Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں 40روز میں4ہزار گرفتار کشمیری خواتین مردوں کے شانہ بشانہ لڑرہی ہیں. رپورٹ

نئی دہلی (وائس آف ایشیا) بھارت کے سرکاری اعدادوشمارنے مقبوضہ کشمیرمیں ظلم وستم بے نقاب کردیا ہے، بھارتی حکام نے گزشتہ 40روز میں4ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا اور سابق وزرائے اعلیٰ سمیت200سے زائد سیاستدان گرفتار ہیں۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے حکومتی ترجمان نے مودی سرکا کا پول کھول دیا، بھارتی حکام کی رپورٹ میں چشم کشا انکشافات کئے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین کریک ڈا?ن جاری ہے، سرکاری رپورٹ میں وادی کے 13 پولیس اضلاع کی تفصیلات ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بھارتی حکام نے گذشتہ 40روز میں 4ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا، جن میں سابق وزراء اعلیٰ سمیت 2سو زائد سیاستدان قید ہیں، تین ہزار سے زائد افراد صرف پتھرا? کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے جبکہ ڈیڑھ سو زائد افراد شدت پسند گروپوں سے تعلق پر گرفتار ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا بدستور 12سو سے زائد کئی روز سے گرفتار اور قانونی حقوق سے محروم بہت بڑی تعداد گھروں میں نظر بند ہے‘اعداد و شمار پر ردعمل اور گرفتاریوں کی وجوہات جاننے کیلئے عالمی ذرائع ابلاغ کے رابطوں پر بھارتی حکومت جواب نہیں دے رہی، بھارتی وزارت داخلہ اور کشمیر پولیس حکام نے اس معاملے پرپراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے. رپورٹ میں کہا گیا کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے نام پر اکثر گرفتاریاں کی گئیں ، سکیورٹی فورسز اور مقامی کشمیریوں کے درمیان جھڑپیں معمول بن چکی ہیں مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز مسلسل بند ہیں لاکھوں لوگوں کو ادویات اور اشیائے خوراک تک رسائی نہیں۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں سری نگر کے علاقے آنچر میں بھی بھارتی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور کشمیری خواتین اور لڑکیاں بھی مردوں کے شانہ بشانہ لڑرہی ہیں. برطانوی جریدے نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شائع مضمون میں بتایا ہے کہ آرٹیکل تھری سیونٹی کے خاتمے کے بعد کشمیری عوام کس طرح کی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔جریدے میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے آنچرکی صورتحال بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آنچر جھیل کے نزدیک واقعے اس ہم نام علاقے میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین اور لڑکیاں بھی بھارتی فوجیوں کیخلاف برسر پیکار ہیں. مضمون میں علاقے میں رہائش پذیر فضی نامی خاتون کا تذکرہ کیا گیا ہے ، اور بتایا گیا ہے کہ خاتون مقبوضہ کشمیر کے حالات کو قیامت سے تشبیہہ دیتی ہے، فضی کا کہنا ہے کہ لوگوں نے صرف قیامت کا لفظ سناہوگا لیکن وہ قیامت کو جھیل رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے حالات بتاتے ہوئے فضی نے بتایا کہ مزار کے قریب نماز جاری تھی اچانک پلیٹ گنز اور آنسوگیس کی شیلنگ بھارتی فوج کی جانب سے کردی گئی جس کے فوری بعد مقامی رہائشی افراد فوری طور پر بھارتی فوج سے نمٹنے کیلئے پہنچ گئے تاکہ ان کا مقابلہ کیا جاسکے اور بھارتی فوج اور مقامی افراد کے درمیان یہ مقابلہ پانچ گھنٹے جاری رہا. مضمون میں مزید بتایا گیاہے کہ گزشتہ دہائیوں میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے مقامی افراد بھارتی پیراملٹری فورسز اور پولیس کو علاقے داخل ہونے نہیں دے رہے ہیں۔ایک شخص نے بھارتی فوج سے مقابلے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ بھارتی فوج کا مقابلہ کرتے ہیں تو علاقے کی فیملیز اور خواتین بھی ان کی اس میں معاونت کررہی ہیں. اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی فوج کا مقابلہ اپنے نوجوانوں کو بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتاری سے بچانے ، خواتین کی عزت کا تحفظ ، اور گھروں کو یرغمال ہونے سے بچانے کیلئے کررہے ہیں۔سرینگر کے دوسرے علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور مارکیٹیں تاحال حکومت کیخلاف احتجاج کے طور پر بند ہیں‘مضمون میں ایک سبحان نامی نوجوان سے بات چیت بھی بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ سبحان نامی نوجوان نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارتی حکومت یہ کہتی ہے مقبوضہ وادی میں حالات معمولے کے مطابق ہیں تو یہ کس طرح کا معمول ہے۔
وائس آف ایشیا13ستمبر 2019 خبر نمبر33

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •