Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر ،کرفیو اور لاک ڈاؤن کا 33واں روز،مظالم بے نقاب

 
سرینگر(وائس آف ایشیا )مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کا 33واں روز،مظالم بے نقاب کرنے پر شہلا رشید کیخلاف غداری کا مقدمہ درج، وادی میں کرفیو کے باوجود احتجاج، بھارتی فوج بے بس،پی ایس اے کے تحت گرفتاریاں جاری ، مواصلاتی رابطے بند، خوارک اور ادویات کی کمی،مختلف علاقوں میں آزادی ریلیاں ،ہزاروں مظاہرین نے بھارتی درندوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی میں کرفیو اور لاک ڈان کے 33ویں روز بھی کرفیو اور لاک ڈاؤن جاری رہا بھارت کے ہر قسم کے جبر کے سامنے کشمیری سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ مظاہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے بھارتی درندوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔وادی میں کرفیو اورلاک ڈاؤن، مواصلاتی رابطے بند، خوارک اور ادویات کی کمی، بھارت کے ہر طرح کے غاصبانہ حربوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔کشمیری نوجوانوں نے بھارتی سامراج کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے، ہزاروں نوجوانوں نے آزادی ریلیاں نکالیں جن پر بھارتی فوج نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پیلٹ گن کے فائر کیے۔کشمیر میڈیا سروس کیمطابق دس ہزار سے زیادہ گرفتار افراد میں سے چار ہزار پانچ سو کشمیریوں پر بدنامہ زمانہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اس کالے قانون کے تحت گرفتاریاں جاری ہیں ۔ادھر بھارت فورسز نے جموں و کشمیر عوامی تحریک کی رہنما اور دلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کی سابق نائب صدر شہلا رشید کے خلاف بھارتی فوج کے مظالم بے نقاب کرنے پر غداری کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے وکیل الکھ آلوک شریواستو کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔الکھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے دلی پولیس کے خصوصی سیل میں یہ رپورٹ درج کرائی ہے۔ شہلا نے انڈین فوج پر جھوٹے الزامات عائد کیے تھے۔وکیل الکھ آلوک کا مزید کہنا تھا کہ شہلا نے بغیر کسی ثبوت فوج پر سنگین الزامات لگائے اور اپنے ٹویٹس کے ذریعے ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی۔الکھ نے اپنی شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ شہلا نے کچھ ایسی باتیں کہی ہیں جو کبھی رونما ہی نہیں ہوئیں۔ اس سے پہلے شہلا رشید نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد کشمیر کے لاک ڈاؤن پر تبصرہ کرتے ہوئے 18 اگست کو ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ کشمیر میں ‘مسلح فوجی رات میں گھروں میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ لڑکوں کو حراست میں لیتے ہیں۔ گھر کے سامان کو الٹ پلٹ دیتے ہیں۔ اناج اور غلے کو فرش پر بکھیر کر اس میں تیل ملا دیتے ہیں۔ایک دوسری ٹویٹ میں انھوں نے لکھا تھا کہ’شوپیاں میں چار(کشمیری)لڑکوں کو فوجی کمیپ میں طلب کیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ ( ٹارچر) کی گئی۔ ان کے قریب ایک مائک رکھا گیا تاکہ پورے علاقے کے لوگ ان کی چیخیں سن سکیں تاکہ انھیں خوفزدہ کیا جا سکے۔ اس سے پورے علاقے میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔وکیل الکھ شریواستو نے بتایا کہ انھوں نے یہ ٹویٹ پڑھنے کے بعد شہلا کے خلاف پولیس میں ایف آر درج کرائی ہے۔ اس میں تعزیرات ہند کی دفعہ( 124 اے) غداری 153 اے ، 153 اور بعض دوسری دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔شہلا کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد اب انھیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ایف آئی آر کے اندارج کے بعد اپنا مقف دیتے ہوئے شہلا رشید کا کہنا تھا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی معطلی اور پابندیوں کے خلاف بات کرنے کی پاداش میں دہلی پولیس کے سپیشل سیل کی جانب سے ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی بابت انھیں میڈیا سے معلوم ہوا ہے۔میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ایف آئی آر غیر سنجیدہ اور سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے اور مجھے خاموش کروانے کی یہ ایک بھونڈی کوشش ہے۔شہلا رشید کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو عدالت میں چیلنج کرنے والی آئینی پٹیشن کا حصہ ہیں اور ان کی پیٹیشن آرٹیکل 370 کی دوبارہ بحالی کے لیے پرزور دلائل لیے ہوئے ہے۔’میں نے اپنی ٹویٹس میں واضح طور پر لکھا تھا یہ معلومات ریاست(کشمیر)کی عوام کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر ہیں۔ ایک ایسی صورتحال میں جہاں صحافیوں کو رپورٹ کرنے کی اجازت نہ ہو، میڈیا، سوشل میڈیا، ٹیلی فون اور ہر طرح کے ذرائع مواصلات بند کر دیے گئے ہوں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ متاثرہ لوگوں کے بیانیے کو بیان کیا جائے تاکہ انڈیا کے عوام کو مطلع کیا جا سکے کہ وہاں(کشمیر)کیا ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی کارکن ہونے کی حیثیت سے وہ صرف اپنا کام کر رہی تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جن ٹویٹس کی وجہ سے انھیں نشانہ بنایا گیا ہے ان میں انھوں نے انتظامیہ کی جانب سے کشمیر کے لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ہونے والے مثبت اقدامات کا ذکر بھی کیا تھا۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے میرا مقصد سوائے سچ بیان کرنے کے اور کچھ نہیں تھا۔اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے تمام افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی بحالی کی جنگ کرنے والے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے کھڑے ہوں۔ایف آئی آر کے اندارج سے قبل دلی میں اپوزیشن کے ایک مظاہرے کے دوران جب نامہ نگاروں نے شہلا سے ان الزامات سے متعلق تفصیلات اور ثبوت مانگے تھے تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ وہ ان واقعات کی تفصیلات اس شرط پر دینے کے لیے تیار ہیں کہ فوج ان الزامات کی غیر جانبدار تفتیش کرے اور یقین دہانی کرائے کہ ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔تاہم انڈین فوج نے ان سبھی الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔شہلا رشید کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے۔ گذشتہ مارچ میں انھوں نے سابق سرکاری افسر شاہ فیصل کی سیاسی جماعت جموں و کشمیر عوامی تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی(جے این یو) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ شہلا سنہ 2015 سے سنہ 2016 تک جے این یو طلبہ یونین کی نائب صدر رہیں اور اس وقت وہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم آل انڈیا سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ تھیں۔پہلی بار قومی سطح پر وہ اس وقت نظروں میں آئیں جب پارلیمان پر حملے کے جرم میں پھانسی پانے والے کشمیری افضل گرو کی برسی پر جے این یو میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا۔بی جے پی سے وابستہ یونیورسٹی کے بعض طلبہ نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس پروگرام کے دوران یونین کے رہنماں سمیت بعض کشمیری شرکا نے کشمیر کی آزادی اور انڈیا کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے نعرے لگائے تھے۔ پولیس نے اس سلسلے میں یونین کے صدر اور بعض دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔شہلا کا شمار ان چند کشمیری خواتین میں ہوتا ہے جو کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بالخصوص انڈر ٹرائل نو عمر بچوں کو انصاف دلانے کے لیے سرگرم رہی ہیں۔ایک تقریب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘میں کشمیر میں انڈیا کی ایک بہت پرتشدد تصویر دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں۔ لیکن جے این یو نے مجھے اپنے خیالات کے اظہار اور ارتقا کے لیے ایک جمہوری موقع فراہم کیا۔’

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •