Voice of Asia News

حکومت کا چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کیخلاف ریفرنس دائر کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد (وائس آف ایشیا )حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دو نئے تعینات کردہ ارکان سے حلف نہ لینے پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنیک کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالہ سے قانونی مشاورت مکمل کر لی ہے۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سندھ اور بلوچستان کے اراکین الیکشن کمیشن سے حلف نہ لینا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کے بعد جسٹس سردار محمد رضا خان چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لئے موزوں نہیں رہے۔ نجی ٹی وی زرائع کے مطابق حکومتی ریفرنس میں جسٹس سردار محمد رضا خان کو عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی جائے گی۔ وزیر اعظم آفس کی جانب سے قانونی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور کسی وقت بھی یہ ریفرنس دائر کر دیا جائے گا۔ جبکہ دوسری جانب نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ اصولی طور چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا خان کی جانب سے نئے ارکان الیکشن کمیشن سے حلف نہ لینے کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق درست تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کے پاس الیکشن کمیشن کے اراکین کے تقرر کے کوئی اختیارات نہیں ہیں ۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا تو حکومت پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہنمائی حاصل کرتی تاہم صدر مملکت کو الیکشن کمیشن کے اراکین کے تقرر کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔اگر صدر مملکت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائیں گے تو ہمیں نظر یہ آرہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس ریفرنس کو خارج کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئین اور قانون کے مطابق درست فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفرنس تو صدر مملکت کے خلاف بنتا ہے کہ انہوں نے کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر کیا۔
وائس آف ایشیا12ستمبر 2019 خبر نمبر91

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •