Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا خطاب

 
جنیوا (وائس آف ایشیا)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ،بھارت، مقبوضہ کشمیر میں بنیادی اور ناقابل تنسیخ انسانی حقوق کو روند رہا ہے،بھارتی اقدامات سے خطے میں سلامتی کو خطرہ ہے ،بھارت عالمی توجہ ہٹانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے، بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ مقبوضی جموں و کشمیر میں فوری طورپر پیلٹ گنز کا استعمال اور قتل وغارت گری بند ، کرفیو اٹھائے، کمیونیکشن بلیک آؤٹ ختم ، آزادی اور بنیادی شہری حقوق بحال ، سیاسی قیدیوں کو رہا ، انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کو نشانہ بنانا بند اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، انسانی حقوق کے مختلف قوانین اور ضابطوں کے تحت ذمہ داریاں پوری کرے ، بے گناہ کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے اقدامات کرے، اس تناظر میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے ،بھارت، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر کے دفتر کو اجازت دے کہ انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت، مینڈینٹ ہولڈرز، بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کریں اور ان سے متعلق اپنی رپورٹ سے مستقل بنیادوں پر کونسل کو آگاہ کرے،بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کر-گزشتہ روزوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے انسانی حقوق کونسل سے خطاب  کرتے ہوئے کہاکہ صدر میں انسانی حقوق کونسل کی انتہائی قابلیت سے قیادت پر آپ او ر بیورو کا شکریہ اداکرتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی عالمی اقدار کے فروغ اور تحفظ کے لئے ہائی کمشنر محترمہ بیچلیٹ اوران کے دفتر کی خدمات کو بھی سراہتا ہوں۔میرے لئے یہ بھی اعزاز کی بات ہے کہ میں آج انسانی حقوق کونسل سے خطاب کررہا ہوں جو عالمی انسانی حقوق کی محافظ ہے۔۔ جو اقوام متحدہ کا تیسرا فعال ستون ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ وہ گھر ہے جہاں میں بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کی استدعا اور مقدمہ لے کر آیا ہوں جن کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ انسانی حقوق کو بھارت پاون تلے روند رہا ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ایک منظم انداز سے مقبوضہ خطے کے عوام کو ظلم وستم کا نشانہ بنایاجارہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ دہائیوں سے بھارتی جبرو استبداد کا پہلے سے ہی شکار 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کوایک غیرقانونی آپریشن کے ذریعے گزشتہ چھ ہفتے سے عملا قید کردیاگیا ہے اور اس عرصے میں ظلم وبربریت کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ پہلے سے موجود سات لاکھ فوج کی تعداد بڑھ کر دس لاکھ تک جاپہنچی ہے،صدرصاحب آخر کس مقصد کے لئے ؟ جواب واضح ہے ان حالات وواقعات نے ایک ملک کا اصل کردار بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے جو خود کو جمہوریت، وفاقیت اور سکیولرازم کا گڑھ بتانے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔گزشتہ چھ ہفتوں سے بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو کرہ ارض کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کردیا ہے جہاں بنیادی اشیائے ضروریہ اور ذرائع مواصلات تک رسائی ممکن نہیں۔ دکانوں پرسامان فراہم نہ ہونے سے اشیاء کی قلت ہوچکی ہے۔ ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات کی قلت ہے۔ بھارتی قابض افواج کے بلاامتیاز اور براہ راست بہیمانہ طاقت کے استعمال کی بناء پر بہت سارے زخمی ہونے والے افراد کو ہنگامی طبی امداد تک رسائی میسر نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت چھ ہفتے سے مسلسل گھروں میں نظربند اور قید ہے ، ان کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔س قانون کے بناء پر چھ ہزار سے زائد افراد،(جن میں سیاسی وسماجی کارکنان، طالب علموں اور پروفیشنلز شامل ہیں) کو گرفتار کیا گیا ہے؟۔۔ ان میں سے بہت سارے افراد کو جبری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اورجموں وکشمیر میں نافذ کالے قوانین کی آڑ میں بھارت کی دیگر جیلوں میں منتقل کردیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف میں تنہا ء نہیں جو بھارتی بدترین بربریت اور انسانی حقوق کی کھلی پامالیوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرارہا ہوں، دنیا اس پر بول رہی ہے انہوں نے کہاکہ غیرجانبدار، ممتاز عالمی میڈیا اور غیرجانبدار مبصرین جموں وکشمیر کے عوام پر ہونے والے بہیمانہ ظلم و بربریت کی مسلسل رپورٹنگ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی بی سی نے 29 اگست کو اپنی رپورٹ میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کی بھیانک تفصیل دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ رپورٹ، بے یارومددگار متاثرین کی بے بسی کا حال متاثرین کے اس بیان کو نقل کرکے دنیا کو دکھا رہی ہے جس میں وہ قابض متشدد افواج کے انسانیت سوز تشدد پر فریاد کررہے ہوتے ہیں ’’ہمیں مت مارو، ہمیں قتل کردو۔‘‘(میں نے یہ مضمون آپ سب کے مطالعے کے لئے تقسیم کرایا ہے)انہوں نے کہاکہ اسی طرح،عالمی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے اپنی دوستمبر کی اشاعت میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں مظلوم اور بے گناہ کشمیریوں کے ساتھ برتی گئی انتہائی سفاکی اوران کی توہین و تذلیل کے حقائق کو بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح قابض بھارتی افواج انتہائی بے رحمی اور بے شرمی سے لوگوں کو برہنہ کرکے سرعام تشدد کا نشانہ بناتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک اور رپورٹ میں پیلٹ گنز کے استعمال سے نشانہ بننے والے افراد کے بارے میں حقائق بیان کئے گئے ہیں جن کا قابض بھارتی افواج سال ہا سال سے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف اندھادھند استعمال کررہی ہے جس سے بڑی تعداد میں بے گناہ کشمیری زندگی بھر کے لئے بصارت سے محروم ہوچکے ہیں۔۔ اب یہ زخمی اس خوف سے ہسپتال جانے سے ہچکچا رہے ہیں کہ قابض بھارتی افواج ان کے خلاف انتقامی کاروائی کریں گی، انہیں گرفتارکرلیاجائے گا اور تشدد کا نشانہ بنایاجائے گا۔وزیر خارجہ میں کسی گزرے زمانے یا قرون اولیٰ کی بات نہیں کررہا، یہ بربریت آج کے دن ہورہی ہے یعنی اکیسیویں صدی میں یہ تمام ظلم وستم ہورہا ہے۔انہوں نے کہاہ  یقینا مجھے انسانی حقوق کونسل کو یہ یاد کرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ سب کچھ متعدد عالمی انسانی حقوق سے متعلق قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے جس پر بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی جابرانہ اور ظالمانہ تسلط میں رہنے والے مظلوموں کی سچی داستان ہے جسے دنیا سے چھپانے کے لئے بھارت مضطرب ہے۔ یہ ’’دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کا حقیقی چہرہ ہے۔ یہ اس ملک کا طرز عمل ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا آرزو مند ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس ظلم و تباہی کی جڑ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کو ان کا حق خوداردیت دینے سے بھارت کا مسلسل انکار ہے۔انہوں نے کہاکہ سات دہائیوں سے چلا آنے والا یہ تنازعہ انصاف کے ساتھ سنگین مذاق ہے جو موجودہ بھارتی حکومت کے مذموم عزائم کی وجہ سے مزید سنگین تر ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ غاصبانہ اقدام بھارتی حکمران جماعت کے منشور میں واضح درج ہے کہ۔۔ بندوق کے زور پر جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے۔انہوں نے کہاکہ عالمی قانون کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے 5 اگست 2019ء کے بھارت کے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات غیر آئینی ہیں کیونکہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسلمہ تنازعہ تسلیم کررکھا ہے۔ ان غیرقانونی تبدیلیوں کی وجہ سے خود بھارت کے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس نے جموں وکشمیر پر غاصبانہ اور غیرقانونی قبضہ کررکھا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ اقدامات چوتھے جینیوا کنونشن کے منافی ہیں جو مقبوضہ خطے سے آبادی کی کسی دوسری جگہ منتقلی اور وہاں کسی دوسری جگہ سے آبادی کو لاکر بسانے کے عمل کی ممانعت کرتا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بھارتی دعویٰ قطعی جھوٹ ہے کہ یہ اقدامات اس کا ’’اندرونی معاملہ‘‘ ہیں۔انہوں نے کہاکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر 70 سال سے زائد عرصہ سے ایک مسلمہ تنازعہ کی صورت موجود ہے۔ 16 اگست کوجموں وکشمیر کے تنازعے پر ہونے والا سلامتی کونسل کا اجلاس اس امر کی تصدیق ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اس کونسل کے موضوع گفتگو میں محض ’’ایک ملک کی مخصوص صورتحال‘‘ نہیں۔بلکہ عالمی قانون ،ایک مقبوضہ اور متنازعہ خطے کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اس مقبوضہ خطے کی صورتحال کا براہ راست عالمی تشویش سے تعلق ہے۔یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی وادیاں، پہاڑ اور میدان مصائب وآلام کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور اس کی وادیاں ظلم وزیادتی کی صداؤں سے گونج رہی ہیں جہاں روانڈا، سریبرینیکا، روہنگیا اور گجرات میں ہونے والے قتل عام کی المناک یادیں تازہ کررہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام اس وقت بدترین صورتحال سے نبردآزما ہیں۔انہوکں نے کہاکہ کچھ نے کہا ہے کہ ’’کشمیر قبرستان کی طرح خاموش ہے۔‘‘ اورکچھ کے مطابق یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے وہاں نسل کشی کے بہیمانہ اورانسانیت سوز واقعات بیان کرتے ہوئے جھرجھری آرہی ہے لیکن اس کے باوجود میں مجبور ہوں کہ یہ حقائق لازماً آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ نسل کشی سے متعلق کنونشن کے حوالے سے مقبوضہ خطے میں کشمیری عوام ایک الگ قومی، نسلی اور مذہبی گروپ ہے جن کی زندگیوں ، عزت وآبرو اور بقاء کو ، قاتل، عورتوں سے نفرت کرنے اور دیگر عقائد کے ماننے والوں سے شدید نفرت رکھنے والی حکومت سے سنگین خطرات لاحق ہیں، امریکہ میں قائم ایک عالمی شہری تنظیم مقبوضہ جموں وکشمیر میں جینوسائیڈ الرٹ پہلے ہی جاری کرچکی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر میں صورتحال نسل کشی کے دس درجے پہلے ہی عبور کرچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم وزیادتیوں کو چھپانے کی کوشش میں انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے بھارت ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’سرحد پار دہشت گردی‘‘ کا جھوٹا لیبل استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے متعدد دوطرفہ اور کثیرالطرفہ طریقہ ہائے کار تجویز کئے ہیں جو بھارت کے خودساختہ دعوں کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں جھوٹا ثابت کرتے ہیں،ہم نے حال ہی میں یہ تجویز بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کے مبصرین کی تعداد دوگنا کردی جائے جو لائن آف کنٹرول کی نگرانی کریں۔ بھارت ان تجاویز کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے ڈر ہے کہ بھارت ایک مرتبہ پھر ’’فالس فلیگ‘‘ آپریشنز کرے گا اور ’’دہشت گردی‘‘ کے عفریت کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کرسکتا ہے اور پاکستان پر حملہ بھی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کا ایک بھارتی حربہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کیلئے 2003ء میں ہونے والے معاہدے کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں ہیں، مسلسل آزاد کشمیر میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بھارت نے تمام عالمی انسانی بنیادی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے کلسٹر بم اور بھاری ہتھیار استعمال کئے ہیں۔ یہ عمل فوری بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی جارحانہ اور ڈریکونین اقدامات کے نتیجے میں جوہری جنوبی ایشیاء اور اس سے آگے تک، امن وسلامتی کو لاحق سنگین خطرات سے، میں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کومسلسل صورتحال کا احساس دلایا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے خطے میں وقوع پذیر صورتحال پر سلامتی کونسل کے ارکان کی مشاورت کا خیرمقدم کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سلامتی کونسل جموں وکشمیر کے تنازعہ سے جڑے امن وسلامتی کے پہلووں سے آگاہ ہے، انسانی حقوق کونسل کو ایک بڑا کردار ادا کرنا پڑیگا اور اسے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدام اٹھانا ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ میں انسانی حقوق کونسل کی توجہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جون 2018 اور جولائی 2019ء میں جاری ہونے والی دو رپورٹس کی جانب مبذول کراتے ہوئے زور دوں گا کہ ان رپورٹس پر کونسل غور کرے۔انہوں نے کہاکہ دونوں رپورٹس میں اس کونسل کو واضح سفارش کی گئی ہے کہ غیرجانبدار انکوائری کمشن تشکیل دیاجائے جو جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے۔انہوں نے کہاکہ میں اس پلیٹ فارم پر پرزور انداز میں کہہ رہا ہوں کہ پاکستان ان رپورٹس میں دی جانے والی تجاویز کی تائید کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کونسل میں ان دونوں رپورٹس پر بالخصوص بحث ہونی چاہیے اور اس ایوان کو متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ بھارت، پاکستان اور انسانی حقوق کونسل ان سفارشات پر عمل درآمد کرے۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو اسے انکوائری کمیشن کے مقبوضہ وادی جانے کے راستے میں رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہئیں جیسا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے سفارش کی ہے۔ پاکستان مجوزہ انکوائری کمیشن یا دیگر طریقہ ہائے کار کو اپنی طرف لائن آف کنٹرول تک رسائی دینے کے لئے تیار ہے جبکہ بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں بھی دوسری طرف بھارت رسائی دے۔انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کونسل کو کشمیری عوام کی حالت زار، خطرے کی سنگین علامات اور انسانی المیہ کے حل کے لئے فوری توجہ دینا ہوگی،اس مقصد کے لئے کونسل درج ذیل فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت پر زور دیا جائے کہ فوری طورپر پیلٹ گنز کا استعمال اورقتل وغارت گری بند کرے، کرفیو اٹھائے، کمیونیکشن بلیک آوٹ ختم کرے، آزادی اور بنیادی شہری حقوق بحال کرے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کو نشانہ بنانا بند کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، انسانی حقوق کے مختلف قوانین اور ضابطوں کے تحت ذمہ داریاں پوری کرے جیسا کہ عالمی قانون کے تحت تقاضا ہے۔ بھارتی ڈریکونین ایمرجنسی قوانین جموں وکشمیر میں لاگو رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہاکہ بے گناہ کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنیگن خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے اقدامات کرے۔اس تناظر میں انکوائری کمشن تشکیل دیا جائے جیسا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر نے تجویز کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر کے دفتر کو اجازت دے کہ انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت، مینڈینٹ ہولڈرز، بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کریں اور ان سے متلعق اپنی رپورٹ سے مستقل بنیادوں پر کونسل کو آگاہ کرے۔انہوں نے کہاکہ بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرے-انہوں نے کہا کہ میں نے انسانی حقوق کونسل کے دروازے پر دستک دی ہے جو انسانی حقوق پر عالمی ضمیر کی محافظ ہے تاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے لئے انصاف اور احترام کا تقاضاکروں۔انہوں نے کہاکہ آج اجتماعی انسانیت ، وہ اصول جسے ہم سب تسلیم کرتے ہیں اور جو ہمیں انسان بناتا ہے، داؤ پر لگا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی، تجارتی اور فروعی مفادات کی بناء پر ہماری سوچ اور اقدام کو متزلزل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس معزز ادارے کو عالمی منظر نامے پر شرمندہ وشرمسار ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ کونسل کے بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان اخلاقی طورپر خود کو پابند سمجھتا ہے کہ ایسا کچھ ہونے سے روکے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے ہمیں اس المیے سے لاتعلق نہیں رہنا چاہئے جو ہماری آنکھوں کے سامنے اس وقت رونما ہورہا ہے۔ ہمیں فیصلہ کن انداز میں اور پوری ثابت قدمی سے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ تاریخ ناکام، بربریت پر مبنی مہمات، حقائق کو تبدیل کرنے کے لئے آبادی کے تناسب کی جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ بھارت کو بھی اپنی کوشش میں منہ کی کھانی پڑے گی اور یہ کوشش ناکام ہوگی۔ لیکن آپ کی ذمہ داری ہے کہ بھارتی قابض افواج کو بے گناہوں کا مزید خون بہانے سے روکیں۔انہوں نے کہاکہ سات دہائیوں سے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں کہ استصواب رائے کا حق دینے کا ان سے کیاگیا وعدہ پورا کیاجائے۔ اس خطرناک ترین مرحلے میں غیرقانونی قبضے کا شکار، لوگوں کی مدد اور دادرسی میں اگر ہم ایک بارپھر ناکام ہوئے تو یاد رکھنا چاہئے کہ تاریخ ایک ایسا منصف ہے جو کسی کو معاف نہیں کرتی۔جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ ہم نے کاوشیں جاری رکھیں اور چون سال کے بعد مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں زیر بحث آیا۔ انہوں نے کہاکہ آج ہم اس مسئلے کو لیکر اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کونسل میں لیکر آئے ہیں ہم مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو او آئی سی کے سامنے بھی لیکر گئے،27 تاریخ کو وزیراعظم عمران خان اس مسئلے کو لیکر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی جا رہے ہیں،اس کے علاؤہ ہم سیاسی پہلوؤں کو بھی بروئے کار لا رہیہیں آپ نے دیکھا کہ چودہ اور پندرہ اگست کو پورے ملک نے یوم آزادی اور یوم سیاہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ 27 کو بھی آپ دیکھیں گے کہ نیویارک میں درد دل رکھنے والے پاکستانی ، کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع ہو گی اور نہتے کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے لائن آف کنٹرول پر جا کر اپنی افواج کے ساتھ 6 ستمبر کو اظہار یکجہتی کیا،جس طرح پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے متفقہ قرارداد منظور کی اسی طرح ہم تمام سیاسی پہلوؤں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ایک دفعہ پھر مظفرآباد جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ کشمیریوں کو باور کروا سکیں کہ وہ اس جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں،اس کے علاؤہ ہم قانونی پہلوؤں پر بھی مشاورت کر رہے ہیں یہاں آنے سے پہلے میری وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم سے مفصل مشاورت ہوئی ہم نے ایک خصوصی کشمیر سیل وزارتِ خارجہ میں تشکیل دے دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ہر پہلو کو مدنظر رکھ رہے ہیں اگر ہندوستان نے جارحیت کی کوشش کی تو ہم اپنے دفاع کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
وائس آف ایشیا11ستمبر 2019 خبر نمبر141

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •