہزاروں لاکھوں انسان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ پاکستان جو خود بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف امریکا کا سب سے بڑا حلیف ہے۔ پچھلے چند برسوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو کچھ کیا ہے وہ نا صرف قابل تحسین ہے بلکہ بے مثال بھی ہے۔ اسلام ایک اعتدال پسند دین ہے اس میں انتہا پسندی اور خود کش حملوں کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ چند انتہا پسند عناصر کی وجہ سے دنیا میں مسلمانوں کے وقار کو کافی دھچکا لگاہے۔ آج مسلم امہ کو سب سے بڑا مسئلہ جو در پیش ہے وہ ہے کہ اپنے وقار کا کہ کس طرح انتہا پسندی کے اس الزام سے اپنے آپ کو بری الذمہ کرایا جائے۔ آج جہاں اس امرکی اشد ضرورت ہے کہ چند مسلمان جو کہ شدت پسندی کو اپنا شیوہ بنائے ہوئے ہیں وہ روشن خیالی کا راستہ اپنائیں وہاں اس امر کی بھی بہت شدید ضرورت ہے کہ عالمی طاقتیں خاص طور پر مغربی دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمان اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ان کو ان کاحق دلانے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ وہ لوگ شدت پسند کی راہ کو ترک کر دیں۔
آج دنیا میں معاشی ترقی کا دور دورہ ہے، عمومی طور پرتمام دنیا اورخاص طور پر عالمی طاقتوں کو یہ احساس کرنا ہو گا کہ طاقت کا استعمال امن کی گواہی نہیں ہے۔ انصاف نہ صرف کرنا ہو گا بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ ان تمام مسئلوں کا حل صرف اور صرف انصاف میں ہے۔
یوم دفاع کے موقع پر ہم سب کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ ان مشکل حالات سے نبرد آزما ہونے کیلئے ہم سب کو اس جذبہ حب الوطنی ، اتحاد اور یگانگت کی اشد ضرورت ہے جس کا مظاہرہ پوری قوم نے آج سے54 سال قبل کیا تھا۔ ایسے ہی مشکل حالات میں قومیت کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور مجھے قومی امید ہے کہ ہم انشاء اﷲ کامیاب ہوں گے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •