Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیرمیں ذرائع مواصلات کی بندش سے صحافیوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا

 
سرینگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے گزشتہ 37روز سے نافذ کیے گئے سخت کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندیوں کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی صحا فیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقامی ذرائع ابلاغ کو زیادہ مشکل صورت حال درپیش ہے کیونکہ گزشتہ 37روز سے پابندیوں کی وجہ سے خبر رساں اداروں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے سرینگر سے شائع ہو نے والے 180سے زائد انگریزی اور اردو روزنامے شائع نہیں ہو سکے ہیں۔ دریں اثنا بھارتی ریاست اترپردیش کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کے کیمپس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے پر چار کشمیری طالب علموں کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ اقدام کشمیری طلبہ کے ایک گروپ کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں کرفیو کے نفاذ، ذرائع موصلات اور بھارتی مظالم کے خلاف مارچ منعقدکر نے اور نعرے لگانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی بگڑتی ہو ئی صورت حال کی گونج جنیوا میں سوئس پریس کلب میں سنائی دی جہاں ایک سمینار کے کشمیر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد شرکا ء نے مظلوم اور محصور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ سمینار کا اہتمام جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 42ویں اجلاس میں شرکت کرنے والے کشمیری وفد نے کیا تھا۔
وائس آف ایشیا11ستمبر 2019 خبر نمبر137

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •