Voice of Asia News

افواج پاکستان زندہ باد: محمد شاہ دوتانی(کوئٹہ)

اس دھرتی کو بھلا کیا خطرہ جس پرجنم لینے والے سپوت اس کی عظمت پر سر کٹانے کاعزم لئے جوان ہوں،جہاں ہربچے کو حرمت دین پر فدا ہونے کا جذبہ گھٹی میں دیاجائے، جو لوگ خبر رکھتے ہوں کہ زندہ اقوام کی تاریخ شہداء کے لہو سے رقم ہوا کرتی ہے۔ جہاں کے پیرو جواں جانثاری کی ہر داد سے واقف ہوں، موت سے آنکھیں چار کرنا جن کا شغل ہے۔جو عیاری و مکاری کامقابلہ جو انمردی و بہادری سے کریں، وہ قافلہ بھٹک ہی نہیں سکتا جس کی رہنمائی سنت رسولﷺ کرے۔ میدان بدرجن کے اجداد کی سپاہ گری کاگواہ اور قسطنطنیہ عظمت کا راوی ہو جس کی ہیبت سے پہاڑوں کے دل دبل اٹھیں،اوردریا راستہ بدل لیں۔اس کو للکارنے کی جرأت کی سزا کیا ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی ان سپاہیوں سے پوچھے جو چھ ستمبر کی صبح پاک سرحدوں کی جانب ناپاک ارادوں سے بڑھے، دوپہر کاکھانا جمخانہ لاہور میں کھانے کا خواب دیکھنے والی آنکھوں میں کیاتھا سوائے ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں کے…… لوگ کہتے ہیں بدر کی طرح اس دن بھی آسمان سے فرشتے اترتے، نتیجہ وہی نکلا جو چودہ سال پہلے کے مورخ نے لکھاتھا۔ پہلے اور اب دونوں بار وہی سرخرو ہوئے جو سامان حرب کے بجائے جذبہ پر یقین رکھتے تھے…… واقف تھے توبس اسی قول سے کہ اقوام قربانیوں سے پہچانی جاتی ہیں…… 6ستمبر کا دن وطن عزیز کواپنی زندگی کی سلامی پیش کرنے والوں کو سلام پیش کرنے کا ہے، اس احسان کے اعتراف کاجس کا بدلہ ہماری کئی نسلیں نہ چکا سکیں گی، وقت ہے خودسے چند سوالات کرنے کا، گریبان میں جھانکنے اورخوداحتسابی کا…… ویساہی فیصلہ جو چھ ستمبر کی صبح سینے پر بم باندھ کردشمن ٹینکوں تکے لیٹ جانے والوں نے کیا تھا۔ 54 برس قبل جس ملک کو بیرونی دشمن کا سامناتھا آج اندرونی دشمنوں سے نبرد آزما ہے۔ جو دشمن سینے پر وار کر کے آیا اور پشت پر زخم کھا کر بھاگا، آج ہماری صفوں میں سے میر جعفر و صادق تلاش کررہا ہے۔ آج پانچ عشروں بعد ایک اور ’’جنگ ستمبر ‘‘کی ضرورت ہے کہ دشمن کی آنکھ میں پھر میل ہے۔ تو پھرکیوں نہ عہد کیاجائے حقیقی ’’یوم دفاع‘‘ منانے کا فیصلہ ہوملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہاتھوں کوجھٹک دینے کا اور ان ’’کٹھ پتلیوں‘‘ کو نذر آتش کرنے کا جودشمن کی انگلی کے اشاروں پررقص کرتی ہیں، ضرورت ہے وہ زبان حلق سے نوچ لینے کی جوغیر کے جملے بولتی ہے…… آج پھر54 برس بعد ایک اور’’یوم دفاع‘‘ مناناہے ثابت کرنا ہے کہ جذبہ حریت آج بھی زندہ ہے۔ کٹ سکتے ہیں حرمت وطن پر نوجوان۔
یوم دفاع پاکستان،پاکستانی عوام اورمسلح افواج کی ناقابل تسخیر جرأت کی یاد دلاتا ہے، جس کی بدولت دشمن جو تعداد اورسازو سامان میں بہت زیادہ تھااس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ تمام بری، بحری اور فضائی معرکوں میں مادر وطن کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کی ثابت قدمی اورغیر متزلزل عزم ان کی امتیازی خصوصیات تھیں، جن کاانہوں نے بھرپور مظاہرہ کیا۔ آج ہم اپنے شہداء کوان کی عظیم قربانیوں کے لیے جو بہادری اور شجاعت کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہم ان غازیوں کو بھی سلام کرتے ہیں جن کی بہادری کے کارناموں نے ہماری تاریخ میں جرأت اور بہادری کے نئے باب رقم کئے ہیں۔ 1965 کی جنگ میں ہمارے سپاہیوں، سیلرزاورہوا بازوں کی دلیری اور بہادری کے کارنامے آنے والی نسلوں کیلئے مشغل راہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آزادی اورخود مختاری کی حفاظت کی ترغیب بھی دلاتے رہیں گے۔ یوم دفاع پاکستانی قوم کیلئے ایک نئی ترنگ، ہت اورجرأت کا پیغام لے کر آتا ہے۔ موجودہ دورکے چیلنجز اورحالات اس امرکی متقاضی ہیں کہ ہم ملکی دفاع کے لیے ہر دم تیار اورچاہک وست رہیں۔ مجھے یقین اوراعتماد ہے کہ پاکستان آرمی، بحری اور فضائی افواج قوم کے شانہ بشانہ نا صرف ملک کا دفاع انتہائی موثرانداز میں کر سکتی ہیں بلکہ اندرونی اور بیرونی سطح پر در پیش چیلنجز سے بھی بطریق احسن نمٹ کر سکتی ہیں۔
17 دن کی جنگ پاکستان ایئر فورس کی تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کرتی ہے۔ پاکستان ایئر فورس کے جوانوں نے اس نظم و ضبط، جذبے اوربے مثال پیشہ ورانہ صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔ بہت سارے آفیسرز،جونیئرز کمیشنڈ آفیسرز،ایئر مین اور سویلینز نے اپنے ملک کی عزت اور وقار کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان ایئر فورس اس وقت مضبوط، طاقتور اورچوکس ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی مہربانی اورپاکستانی عوام کی دعاؤں سے مادر وطن کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پاک فضائیہ ہمہ وقت چوکس اور مستعد ہے۔ 1965 کی جنگ کے دوران پاکستان نیوی نے اپنے سمندری علاقے کی حدود پر مکمل کنٹرول قائم رکھا۔ پاکستان نیوی نے پیش قدمی اور بہادری کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے دشمن کی بڑی بحری قوت کو ان کے علاقے تک محدود رکھااور سمندر میں اپنی برتری کاکسی صورت بھی مقابلہ نہ کرنے دیا۔
پاکستان نیوی کو اپنے محدودوسائل کے باوجود کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نیوی آج دشمن کے ہرحملے کو ناکام بنانے، مادر وطن کی سمندری حدود کادفاع اور ہر قسم کے چیلنجز کامقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ دفاعی میدان میں جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نیوی دفاع پیداوار کے میدان میں ایک موثر خود انحصاری کی پالیسی پر گامزن ہے۔اس نے مقامی طورپر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ آبدوزیں، میزائل بوٹس اورمائن ہنٹرز بنانے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اوراس طرح پاکستان کی دفاعی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس یادگار موقع پر ہم اپنے پاک فوج کے بہادر سپاہیوں، سمندری حدود کے محافظوں اور فضائیہ کے شاہینوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں اور وہ جنہوں نے غازیوں کا رتبہ پایاان کی قربانیاں ہمارے لیے مشعل راہ بنی رہیں گی۔ مجھے یقین واثق ہے کہ افواج پاکستان آزمائش کی ہر گھڑی میں لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کاشاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ہر طرح کی جارحیت کو ناکام بنانے کیلئے قوم کی توقعات پر پوری اتریں گی۔ آج پاکستان کا دفاع ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم وطن کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے عوام کو مضبوط و مستحکم بنائیں۔ اندرونی اتحان قائم کریں اورعوام اور اکابر پاکستان کے درمیان محبت، ایثار اور والہانہ پن کے اس جذبے کو تازہ کریں جو یوم دفاع پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے۔ کسی بھی فوجی حکمران سے شکایات ہو سکتی ہے، اس کی پالیسی سے اختلاف بھی کیاجا سکتا ہے لیکن فوج بحیثیت ادارہ ہماری سرحدوں کی محافظ ہے لہٰذا اس کی عزت و احترام ہم سب پر واجب ہے۔
اﷲ تعالیٰ پاکستان کوقائم و دائم رکھے……آمین
muhammadshahdotani@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •