Voice of Asia News

جعلی بینک اکانٹس کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آگئی

کراچی( وائس آف ایشیا )جعلی بینک اکانٹس کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جعلی بینک اکانٹس کیس میں سندھ بینک کے سابق سربراہ ندیم الطاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔ ندیم الطاف نے اومنی گروپ کی جعلی کمپنیوں کو 1 ارب روپے قرض دے کر خورد برد کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ مجسٹریٹ نے گرفتار ملزم ندیم الطاف کا اقبالی بیان ریکارڈ کیا۔چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ملزم ندیم الطاف کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی درخواست منظورکرلی۔ نیب کو دئے گئے بیان میں ملزم ندیم الطاف نیکہا کہ میں نیب کا ساتھ مکمل تعاون اور حقائق بتانے کو تیار ہوں۔ ملزم ندیم الطاف کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آج عدالت پیش کر دیا گیا۔ نیب نے گرفتار ملزم ندیم الطاف کی رہائی کی استدعا کی۔دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم کی وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست پر تمام قانونی نقاط پرعمل کر لیا گیا ہے، ندیم الطاف کا 164 کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ، ملزم کو چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے سامنے بھی پیش کر چکے ہیں، ندیم الطاف اب ہمارہ گواہ بن گیا ہے۔لہذا ملزم ندیم الطاف کے رہائی کی احکامات جاری کیے جائیں، ملزمان پر اومنی گروپ کی فرنٹ کمپنیوں کو غیر قانونی قرض دینے کا الزام عائد ہے۔ احتساب عدالت نے ندیم الطاف کو رہا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جعلی بینک اکانٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور کیس میں نامزد کی جانے والی دیگر اہم شخصیات کے خلاف دبئی کا ایک شہری ناصر عبد اﷲ لوتھا وعدہ معاف گواہ بن گیا تھا۔ناصر عبداﷲ لوتھا نے عید الاضحی سے قبل پاکستان آکر نیب کو بیان بھی ریکارڈ کروا دیا تھا۔ ناصر عبداﷲ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میری ملاقات ایوان صدر میں عبدالغنی مجید سے ہوئی تھی اور انہوں نے مجھے مل کر کام کرنے کی پیشکش کی تھی تاہم میں نے اپنا کام کیا اور کوئی کمیشن نہیں لیا تھا۔ ناصر لوتھا نے اپنے بیان میں کہا کہ میرا منی لانڈرنگ سے کوئی تعلق نہیں، عبدالغنی مجید نے میری دستاویزات کو غلط استعمال کیا، نیب کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کو تیار ہوں۔ناصرعبداﷲ لوتھا نے دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کرویا۔ ان کا بیان یڈیشنل ڈپٹی کمشنر وسیم احمد نے بطور مجسٹریٹ بیان ریکارڈ کیا۔ ناصرعبداﷲ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے گئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ناصر عبداﷲ سمٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیرمین ہیں۔ یاد رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف آئی اے) نے درجنوں جعلی بینک اکانٹس کا سراغ لگا لیا ہے جن کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ اس کیس میں سابق صدر آصف زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، عبدالغنی مجید، سابق چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکسچینج حسین لوائی سمیت متعدد افراد گرفتار ہیں۔
وائس آف ایشیا11ستمبر 2019 خبر نمبر162

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •