Voice of Asia News

صحافیوں کا قتل۔۔ آخر کیوں ۔۔۔۔؟ محمد نوازطاہر

پاکستان میں قتل کردیے جانے صحافیوں کی تفصیلات بلوچستان کے ماسوا شائد کسی کے پاس نہیں،باقی شہروں میں مختلف این جی اوز اعدادوشمار شائع کرتی ہیں ، ان پر کس قدر انحصار کیا جاسکتا ہے یہ بیان کرنا شائد کلی طور مناسب نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ،ِ ان تنظیموں کے بیانات دنیا میں کہیں نہ کہیں شائع ، براڈ کاسٹ اور رپورٹ ہوجاتے ہیں ، باقی تنظیمیں عموماً چند روز احتجاج کرتی ہیں اور پھر ریکارڈ سرد خانے سے ایک دوبرسی تک یاد رہتا ہے ، مکمل تفصیلات یا حتمی تفصیلات کا بہر حال فقدان ہے ، میں نے اعدادوشماراور دیگر تفصیلات اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی جس میں نیشنل پریس کلب کے صدور شکیل انجم اورشکیل قرار دونوں نے معاونت کا وعدہ کیا ، کچھ میری مجبوریاں ، مسائل یا کوتاہی شامل ہوگی ، یہ کوشش تاحال کوشش ہی ہے لیکن کام جاری ہے۔یہ قتل کیوں ہوئے ؟ ایک ایسا سوال ہے کہ اس سوال کے الفاظ جمہوری حکمران اور مقتدر قوتیں صرف اپنے بیانات کو سپورٹ دینے کی حد تک تو کبھی کبھی استعمال کرتی ہونگی لیکن اپنے اقتدار کے دوران یہ سوال اٹھانے نہیں دیتیں ۔ میڈیا انڈسٹری کی نمائندہ تنظیمیں بھی گاہے بگاہے ، جب بھی کوئی ساتھی اس دنیا سے رخصت کردیا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھاتی ہیں اور پھر حسبِ استطاعت و استعداد گفتگو کرکے کتابِ خاموشی کا وقت الٹ اور کتاب ٹھپ دیتی ہیں حالانکہ یہ ایسا سوال ہے جو مسلسل کئی روز کی بحث اور سفارشات کا متقاضی ہے ۔
کچھ عرصے سے کہ’نفلیکٹ زون ‘ سے باہر مختلف شہروں ، مضافات اور دوردراز علاقوں میں صحافیوں کا کے قتل کے واقعات زیادہ رپورٹ ہورہے ہیں جہاں صحافتی ذمہ داریوں کی بنا پر قتل کا جواز نہیں بنتا ( ویسے کسی قتل کا جواز نہیں ، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قراردیا گیا ہے ، اور یہ اشتعال کلا نتیجہ ہوتا ہے )، پھر ان واقعات کی تفتیش کن خطوط پر ہوئی ، قاتل انجام کو پہنچے یا نہیں ، قتل کے محرکات سامنے نہیں لائے گئے ، ؟ اس پوائنٹ پر نہ تو میڈیا انڈسٹری کی کسی نمائندیہ تنظیم نے باقاعدہ کام کیا اور نہ ہی این جی اوز نے اس میں سرکھپانا مناسب سمجھا ( اب تک کی دستیاب تفصیلات کے مطابق) اور نہ ہی ریاست کے کسی ادارے نے ایسا سوچنا ضرور ی خیال کیا۔ دوردراز شہروں مضافات میں برے شہرون کی نسبت صحافی قتل کیوں ہوتے ہیں ، اس سوال پر مختلف مرحلوں یا مختلف جزیات کے ساتھ غور کیا جاسکتا ہے ۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ جو صحافی قتل کیے گئے ان کی پروفیشنل سٹینڈنگ کیا تھی ؟ ان کی پیشے سے کمٹمنٹ کیا تھی ؟ وہ میڈیا کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع آمدن کیا رکھتے تھے ؟ ان کی ذاتی شہرت کیا تھی ، خاندانی پس منظر کیا تھا ؟ خاندانی دشمی یا کاروباری رقابت کیا تھی ؟ وہ اس شعبے میں میں صحافت کیلئے آئے یا سرف صحافت کا لبادہ اوڑھا ؟ وہ جس ادارے کے ساتھ کام کررہے تھے ، جن کی نمائندگی کررہے تھے ، وہ نمائندگی پیشہ وراناہ صلاحیت پی دی گئی تھی یا پچھلے اڑھائی عشروں سے ڈالی جانے والی بُری ترین عادت بلکہ پیشہ ورارانہ کرپشن ، اور پیشہ صحافت کی بدترین دشمن پریکٹس تھی یعنی وہ ادارے سے کچھ وصول کرنے کے بجائے خود پیسے دیکر نمائندے بنے تھے ؟ ان کی ایسی کونسی خبریں یا دیگر صحافتی مواد تھا جو قتل کے لئے اشتعال کا موجب بن سکتا ہو؟
لاہور میں ایک اخبار کا مالک قتل کردیا گیا ، وجہ اس کی بلیک میلنگ قرار پائی لیکن یہ کسی جگہ ، کسی تنظیم نے رپورٹ کیا نہ اس پر بحث کی گئی ، یہ ایک ڈمی اخبار تھا ، بلیک میلنگ کسی نہ کسی طرح سے اب سبھی اشاعتی و نشریاتی ادارے کررہے ہیں یا مفاد اٹھا ( oblige)ہو رہے( بلکہ ایک طرح سے خود کو گروہ رکواتے ہیں) اور اسی بنا پر زبان بند رکھنے کو غیر اعلانیہ سنسر بھی قراردیتے ہیں ، یہ الگ بات کہ غیر اعلانیہ سنسر شپ کسی نہ کسی طور ہوتی ہے ، اس کے محرکات ، جواز اور ’معاملات‘ الگ ہوتے ہیں ، ان پر الگ بحث کی جاسکتی ہے ۔ یہ زرد صحافت ہے اور ذرد صحافت آج ہی شروع نہیں ہوئی ، یہ تب سے ہے جب اردو صحافت ابھی کوکھ سے جھانک رہی تھی۔ بڑے شہروں میں بھی اب ایسے گروہ واضح طور دکھائی دیتے ہیں بلکہ اس حوالے سینئر صحافی خاور نعیم ہاشمی ایک اپنی جونئر ساتھی خاتون کا مراسلہ اپنے کالم میں بھی شائع کرچکے ہیں ، ایسے گروہوں کے خلاف میڈیا انڈسٹری کی نمائندہ تنظیمیں اور پریس کلب بھی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھاتیں ، یہ گروہ غنڈو ں کی طرح دندناتے پھرتے ہیں ، کچھ عرصہ قبل لاہور سے ایک صاحب کو نیب نے گرفتار کیا جس پر بہت سے لوگ اعتراض کرتے دیکھے گئے کہ ایک صحافی کی گرفتاری پر کسی یونین اور پریس کلب نے مذمتی بیان جاری نہیں کیا ؟ جبکہ گرفتار ہونے والے صاحب پر الزام تھا کہ وہ کسی کو نیب کا افسر بن کر رقوم بٹورنے کی کوشش کررہے تھے اور نیب کے مطابق ان صاحب سے مبینہ طور پر نیب کا کوئی جعلی لیٹر ہیڈ بھی برآمد ہوا تھا ۔ یہ الزام اگر محض الزام تھا ایک دو ہفتے میں ضمانت مل جانا چاہئے تھی ، ایسے واقعات ایک نہیں کئی ہیں کہ کسی ڈمی اخبار کا یا نمائندگی فروخت کرنے والے کسی اشعاتی و نشریاتی ادارے کا کارڈ حاصل کیا اور ’ دھندے‘ پر لگ گئے۔۔۔۔ ان حالات میں اگر کوئی کارڈ ہولڈر کسی کے اشتعال کے باعث قتل کردیا جائے تو کیا وہ صحافت اور صحافی کا قتل ہوگا یا ان صحافیوں کی عظمت کا قتل ہوگا جو اس مقدس پیشے کے وقارپر جان قربان کرکے شہادت کے رُتبے پر فائز ہوئے ۔ یہ تحریر ایسے عظیم ساتھیوں اور چاہنے والوں کی دل آزاری کے لئے نہیں بلکہ انہیں سیلیوٹ کرنے کیلئے اور اس کا مقصدف بھی یہ حقائق جاننا ہے کہ کیا وقعہ جو لوگ قتل کردیے گئے وہ صرف معاشرے میں برھتی ہوئے عدم برداشت کی بھینٹ چڑھے یا پھر قتل کرنے والے ’تنگ آمد بجنگ آمد‘۔۔۔۔ یہ ایک لمحہ فکریہ اور اس پر غور کرنا میڈیا انڈسٹری کے ہر رکن کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی میں تاخیر باعثِ ہلاکت ہے ۔

reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •