Voice of Asia News

کچرے تلے سسکتا کراچی :محمد قیصر چوہان

 
کراچی میں برسات کے باعث گلیوں اور کوچوں میں کھڑے پانی کو ایک ماہ سے زائد کاعرصہ گزرچکا ہے ، مگر ابھی تک کراچی کی گلیوں سے کھڑے پانی کو صاف نہیں کیا جاسکا ہے جس کے باعث اب اس میں سے تعفن اٹھنے لگا ہے ، مکھی مچھروں کے علاوہ طرح طرح کے زہریلے حشرات الارض پیدا ہورہے ہیں اور اب وبائی امراض نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔کراچی کچرے تلے سسک رہا ہے مگر کراچی کو کچرے تلے دفن کرنے کے ذمہ دار اس پر کوئی کام کرنے کے بجائے نورا کشتی میں مصروف ہیں۔ کراچی میں بلدیاتی نظام کا بیڑا غرق کرنے کے ذمے داران نے چور مچائے شور والا طریقہ اختیار کیا ہوا ہے۔روزانہ میڈیا کے ذریعے یہ تاثردینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم بلدیہ اور کراچی کے حقیقی رکھوالے ہیں، کراچی کی ایک ایک گلی ، سڑکیں ، گٹر، سیوریج کا نظام اور پانی کا نظام سر چڑھ کر بولنے والا جادو بنا ہوا ہے۔
پاکستان کے معاشی حب کراچی میں بارش ہلکی ہو یا تیز ، کم ہو یا زیادہ حشر ہر مرتبہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ پورے شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہو جاتا ہے جو موت کا پھندا بن جاتا ہے۔ کچرے کا جوانبار بلدیاتی اداروں اور سندھ حکومت کے ماتحت ادارے سولڈ ویسٹ منیجمنٹ نے اہتمام کے ساتھ ہر گلی ، کوچے اور شاہراہ پر جمع کیا ہوتا ہے ، وہ پانی کے ساتھ پورے شہر میں تیر رہا ہوتا ہے۔ برسات کے پانی کی نکاسی کا تو شہر میں کوئی بندوبست ہے ہی نہیں ، جو تھوڑے بہت نالے ہیں ، ان کی صفائی کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز خوردبرد کرلیے گئے ہیں اور اب وہ کچرے سے اٹے پڑے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پورے شہر کے گٹر بھی ابل پڑتے ہیں۔یہ مچھروں اور مکھیوں کی افزائش کیلئے انتہائی سازگار ماحول بن جاتا ہے۔کراچی میں اگست اور ستمبر کے مہینے میں پہلی مرتبہ بارشیں نہیں ہوئیں کہ پتہ ہی نہ چل سکے کے خرابی کہاں پر ہیں ۔جب معلوم ہے کہ کس جگہ پانی کھڑا ہوتا ہے تو پھر وہ جگہ پْرکیوں نہیں کی جاتی۔ کچرا اٹھانے کا پیسا دیا جاتا ہے تو پھر کام کیوں نہیں لیا جاتا۔ جب کنڈی مینوں اور خاکروبوں کی فوج ظفر موج بھرتی ہے تو پھر وہ کام کیوں نہیں کرتے۔ بلدیاتی اداروں اور سندھ حکومت کی بیان بازی دیکھ کر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے فرمایاتھا کہ کچرا اُٹھانا حکومت سندھ، وفاقی حکومت یا میئر کراچی کا کام نہیں۔ تو پھر ان کا کام ہے کیا؟۔سندھ میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں ہے۔ اپریل 2008 سے پیپلزپارٹی سندھ میں مسلسل برسراقتدار ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سندھ میں ہی سب سے زیادہ پالیسیوں کا تسلسل ہوتا اورعوام کو ترقی کے ثمرات دیکھنے اور برتنے کو ملتے۔ مگر صورتحال اس کے برعکس ہے اور یہاں پر لوٹ مار کا وہ بازار گرم کیا گیا کہ اس کی مثال شاید ہی ملک کے کسی اور حصے سے مل سکے۔ سندھ میں بد انتظامی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی جیسا بڑا شہر جو کماتا ہے اس سے پورا ملک چلتا ہے کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔
کراچی کے تاجر سندھ حکومت اوربلدیاتی اداروں سے اتنا زیادہ مایوس ہوچکے ہیں کہ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے بلدیاتی اداروں کو فوج کی تحویل میں دے دیا جائے۔ اسے مایوسی کی انتہا ہی کہا جاسکتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو فوج کے حوالے کرنے کی بات کہی گئی ہے حالانکہ کراچی کا 35 فیصد سے زائدحصہ کنٹونمنٹ بورڈز کے زیر انتظام ہے اور ان علاقوں کی صورتحال پورے شہر سے کہیں سے بھی مختلف نہیں ہے۔ فوج کے زیر انتظام کنٹونمنٹ کے علاقے میں ریجنٹ پلازہ ہوٹل سے لے کر جناح اسپتال تک کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔پوری سڑک سیوریج کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے اور اس پر جگہ جگہ گہرے گڑھے پڑ گئے ہیں۔ روز اس کی ایک نئی وڈیو وائرل ہوتی ہے کہ کوئی رکشہ ان گڑہوں میں پھنس کر الٹ گیا اور اس میں سوار مریض گٹر کے پانی میں ڈوب کر نکل رہے ہیں۔ امراض قلب اور بچوں کے اسپتال بھی اسی سڑک پر واقع ہیں۔ شہر کے اہم ترین علاقے صد ر کی سڑکیں کئی دن سیوریج کے پانی میں ڈوبی رہیں مگر مجال ہے کہ متعلقہ کنٹونمنٹ بورڈ کے کان پر جوں بھی رینگی ہو۔ صرف شہر کی مارکیٹوں اور بستیوں کا یہ عالم نہیں ہے بلکہ شہر سے باہر سپر ہائی وے پر واقع کراچی کی سبزی اور پھل منڈی بھی کیچڑ اور کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہے۔ سبزی منڈی اور پھل منڈی میں کام کرنے والے آڑھتیوں اور تاجروں نے الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر عاشورہ تک صورتحال کو درست نہ کیا گیا تو وہ سپر ہائی وے کو بلاک کردیں گے۔ اس تمام صورتحال کے ذمہ دار میئر وسیم اختر کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ جمعہ کو ایم اے جناح روڈ پر احتجاج کرنے اور دھرنا دینے والے تاجروں کے پاس پہنچے اور انہیں یقین دلایا کہ وہ علاقے کی فٹ پاتھیں بنوادیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پانی اس لیے کھڑا ہے کہ پانی کی نکاسی کا درست انتظام نہیں ہے مگر میئر کراچی وسیم اختر وعدہ فٹ پاتھ بنوانے کا کررہے ہیں۔ کراچی کی صورتحال اس لیے ابتر ہے کہ کچرا نہیں اٹھایا جارہا ہے اور روز صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے مگر میئر کراچی کے نزدیک تمام مسائل کا حل فٹ پاتھ کی تعمیر میں مضمر ہے۔ کراچی کے شہری ڈینگی سے مررہے ہیں ، دمے اور سانس کی دیگر بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں ، نمونیہ اور ٹائیفائیڈ نے شہر میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ ان بیماریوں کے علاج ہی پر کراچی کے شہری ماہانہ اربوں روپے کے اضافی اخراجات کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ڈینگی اور دیگر جاں لیوا بیماریوں سے مرنے والوں کا ناقابل تلافی نقصان اس کے علاوہ ہے مگر متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی اور ضلعی بلدیات کے سربراہوں کو اپنی ذمہ داریوں کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ کوئی یہ بتانے والا نہیں ہے کہ کنڈی مین اور خاکروب کہاں غائب ہیں اور ان سے کام لینے کیلئے کون سے اختیارات درکار ہیں۔ وزیر بلدیات بھی کوئی ذمے داری اٹھانے پر تیار نہیں۔ تحریک انصاف کے وفاقی وزیر علی زیدی بھی اچھل کود کر کے ایک طرف ہو گئے۔وہ بھی کچرے تلے سسکتے کراچی کو صاف نہیں کرا پائے۔
اگر میئر کراچی کی بات کی جائے تو میئر کراچی وسیم اختر اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال ایک دوسرے کے خلاف روز ایک بیان دیتے ہیں اور نیا انکشاف کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان انکشافات کی روشنی میں وسیم اختر اور مصطفیٰ کمال کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ، اس کے بجائے سب ان کے بیانات پر تالی بجانے میں مصروف ہیں۔ وسیم اختر اور مصطفیٰ کمال کی نوراکشتی کو دیکھ کرشہر کے کسی گنجان مقام پر ہونے والی نورا کشتی یاد آنے لگتی ہے جس میں دو افراد ایک دوسرے کو خوب گالیوں سے نوازتے ہیں ، ایک دوسرے کے شجرے کے بارے میں ہوشربا انکشافات بھی کرتے ہیں اور خوب لپا ڈگی بھی۔ اس دوران ان کے دیگر ساتھی مجمع میں سے بہتیرے افراد کی جیب صاف کرڈالتے ہیں۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وسیم اختر اور مصطفیٰ کمال نہ صرف ایک دوسرے کی کرپشن بلکہ ایک دوسرے کے بارے میں رنگین داستانیں بھی سنا رہے ہیں۔ اس نورا کشتی میں سب بھول گئے کہ گزشتہ پانچ سال تک کراچی میں وسیم اختر نے اپنی ایک بھی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ کسی نے مصطفیٰ کمال سے سوال نہیں کیا کہ بقول ان کے انہوں نے 40 ارب روپے سیوریج کی بہتری پر خرچ کیے تھے تو کراچی میں گلی ، کوچے سے لے کر تمام شاہراہیں کیوں سیوریج کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ کراچی کی تباہی کے ذمہ دار وسیم اختر اور مصطفیٰ کمال دونوں ہی ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھتے رہے ہیں اور وہی کراچی میں تباہی کی ذمہ دار ہے۔ اس وقت کراچی شدید ترین مسائل کا شکار ہے۔ اب جبکہ بلدیاتی انتخابات سر پرآگئے ہیں تو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیلیکٹرز نے مصطفیٰ کمال کی اچھی تصویر بنانے کی کوشش کردی ہے کہ وہی کراچی کے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال کی خوبصورت تصویر پینٹ کرنے والے بتائیں کہ کراچی میں چائنا کٹنگ کس کے دور میں عروج پر پہنچی اور کس نے کراچی کے ایک ایک پارک اور گرین بیلٹ کو بیچ دیا۔ اب پھر سے مصطفیٰ کمال کو کراچی کے آئندہ میئر کے امیدوارکے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ کراچی کے شہریوں کو پہچان لینا چاہیے کہ پرانی شراب کو دوبارہ سے نئی بوتل میں بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مصطفیٰ کمال اور وسیم اختر کے درمیان نورا کشتی سے ایم کیو ایم کو ایک فائدہ یہ پہنچے گا کہ تمام ملبہ وسیم اختر پر ڈال کر وہ بری الذمہ ہوجائے گیاور اس کا دوسرا کھلاڑی میدان میں موجود ہوگا۔ دوسرا فائدہ سیلیکٹرز کو یہ ہورہا ہے کہ اس نورا کشتی میں عوام محو ہوگئے ہیں اور ان کی توجہ وقتی طور پر مہنگائی ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی قدر ، پٹرول ، گیس اور بجلی کے نرخوں میں ہر ماہ اضافے اور عوام کو ٹیکس کے نام پر نچوڑنے جیسے اہم مسائل سے ہٹ گئی ہے۔ یہ تماشا ابھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اس کو روز ایک نیا رنگ دیا جائے گا تاکہ عوام اسی میں مصروف رہیں اور سرکار اپنا کام کر گزرے۔ اس وقت صرف اور صرف سرکاری پالیسیوں کے سبب ملک کی معیشت کی نیا گرداب میں ہے اور حکومت اس طرف سے توجہ ہٹانے کیلئے کراچی کو مکھیوں کی یلغار اور وبائی بیماریوں کے حملے کی اسموک اسکرین سے کام لے رہی ہے۔ شہری کی صفائی ستھرائی صوبائی حکومت اور بلدیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس کو تماشا بنانے کے بجائے اس کے ذمہ داروں کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔
سانحہ بارہ مئی کے وقت موجودہ میئر کراچی وسیم اختر سندھ کے مشیر داخلہ تھے۔بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے سانحے کے وقت بھی مشیر داخلہ تھے اور سٹی ناظم مصطفی کمال تھے۔ کراچی کے بلدیاتی اداروں میں بھرتیاں ان دونوں نے اپنے اپنے ادوار میں کیں۔ دونوں نے مل کر لوٹ مار اور نظام کو تباہ کیا ،متحدہ کے گورنر عشرت العباد ان کی سر پرستی کرتے رہے۔ پولیس افسران چیخ اْٹھے کہ جب بھی ہم کسی جرائم پیشہ کو پکڑتے ہیں گورنر ہاؤس سے فون اآجاتا ہے۔ شرمناک بات یہ ہے کہ ایسا اعتراف کرنے والا پولیس افسر اپنے عہدے پر بر قرار رہتا ہے اور گورنر ہاؤس کے فون پر جرائم پیشہ لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ تیسرا کھلاڑی اس کھیل میں سندھ حکومت کو قرار دیا جانا چاہیے جس نے اپنے موجودہ اور سابق دور میں متحدہ کے ارکان اسمبلی کی موجودگی میں بلدیہ کراچی کے محکمے ایک ایک کر کے سندھ حکومت کے کنٹرول میں لے لیے۔ اب تینوں ایک دوسرے پر کراچی کو تباہ کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ اس وقت ان کی حالت ان میراثیوں جیسی ہے جو جگتیں کرنے میں مصروف ہیں۔ جس کو چور کہا جا رہا ہے یقیناً کہنے والے کو معلوم ہو گا کیونکہ وہ ان ہی کا ساتھی ہے۔ اور جو کہہ رہا ہے وہ اس سے بڑا چور ہے کیونکہ اس کا کچا چٹھا پہلا چور کھول رہا ہے۔ کراچی کے عوام اس سحر سے کب نکلیں گے۔ لسانیت کا بھوت تواْتر چکا اب آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ووٹروں کی رجسٹریشن دیکھ کر اندازہ ہوگا کہ مہاجر ، سندھی اور پشتون بنیادوں پر بھی سیاست ہو گی لیکن کراچی کو سنبھالنے کی کسی میں خواہش نہیں ہے۔اہل کراچی کو اپنے مسائل کے حل کیلئے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا اور مستقبل میں ایسے لوگوں کو آگے لانا ہو گا جو عوامی مسائل کے حل کا ادراک رکھتے ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •