Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور پابندیوں سے نظام زندگی درہم برہم

سرینگر (وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں سخت کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندیاں مسلسل 37ویں روز جاری رہیں جس کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں یوم عاشور کے ماتمی جلوس نہیں نکالے جاسکے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض انتظامیہ نے یوم عاشور پر پابندی لگادی تھی اور سرینگر ، بڈگام اور مقبوضہ علاقے کے دیگر حصوں میں کسی کو بھی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حتی کہ صحافیوں، سرکاری ملازمین اور دیگر افراد جن کے پاس انتظامیہ کی طرف سے جاری کئے گئے باقاعدہ اجازت نامے تھے انہیں بھی گھروں سے باہر قدم نکالنے نہیں دیا گیا تاہم مقبوضہ علاقے کے بعض حصوں میں لوگ کرفیو اور پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہو ئے یوم عاشور کے جلوس نکالنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ بھارتی پولیس نے ان پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ کارگل میں ہزاروں عزادار گھروں سے نکلے اور نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور مقبوضہ علاقے کو دو یونین ٹیر یٹریز میں تقسیم کرنے کی مذمت کی ۔ عزاداروں نے آج یوم عاشور کے ایک بہت بڑے ماتمی جلوس کے دوران بینرز اور پوسٹرز اُٹھا رکھے تھے جن پر وادی کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور لداخ کو یونین ٹیر یٹری کا درجہ دینے کے خلاف نعرے درج تھے۔ دریں اثنا کرفیو اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے معمو لات زندگی مفلوج رہے۔ دکانیں بند اور سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی۔ وادی کشمیراور جموں خطے کے مختلف حصوں کا انٹرنیٹ، موبائیل فون سروسز اور ٹی وی چینلوں کی بندش کی وجہ سے دیگر دنیا سے رابطہ منقطع رہا۔ پابندیوں کی وجہ سے ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے ڈاکٹروں نے ذرائع ابلاغ کو بتا یا کہ ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ بر وقت رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کم از کم چھ مریض دم توڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی محاصرے کے نفاذ کے بعد اسپتالوں میں آنے والے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی ہوئی ہے اور صرف پانچ فیصد مریض ہی معا ئنہ کرانے کے لیے اسپتال پہنچ سکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں شدید علیل مریضوں کو لے جانے والی ایمبو لینسوں کو بھارتی پولیس کی طرف سے روکا جانا معمول بن چکا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں بہت سے علاقوں میں مقامی افراد نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے ان کے گھروں پر چھاپے مارے اور اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بجلی کے جھٹکے دیئے ۔انہیں مٹی کھانے اور آلودہ پانی پینے پر مجبور کیا۔ مقامی افراد نے مزید کہا کہ بھارتی فوجی ان کے کھانے پینے کی اشیا ء کو زہر آلود کر رہے ہیں، مویشیوں کو مار رہے ہیں اور ان کی خواتین کو زبردستی اٹھا لے جانے اور ان کے ساتھ شادی کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
وائس آف ایشیا11ستمبر 2019 خبر نمبر136

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •