Voice of Asia News

انٹر نیشنل کرکٹ بحال پی سی بی کا میڈیا ڈپارٹمنٹ فرعون بن گیا:محمد قیصر چوہان

دُنیا بھر میں میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ اس اہمیت کا اعتراف ہی ہے کہ اہم ترین ادارے میں باقاعدہ میڈیا سیل قائم کیا جاتا ہے جہاں موجود لوگوں کی ذمہ داری میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ میڈیا کے نمائندوں سے تعلق بہتر بنائے جائیں تاکہ ادارے کی عمدہ ساکھ کسی منفی خبر کی بدولت متاثر نہ ہو۔لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کا میڈیا ڈپارٹمنٹ پاک سر زمین پر انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوتے ہی فرعون بن گیا۔ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کیمونیکیشن سمیع الحسن برنی ،پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینئر میڈیا منیجر اینڈ آپریشن رضا راشد اور میڈیا ایکرڈیشن اینڈ آپریشن آفیسر شکیل خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی میڈیا سروسز میں بہتری اور میڈیا نمائندگان کو احسن انداز میں ذمہ داریاں نبھانے کیلئے سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں ڈومیسٹک سیزن 20-2019 کیلئے میڈیا رجسٹریشن عمل شروع کیا تو پی سی بی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ نے اقرباء پروری کی انتہا کرتے ہوئے اپنے درباری اور چہتے صحافیوں کو میڈیا پاسزبناکردئیے جبکہ کئی ایسے بھی صحافیوں کو میڈیا پاسز بنا کردئیے گئے جن کے اخبارات بند ہو چکے ہیں یا پھروہ کسی بھی ادارے سے وابستہ نہیں ہیں۔ جبکہ لاہور سمیت دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے کئی سینئر رپورٹرز اور فوٹو گرافرز کو میڈیا پاسز سے محروم رکھا گیا ۔سی بی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ نے کئی سینئر صحافیوں اور فوٹوگرافرز کو صرف میڈیا ایکرڈیشن کارڈز دئیے جبکہ ایسی قلمی طوائفیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اشاروں پر رقص کرتی ہیں کو پورا میڈیا بیگ دیا گیا۔
جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستانی سر زمین پر تین ون ڈے اوراتنے ہی ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میچوں کی سریز کھیلنے کیلئے آئی تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا ڈپارٹمنٹ نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور اقراء پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ رپورٹرز ، فوٹو گرافرز اور کیمرہ مینوں کو میڈیا ایکرڈیشن کارڈز جاری کئے ۔میڈیا سے وابست کئی ایسے لوگوں کومیڈیا ایکرڈیشن بنا کر دئیے گئے جو کسی بھی ادارے میں کام نہیں کرتے ۔ جبکہ ایسے لوگوں کو بھی نوازاگیا سوشل میڈیا سے وابستہ ہیں۔
اگر ہم ماضی میں جانکھیں تو پتہ چلے گا کہ پی سی بی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کی درباریوں کو نوازنے کی روایت کافی پرانی ہے ۔ انیس برس قبل پاکستان کرکٹ بورڈکے میڈیا سیل کے انچارج ڈاکٹر نعمان نیاز تھے ان کے بعد خالد بٹ آئے جنہوں نے اپنا ایک مخصوص گروپ بنا رکھا تھاان کی پوری ذمہ داریاں بھی انہی درباری صحافیوں کی مخصوص لابی کی آؤ بھگت کرنے کے گرد گھومتی تھیں اسی گروہ کو ٹیم کے ساتھ بین الاقوامی دوروں پر روانہ کیا جاتا اور میچز کیلئے مخصوص ٹکٹ بھی جاری کئے جاتے جبکہ کئی اہل جونیئر صحافیوں کو یکسر نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا اسی غیر ذمہ دارانہ رویے کی بدولت کئی صحافیوں نے احتجاج بھی کیا لیکن خالد بٹ اور ان کے حواریوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے اس مخصوص ٹولے نے ان بے چارے جونیئرز کے خلاف سازشیں شروع کر دیں نتیجتاً کئی نوجوان صحافی سپورٹس رپورٹنگ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے لیکن جو لوگ ڈٹے رہے ان کی کوششوں سے میڈیا سیل کے ’’چوہدری‘‘ کی چھٹی ہو گئی۔ اس کے بعداس وقت کے چیئرمین پی سی بی لیفٹینٹ جنرل توقیر ضیاء کی نظر کرم، کراچی سے تعلق رکھنے والے انگریزی زبان کے ایک معروف قومی روزنامے کے صحافی پر پڑی جو بورڈ کے خلاف دھڑا دھڑ کالم لکھنے میں مصروف تھا سواس کی زباں بندی بھی ضروری تھی جنرل صاحب نے نوکری کی آفر کی تو صاحب نے مخالفت چھوڑی اور فوری بورڈ کی گود میں آ بیٹھے اور لاڈلے بن گئے۔ منافقت کی انتہاء دیکھئے کہ چند دن پہلے تک مخالفت کرنے والے شخص کی زبان سے پہلی تنخواہ وصول کئے بغیر ہی بورڈ کیلئے توصیفی و تعریفی کلمات جاری ہو گئے۔ بے ضمیری کی ’’عمدہ‘‘ مثال قائم کرنے والے اس شخص کا نام تھا سمیع الحسن برنی۔ کرکٹ بورڈ کا مرکزی دفتر لاہور میں ہونے کے ناطے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں کسی مقامی صحافی کو ذمہ داری دی جاتی۔ اس کیلئے کئی نام موزوں تھے۔ لیکن کرکٹ بورڈ کو تو بولڈ شخص کی بجائے ایک کٹھ پتلی کی ضرورت تھی جو ان کے رنگ میں بھی رنگ جاتی اور اوپر والوں کی مرضی سے رقص بھی کرتی اس کٹھ پتلی کے کردار کیلئے سمیع الحسن برنی سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا؟سو منتخب کر لیا گیا۔ اس ’’سفارشی تقرری‘‘ کا اعتراف جنرل توقیر ضیاء نے یوں کیا تھاکہ ’’ایک قومی اخبار کا صحافی ہمارے خلاف لکھ رہا تھا ہم نے اسے نوکری دی ہے تو اب وہ کہتا ہے کہ واقعی یہاں کام کرنا بہت مشکل ہے۔ ‘‘ بہر حال ابتداء میں سمیع الحسن برنی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ خالد بٹ کی نوازشوں تلے دبے صحافیوں کے گروپ نے ان کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی اخبارات میں خبریں بھی شائع ہوئیں لیکن پھر مراعات کی ’’جادوئی چھڑی‘‘ سے سبھی کو رام کر لیا گیا۔ صحافیوں کے اس مضبوط گروپ نے ’’اقتدار‘‘ میں آنے کے بعد ایک بار پھر جونیئر صحافیوں کیلئے مسائل کھڑے کرنے شروع کر دیئے جبکہ سمیع الحسن برنی صرف دیکھتے رہے۔ انہی کے دورمیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے جب ’’میڈیا گائیڈ‘‘ چھپوائی تو انہوں نے باقاعدہ سازش کر کے لاہور کے کئی ’’ایکٹو‘‘ صحافیوں کے ناموں کا اندراج نہ ہونے دیا اور اپنے منطور نظر ٹولے کے ایسے لوگوں کے نام شائع کر وا دیئے جن کا تعلق کسی بھی اخبار سے نہیں اگر وہ صحافی تھے تو ان کے اخبارات بند ہوئے بھی عرصہ بیت چلا لیکن یہاں پر میرٹ تو منظور نظر ہونا ہے سو وہ اس پر پورا اترتے تھے شامل ہو گئے۔ جب ان کی نا اہلی کا شور اخبارات میں سنائی دیا تو ’’میڈیا گائیڈ‘‘ دوبارہ چھپوانے کا اہتمام کیا گیا جو میڈیا سیل کی نا اہلی کا بڑا اعتراف تھا اور اس نا اہلی سے کرکٹ بورڈ کو لاکھوں کا نقصان پہنچا۔ وقتی طور پر میڈیا سیل والوں کو ندامت تو ہوئی لیکن پھر یہ شرمندگی بھی آئی ہو گئی اور پہلے والی روش پر دوبارہ چل پڑے۔ سینئر صحافی ہونے کے ناطے سمیع الحسن برنی کو چاہیے تو یہ تھا کہ جونیئرز کو گائیڈ کرتے لیکن انہوں نے باقاعدہ توہین آمیز رویہ اپنا لیا اور جونیئر صحافیوں کو گالیاں تک دینی شروع کر دیں۔ 2003 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ایک صحافی کو محض اس لیے غلیظ گالیوں سے نوازا کہ اس نے سوال ذرا چبھتا پوچھ لیا تھا جو ’’صاحب‘‘ کی طبیعت پر نا گوارا گزرا۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں بلکہ اسے ان گنت واقعات کرکٹ بورڈ کے میڈیا سیل کے چہرے پر کلنک کی صورت دکھائی دے رہے ہیں سپورٹس کی صحافتی تاریخ سے وہ دن کیسے خارج کیا جا سکتا ہے جب کرکٹ ٹیم کا فنکاروں سے میچ تھا تو شجاع نامی کرکٹ بورڈ کے ملازم نے اپنے دوستوں کے ہمراہ کئی سینئر صحافیوں کو دھکے دیئے اور کیمرے چھین لیے یاد رہے یہ وہی شجاع ہے جسے صرف جنید ضیاء کادوست ہونے کی بدولت کرکٹ بورڈ میں نوکری عنائت ہوئی حالانکہ اس کا تو میڈیا سیل سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی صحافیوں سے بات کرنا اس کی ذمہ داری میں شامل تھا لیکن سمیع الحسن برنی اور اس کے دورے ساتھیوں کی موجودگی میں وہ خوب گرجا اور برسا بھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں آنے کے بعد سمیع الحسن برنی نے بھی نوکری کرنے کا فن سیکھ لیا۔اس دوران اس نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)میں تعلقات بنا لئے اور پھر کرکٹ کے عالمی ادارے میں نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ احسان مانی بنے تو سمیع الحسن برنی نے رواں برس کے شروع میں پی سی بی میں ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کیمونیکیشن کا عہدہ سنبھالا۔اور ایک بار پھر اپنی پرانی روش پر چلتے ہوئے اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر کئی سینئر صحافیوں کو گالیاں دینا شروع کردیں اور سری لنکا کے خلاف ہوم سریز کیلئے اپنے منظور نظر صحافیوں ،فوٹوگرافرز اور کیمرہ مینوں سمیت سوشل میڈیا سے وابست افراد کومیڈیاایکر ڈیشن کارڈزجاری کردئیے گئے۔جبکہ کئی سینئر صحافی اور فوٹو گرافرز کو اہل ہونے کے باوجود میڈیا ایکرڈیشن کارڈ سے محروم کر دیا گیا۔پی سی بی کو یاد رکھنا چائیے پاکستان میں انٹر نیشنل کی بحالی میں پاکستان کے میڈیا کا بھی اہم ترین کردار ہے ۔ لہٰذا چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی کو اپنے میڈیا ڈپارنمنٹ کی فرعونیت کا نوٹس لینا چائیے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •