بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 71ویں انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے

اسلام آباد( وائس آف ایشیا )بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 71ویں برسی ملک بھر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی بابائے قوم کے یوم وفات پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی و سماجی شخصیات مزار قائد پر حاضری دیں گی اور پھولوں کی چادر چڑھائیں گی۔اگر قائد اعظم کی زندگی اور جدوجہد پر اگر نظر ڈالیں تو بانی پاکستان محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں کیا۔وہ 1893 میں اعلی تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے 1896 میں وکالت کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس آئے۔محمد علی جناح کی شخصیت ایک اعلی اور مثالی کِردار کی حامل تھی، انہوں نے مذہب کے جمہوری اور انصاف پر مبنی اصولوں کو اپنا کر عزت حاصل کی، وکالت اور سیاست میں رہ کر اپنے دامن کو صاف ستھرا رکھا اور مسلمانوں کی ذِہنی تعمیرِنو میں روشنی کا مینار بنے رہے۔انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اعلی معیار اور دیانت سے کِیا اور اپنے لیے ایک ایسا لائحہ عمل وضع کیا جو ہمیشہ جامع اور مکمل رہا۔آپ (محمد علی جناح) کا انتقال پاکستان کے آزاد ہونے کے ایک سال بعد 11 ستمبر 1948 کو ہوا۔بابائے قوم کا یوم وفات ہمیں ایک ایسے عظیم ترین قائد کی یاد دلاتا ہے جس نے برصغیر کے خوف زدہ اور مایوس مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا تھا۔انہوں نے حصول منزل کے لیے ایک ایسی بے مثل قیادت فراہم کی جس نے بے شمار رکاوٹوں کے باوجو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کا قیام یقینی بنادیا۔علاوہ ازیں یوم وفات پر گورنر سندھ عمران اسمعیل اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے مزار قائد پر حاضری دی اور بانی پاکستان محمد علی جناح کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔اس کے ساتھ ساتھ دونوں شخصیات نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مذمت کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ ہم قائد کے مزار پر آج یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں قائد اعظم کے وژن کو پورا کرنا ہے اور اس ملک کو ایسا بنانا ہے کہ یہاں تمام لوگ بلاتفریق کے رہ سکیں، ساتھ ہی انہوں نے پیغام دیا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم بغیر کسی اختلاف کے ساتھ ہیں اور جب تک کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہیں بنا لیتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
وائس آف ایشیا11ستمبر 2019 خبر نمبر11