Voice of Asia News

کشمیریوں پر ریاستی مظالم، ایک اور بھارتی افسر مستعفیٰ ہوگیا

 
بنگلور(وائس آف ایشیا) بھارت میں انتہا پسند جنونی ہندوؤں کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بہیمانہ اور انسانیت سوز مظالم پر بنگلور کے ڈپٹی کمشنر نے استعفی دے دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلور کے ڈی سی سسیکانتھ سینتھیل نے سول سروسز سے استعفیٰ کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقع پر جب مودی سرکار جمہوریت کی قدروں کو پامال کرنے میں سرگرم ہے، میرا اس حکومت میں افسر رہنا بالکل غیر اخلاقی ہو گا۔واضح رہے اس سے قبل بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اس وقت سخت ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے اپنے حمایت یافتہ میئر سری نگر جنید مٹو نے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر آواز حق بلند کی۔انہوں نے کہا کہ جو فورسز آپ کو سیکورٹی فراہم کررہی ہوں اور پھر وہی اچانک آپ کو گھر سے باہر نکلنے سے روک دیں تو بہت ذلت محسوس ہوتی ہے۔جنید مٹو نے اپنی حراست کو غیر قانونی اور تضحیک آمیز قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ نفسیاتی طور پرحراست میں گزارے گئے آٹھ دن بہت ذلت آمیز، تکلیف دہ اور مشکل تھے۔خون کے سرطان میں مبتلا جنید مٹو نے نظر بندی کے اختتام پر دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ملنے والی ذلت کا آپ اس وقت تک تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں جب تک کہ خود اس صورتحال سے نہ گزریں۔کچھ عرصہ قبل انڈین ایڈمنسٹریشن سروس کے اعلیٰ آفیسر کنن گوپی ناتھن احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں20 دن سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، یہ ریاستی جارحیت ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •