Voice of Asia News

ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کو بدستور خدشات درپیش

کراچی(وائس آف ایشیا)ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے کوشاں پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے یہ مایوس کن ترین لمحہ ہے کہ صف اول کے دس سری لنکن کرکٹرز نے پاکستان آنے سے صاف انکار کردیا ہے اور ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔اگرچہ پی سی بی حکام کے مطابق سینئر سری لنکن کرکٹرز کا پاکستان آنے سے انکار ان کا اندرونی معاملہ ہے تاہم کوشش یہی ہے کہ مہمان ٹیم کم از کم ایک ٹیسٹ پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ ہو جائے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی نے مختصر فارمیٹ کے میچوں کے انعقاد کی پہلے کوشش اس سوچ کے ساتھ کی تھی کہ مہمان کرکٹرز کو حفاظت کے اعتبار سے یقین ہو جائے کہ ماضی کے برعکس اب ماحول اس حوالے سے قدرے مختلف اور سازگار ہے لیکن دسمبر میں شیڈول ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلے میں کھیلے جانے والے دو ٹیسٹ میچز کیلئے نروشن ڈکویلا،کوشل پریرا،دھنن جایا ڈی سلوا،تھیسارا پریرا،اکیلا دنن جایا،لسیتھ مالنگا،اینجلو میتھیوز،سرنگا لکمل، دنیش چندی مل اور دیموتھ کرونارتنے نے سیکیورٹی پر خدشات کے باعث مختصر فارمیٹ کیلئے بھی پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ کھلاڑی طویل فارمیٹ کی کرکٹ کیلئے بھی پاکستان آنے پر رضامند نہیں ہوں گے اور کمزور ٹیم بھیج کر کرکٹ سری لنکا کے حکام اہم ٹیسٹ پوائنٹس گنوانے کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔ گزشتہ روز ہونے والی ایک میٹنگ میں کھلاڑیوں کی جانب سے انکار کے باوجود چیف سلیکٹر اسانتھا ڈی میل نے واضح کردیا ہے کہ پلیئرز کے مستقبل کے انتخاب پر ان کی حالیہ دستبرداری منفی اثرات مرتب نہیں کرے گی۔اس ضمن میں افسوسناک بات یہ ہے کہ سری لنکا کی کمزور ٹیم کے پاکستان میں مختصر فارمیٹس کے میچز کھیلنے سے پاکستان کے متعلق عالمی رائے قطعی تبدیل نہیں ہو سکے گی اور صف اول کے کھلاڑیوں کا پاکستان ا?نے سے گریز مجموعی حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے گا جس نے سری لنکن سیکیورٹی وفد کے پاکستان آکر جائزہ لینے کے بعد مثبت رپورٹس کے اثرات کو بھی زائل کردیا ہے۔
وائس آف ایشیا11ستمبر 2019 خبر نمبر55

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •