Voice of Asia News

سقوط کشمیر پر اقوام متحدہ اور پاکستانی حکمرانوں کی بے بسی: محمد قیصر چوہان

 

عالمی دہشت گرد امریکا اور اسرائیل کی سرپرستی میں امن کا دُشمن بھارت آئے روز پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیاں کرتا ہے، سویلین آبادی پر بمباری کرتا ہے، ہر دوسرے روز کنٹرول لائن پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ پاکستان صرف بھارتی سفیرکو طلب کرتا ہے، احتجاج کرتا ہے اور سخت نتائج کی تنبیہ کرتا ہے۔ یہ بھارت کی روایتی جنگ ہے پاکستان اس روایتی جنگ میں بھارت سے کسی قسم کا کوئی مقابلہ نہیں کر رہا۔بھارت سے لاشوں کا تحفہ اور پاکستان سے صرف احتجاجی مراسلے۔ اسی رویے نے بھارت کی ہمت افزائی کی اور اس نے کشمیر میں 370 اور 35 اے ختم کر ڈالے۔ پاکستان سے صرف زبانی دعوعے کئے گئے اور اب تک کئے جارہے ہیں۔
کشمیر میں بھی جب تک جہاد جاری رہا اور اس کی تھوڑی بہت پشتیبانی جاری رہی کشمیریوں کو زندگی ملی ہوئی تھی۔ بھارت کی 9 لاکھ فوج بدحواس رہتی تھی اس کے جوان نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہو رہے تھے۔لیکن جب جہاد مجاہدین اور تحریک مزاحمت کا راستہ پاکستان کی جانب سے بند کردیا گیا تو پھر کشمیری بھی مرنے لگے اور مجاہدین کی شہادتیں بھی بڑھ گئیں۔کشمیر میں جہاد کے نتیجے میں دو مواقع ایسے آئے تھے جب پاکستان اپنی شرائط پر مسئلہ کشمیر حل کرا سکتا تھا۔ ایک موقع تو جنرل پرویز نے ضائع کیا بلکہ الٹا پاکستان کو امریکی گود میں ڈال دیا تھا۔ اگر وہ افغانستان میں امریکی افواج سے تعاون کے بدلے کشمیر میں استصواب کرا لیتے اور کشمیر کا پاکستان سے الحاق یقینی بنا لیتے تو آج پاکستانی قوم شرمندہ نہ ہوتی۔ افغان جنگ کا نتیجہ تو یہی نکلنا تھا جو آج نکلا ہے اصل بات تو یہ ہے کہ دنیا میں پاکستان سر اٹھا کر چلے گا یا ہر پاکستانی سر جھکا کر چلے گا۔ 5 اگست کے بعد سے مودی کے روایتی حملے نے بھارتی فوج اور بھارتی قوم کو سر اٹھا کر چلنے کا حوصلہ دے دیا ہے اور پاکستان میں سلیکٹڈ حکمران اپوزیشن کے خلاف سلیکٹڈ احتساب میں لگے ہوئے ہیں۔
سقوط کشمیر کے بعد کوئی عملی قدم اُٹھانے کے بجائے وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی نے قوم کو پھر ایک لالی پاپ دے دیا ہے۔ 13 ستمبرجمعہ کو مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا عظم نے کشمیریوں سے کہا کہ کوئی عملی قدم اُٹھانے سے پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے لیے ایسا اسٹینڈ لوں گا جو آج تک کسی نے نہیں لیا۔ پوری پاکستانی قوم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے گزشتہ 72 برسوں میں اقوام متحدہ نے کیا تیر مارلیا جو اب اس سے اُمیدیں رکھی جارہی ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی متفقہ منظور کردہ قراردادیں موجود ہیں مگر ان قراردادوں پر عملدرآمد کی نہ تو کوئی عملی صورت موجود ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کو اس سے کوئی دلچسپی ہے۔ اب 27 ستمبر کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک جذباتی تقریر کرنے کے سوا وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی مزید کیا کرسکیں گے جو وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ 27 ستمبر کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی نے امریکی صدر ٹرمپ سے متوقع ملاقات کا بھی ذکر کچھ اس انداز میں کیا ہے کہ جیسے اس میں کوئی بڑا بریک تھرو ہونے والا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ 5 اگست کو جو قدم مودی نے اٹھایا ہے ، اس کا علم ٹرمپ اور عمران نیازی کو پہلے سے تھا۔ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا ذکر کرکے پوائنٹ اسکورنگ کی اور پاکستانی وزیر اعظم عمران نیازی تو اس پر پھولے نہ سمائے کہ انہوں نے اسے کرکٹ کے ورلڈ کپ کی دوسری فتح سے تعبیر کردیا۔ عملی طور پر ٹرمپ نے نہ صرف سقوط کشمیر کو تسلیم کیا ہے بلکہ اس کی حمایت کرتے ہوئے پاکستانیوں ہی کو تحمل کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم عمران نیازی نے روسی ٹیلی وڑن رشین ٹوڈے کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں شکوہ کیا ہے کہ عالمی برادری کیلئے معیشت اور تجارت زیادہ اہم ہے اورعالمی برادری نے سقوط کشمیر پر وہ ردعمل نہیں دیا جو دیا جانا چاہیے تھا۔ اپنے انٹرویومیں وزیر اعظم عمران نیازی نے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اور وہاں کی صورتحال شام سے بھی بدتر ہوسکتی ہے۔ جس لمحے وزیر اعظم عمران نیازی عالمی برادری کو معیشت اور تجارت عزیز ہونے کا طعنہ دے رہے تھے ، اس لمحے بھی پاکستان نے بھارت کا معاشی مقاطعہ نہیں کیا تھا۔ بھارت سے درآمدات بھی جاری ہیں اور برآمدات بھی۔ ماوے اور گٹکے سمیت دیگر مضر صحت اشیاء کی اسمگلنگ بھی اسی زور شور سے جاری ہے اور پاکستان کی فضاؤں پر سے بھارتی طیارے بھی اسی طرح دندناتے ہوئے گزررہے ہیں۔افغانستان سے تجارت کے بہانے بھارتی مصنوعات سے لدے ٹرک بھی پاکستانی سڑکوں کو روندتے پھر رہے ہیں۔ جو ملک اپنی فضاؤں پر سے بھارتی طیاروں کی آمدورفت پر پابندی نہیں لگاسکتا اور اپنے ملک سے قیمتی پہاڑی نمک کی کوڑیوں کے مول بھارت کو برآمد نہیں روک سکتا وہ کس منہ سے عالمی برادری کو معیشت اور تجارت پر مطعون کرسکتا ہے۔ اقوام متحدہ تو بھارت کے خلاف اس وقت کوئی ایکشن لے گی جب پاکستان کوئی ایکشن لینے میں سنجیدہ ہوگا۔ پاکستان میں تو عملی طور پر یہ صورتحال ہے کہ ہر سطح پر سقوط کشمیر کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور روز بیانات کی توپ چلائی جاتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھ نکال لی جائے گی۔ 13 ستمبرجمعہ کو بھی وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی کے اتحادی اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے مظفر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان جان ہتھیلی پر رکھ کر مودی کے حملے کا انتظار کررہے ہیں۔ پوری حکومت کے نزدیک سقوط کشمیر پاکستان پر حملہ ہی نہیں ہے اور وہ گیدڑ بھبکیاں دے رہے ہیں کہ بقیہ پاکستان پر حملہ ہوا تو دیکھ لیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ بھارت پاکستان پر اب حملہ کرے گا ہی کیوں۔ اسے جو حاصل کرنا تھا ، وہ اس نے حاصل کرلیا۔ حکومت پاکستان کا یہ بیانیہ کہ اسے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی ، ہر سطح پر واضح ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے بھی اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کا تو مطالبہ کیا مگرمقبوضہ وادی کی 5 اگست سے پہلے کی حیثیت کی بحالی اور پھر وہاں پر استصواب رائے کروانے کے مطالبے سے اجتناب کیا۔ اس سب کا واضح مطلب ہی یہ ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی اوران کے سیلیکٹرز نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو تسلیم کرلیا ہے اور اس بھارتی اقدام کی مزاحمت کا ان کا کوئی ارادہ ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی سب مل کر مودی کو کہتے ہیں کہ اب کی مار تو بتاؤں اور کبھی مقبوضہ کشمیر میں جبر ، تشدد اور انسانی المیے کا نام لے کر اصل مسئلہ کشمیر سے پاکستانیوں اور پوری دنیا کی توجہ ہٹاتے ہیں۔ نریندرمودی نے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو لگایا ہی اس لئے ہے اور وہاں پر آر ایس ایس کے غنڈے اور بھارتی فوجی اسی لئے بدترین مظالم کررہے ہیں کہ دنیا کی توجہ اصل مسئلے سقوط کشمیر سے ہٹائی جاسکے جس میں وہ کامیاب ہیں۔ سقوط کشمیر کا تذکرہ نہ کرکے اورکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور پھر وہاں استصواب رائے کرانے کا مطالبہ نہ کرکے صرف مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا ڈھنڈورا پیٹ کر پاکستان بھارت کا کشمیر پر تسلط مستحکم کرنے میں عملی مدد کررہا ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ دنیا کو بتائے بھارت کو مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ فوج اس لئے رکھنے کی ضرورت پڑ رہی ہے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ اس حریت پسندی کو کچلنے کیلئے بھارت نے وہاں پر بہیمانہ تشدد کا بازار گرم کردیا ہے۔
مسلم ممالک کے حکمران اگر اسلامی غیرت کا مظاہرہ کریں توبھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ لیکن اپنے مفادات کے سامنے کشمیریوں کے خون کی کوئی حقیقت نہیں۔ بھارت کو بھی مسلم ممالک کی بے غیرتی کا خوب اندازہ ہے۔ اگر 72برس سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جا رہا تھا تو آج اسے دشمن کے مکمل قبضے میں دیکھ کر اطمینان کیوں ہے۔ اسے چھڑانے کیلئے بے چین کیوں نہیں ہیں۔ احتجاج، مطالبے اور مظاہرے کرنا حکمرانوں کا کام نہیں ہوتا ہے۔ ہمت ہے تو اقدام کریں ورنہ استعفیٰ دے کر گھر جائیں پاکستان کو مجاہد قیادت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کشمیر مذاکرات اور بیانات سے آزاد نہیں ہو گا بلکہ کشمیر کی آزادی کا راز صرف اور صرف جہاد میں ہی مضمر ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •