Voice of Asia News

جتنا کشمیری برداشت کر رہے ہیں، بھارت کو اس سے دگنا برداشت کرنا پڑے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر

 
راولپنڈی ( وائس آف ایشیا)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کشمیری کے عوام کو پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیر ہمیں جان سے عزیز ہے، آخری گولی،آخری سپاہی اورآخری سانس تک کشمیریوں کیلئے لڑیں گے، بھارت میں فاشسٹ مودی کی حکومت ہے ، وہاں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں ،خطہ امن کی جانب بڑھ رہا ہے مگر بھارت اس وقت نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے،بھارت کچھ بھی کر نے سے پہلے 27فروری کو یادرکھے ،ہماری نوفرسٹ یوز کی کوئی پالیسی نہیں، ہماری پالیسی ڈیٹرنس (دفاع) کی ہے، اس کے لیے جو بھی اس کا استعمال ہے ریاستی پالیسی کے مطابق ہوگا،موجودہ حالات میں قوم کو ایک ہونے کی ضرورت ہے اور ایک ہے،ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے جس پر عام مقامات یا پریس کانفرنس پر بات نہیں کی جاسکتی،پاکستان ہائبرڈ جنگ سے نبرد آزما ہے ، اسرائیل کو تسلیم کر نے سے متعلق بات پروپیگنڈا ہے، آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے،عوام چھ دسمبر کو شہیدوں کے گھر جائے ،شہداء کے لواحقین کو محسوس ہوناچاہیے قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے ،قوم انسداد پولیو کو ملکر کامیاب بنائے ۔ بدھ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں بہادر کشمیریوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آزادی کی اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری سانسیں آپ کے ساتھ چلتی ہیں، 72 سال آپ نے بھارتی دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، آپ کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی جیسے ناپسندیدہ عمل سے تابیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ آپ کی ثابت قدمی کو سلام ہے، ہمیں آپ کی موجودہ مشکلات کا بھرپور احساس ہے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور انشااﷲ کھڑے رہیں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمیں رب سے امید ہے کہ آپ اپنا جائز حق خود ارادیت حاصل کرکے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ثابت قدم رہیں، آزادی کی جدوجہد بہت لمبی ہوتی ہے، پاکستان کی آزادی کی جدوجہد 1947 میں شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا آغاز 1857 سے ہوگیا تھا، اتنی لمبی جدوجہد کرکے ہم نے پاکستان حاصل کیا اور کشمیر کے لیے بھی اس جدوجہد پر نہ کوئی سمجھوتہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی کمی آئے گی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کسی بھی ملک کی افواج اس کی خودمختاری اور سلامتی کی محافظ ہوتی ہیں، اگر قومی طاقت کے دوسرے عناصر مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو روکنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوتے تو جنگ لڑنا مجبوری میں ایک آپشن بن جاتا ہے اور پھر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، اس کے لیے ہم کوئی بھی قدم اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے خواہ اس کی ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے، پاکستانی عوام، حکومت اور افواج پاکستان آخری گولی، آخری سپاہی، آخری سانس تک پرعزم ہیں اور رہیں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے مشرق میں ایک ایسا ملک ہے جس کے خطے کے بڑے پلیئرز کے ساتھ معاشی مفادات جڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے شمال میں دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین ہے، جس کے بھارت کے ساتھ کچھ اختلافات موجود ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارے مغرب میں افغانستان ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کا مرکز رہا ہے جبکہ جنوب مغرب میں ایران موجود ہے جس سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کے ماحول کی وجہ سے اس ملک کو مسائل درپیش ہیں۔بھارت کی بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ اس وقت بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں وہاں فاشسٹ مودی کی حکومت ہے۔انہوں نے کہاکہ خطہ امن کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن بھارت اس وقت نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وہاں کی صورتحال خراب ہے، کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز کر دی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور بھارت کے اپوزیشن رہنما کو مقبوضہ کشمیر بھی جانے سے روک دیا گیا، بھارت چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی ایسی بدلی جائے کہ مسلمانوں کا وہاں رہنا مشکل ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ جنگ لڑنا جنگ کا حصہ ہے، تاہم اس سے قبل ملک کے دیگر عوامل جس میں سفارتکاری، معیشت قانون، انٹیلی جنس اور معلومات کا رد عمل چلتا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی لیکن پاکستان کی مخلصانہ مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں بھارت نے جہاز بھیجے، بھارت کے بھیجے گئے جہاز کا کیا حال ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی ہو سکتی ہے لیکن بھارت کو 27 فروری کی حرکت یاد رکھنی چاہیے، بھارت نے کوئی حرکت دہرائی تو اسکوارڈن لیڈر حسن اور نعمان موجود ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت نے کیا ہے وہ ایک نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے، جنگیں صرف ہتھیاروں اور معیشت سے نہیں لڑی جاتیں۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے اور ہم پاکستان نے ہمیشہ چاہا کہ مسئلہ کشمیر پْر امن طریقے سے حل ہو۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کشمیر کا معاملہ 50 سال بعد سلامتی کونسل میں لے کر گیا جو بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم عمران کان نے تقریباً 13 ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے اور نہیں کشمیر کے بارے میں آگاہ کیا۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ جو مسئلہ پہلے دبا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آرہا ہے اور دنیا اس معاملے کو اپنے سامنے رکھ رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بھارت ثالثی کی پیشکش کو قبول نہیں کرتا تو پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں کس چیز پر بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت حکومت کی خواہش ہے کہ وہ کچھ اس طرح دباؤ بڑھائے کہ وہاں لوگ مشتعل ہوں جسے وہ دہشتگردی کا نام دے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان اب دھوکے میں نہیں آئیگا کیونکہ کشمیر میں اسطرح کی کارروائی پاکستان کے لیے متحمل نہیں ہوسکتا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، جنگ کا اختیار مجبوری ہوجاتا ہے، ہم کشمیر کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے، آخری گولی اور آخری فوجی تک لڑیں گے۔اسٹریٹجک صلاحیت اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہ معاملہ سنجیدگی نوعیت کا ہے جس پر عام مقامات یا پریس کانفرنس پر بات نہیں کی جاسکتی۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہ عوام کے کرنے کی باتیں نہیں ہیں، بس انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اثاثہ ہیں اور جب انہیں خطرہ ہوگا تو انہیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔آزاد کشمیر سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہماری توجہ کا محور مشرقی سرحد ہے تاہم اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہاں ہم کمزور ایسا نہیں ہوسکتا اس سے بھارت کو واضح رہنا چاہیے۔اسرائیل سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان ہائبرڈ جنگ سے نبرد آزما ہے اور اس کا مقصد یہی ہوتا ہے قوم میں اختلاف پیدا کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا اسرائیل سے گزشتہ 72 سال سے جو موقف رہا ہے وہ برقرار ہے اور اس میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس کے تسلیم سے متعلق بات پروپیگنڈا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت مانتا ہے کہ یہ دو طرفہ معاملہ ہے، تاہم اس نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی ختم کرکے یہ معاملہ ختم کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج ایک پیشہ وار فوج ہے، جس طرف آرمی چیف دیکھتے ہیں، پوری فوج اسی طرف دیکھنے لگتی ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ تمام باتیں من گھڑت ہیں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے 125 جرنیلوں کی پروموش رکی ہے، یہ سب یوٹیوب کی آوازیں ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے، ایک کے بدلے ایک ہی پروموشن ہوتی ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم ایک پیشہ ور فورس ہیں، حکم کی تعمیل اور سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں، آرمی چیف جس طرف دیکھتے ہیں فوج اس طرف دیکھتی ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمارا ایک پڑوسی افغانستان ہے جہاں 40 برس سے جنگ ہو رہی ہے، افغانستان والوں نے 40 برس میں جنگ، قربانیوں، اور شہادتوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا، ہم نے افغانستان میں امن کیلئے اپنا بھروپور کردار ادا کیا اور ابھی جو امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اس میں بھی پاکستان کا کردار ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ چین کی معیشت کا بھی خطے میں اہم کردار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایران کیساتھ بھی ہمارے اچھے تعلقات ہیں، مشرق وسطیٰ کے حالات کی وجہ سے ایران بھی مسائل کا شکار ہے، مجموعی طور پر ایران کا خطے میں امن کیلئے اہم کردار ہے۔ ایران کی بارڈر فورس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہماری نوفرسٹ یوز کی کوئی پالیسی نہیں، ہماری پالیسی ڈیٹرنس (دفاع) کی ہے، اس کے لیے جو بھی اس کا استعمال ہے ریاستی پالیسی کے مطابق ہوگا۔یوم دفاع کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ شہیدوں نے ہمارے لیے اپنی جانیں قربان کیں، قوم سے درخواست ہے جوبھی شہید ہے ان کے گھر جائیں، شہیدوں کے لواحقین کومحسوس ہوناچاہیے ،قوم ان کیساتھ کھڑی ہے۔میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ کشمیرکسی فرد،پارٹی کاایشونہیں یہ پاکستان کاایشوہے، کشمیرکیلئے ہم سب نے مل کرآوازاٹھانی ہے، مسئلہ کشمیر پر ہم سب ایک ہیں، کشمیرکیلئے ہم سب کوایک ہوکرنکلناہے۔انہوں نے کہاکہ پولیوایک عالمی مسئلہ ہے، قوم سے درخواست ہے انسدادپولیومہم کومل کرکامیاب بنائیں، انسدادپولیومہم ہمارے بچوں کے مستقبل کیلئے ہے۔
وائس آف ایشیا 4 ستمبر 2019 خبر نمبر167

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •