Voice of Asia News

بھارت میں مسلمانوں,عیسائیوں کے خاتمے کی دھمکی:محمد قیصر چوہان

 
انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ جو عمومی طور آر ایس ایس کے نام سے مشہور ہے کی پیدائش ہٹلر کے دور میں ہوئی تھی اور یہ جماعت نازی اصولوں کے مطابق ہی کام کرتی ہے۔راشٹریہ سیوک سنگھ( آر ایس ایس)بھارت میں کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے خاص ساتھی راجیشور سنگھ نے ایک مرتبہ پھر بھارت میں مسلمان اور عیسائی آبادی کے خاتمہ کی دھمکی دی ہے۔ راجیشور سنگھ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ 2021 تک یا تو بھارت سے مسلمانوں اور مسیحیوں کا کا خاتمہ کردیا جائے گا یا پھر ان سب کو ہندو بنادیں گے۔ راجیشور سنگھ کے بیان کو اس لیے سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے کہ وہ آر ایس ایس کی ذیلی شاخ دھرم جاگرن سمنوے سمیتی کے رکن ہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے 1996 سے لے کر اب تک تین لاکھ سے زائد مسلمانو ں کو جبری ہندو بنایا ہے ۔ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اپنے قیام کے وقت سے لے کر اب تک مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف رہی ہے۔ بھارت میں صرف آر ایس ایس ہی واحد دہشت گرد تنظیم نہیں ہے بلکہ اسی جیسی متعدد تنظیمیں موجود ہیں جن کا آپس میں گہرا ربط ہے۔ ان تمام تنظیموں کو سنگھ پریوارکہا جاتا ہے۔ ان میں وشو ہندو پریشد، بھارتیہ جنتا پارٹی( پریوار کا سیاسی ونگ )، ون بندھو پریشد، راشٹریہ سیوکا سمیتی، سیوا بھارتی، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد( پریوار کا اسٹوڈنٹس ونگ)، ونواسی کلیان آشرم، بھارتیہ مزدور سنگھ اور ودیا بھارتی شامل ہیں۔
آر ایس ایس تنظیم کے تنظیمی ڈھانچے اور مالی وسائل کے بارے میں دنیا کو زیادہ سے زیادہ بے خبر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ظاہری طور پر اپنے آپ کو ایک ثقافتی تنظیم کے لبادے میں پیش کرتی ہے۔ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں غیر شادی شدہ افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نیز غیر شادی شدہ ارکان کو ہی اعلیٰ عہدے دیے جاتے ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آر ایس ایس میں پوزیشن حاصل کرنے کیلئے اپنی بیوی کو شادی کے کچھ برس بعد اسی وجہ سے چھوڑ دیا تھا کہ شادی شدہ ہونے کی وجہ سے انہیں آر ایس ایس میں کلیدی عہدے تک جانے میں کوئی رکاؤٹ حائل نہ ہو۔آر ایس ایس کے تنظیمی ڈھانچے میں نچلے یونٹ کو ‘‘شاکھا’’ کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی تنظیمی ضرورت کے پیشِ نظر کئی یونٹس بیک وقت بھی کسی شہر یا قصبے میں قائم کرتی ہے۔ آر ایس ایس کا یونٹ انچارج ذہن سازی کا کام بھی کرتا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ کو ‘‘سرسنگھ چالک’’ کہا جاتا ہے۔ اور اس کے معتمد کو ‘‘چار راشٹریہ سہکرواہ’’ کہا جاتا ہے۔ ہند دہشت گرد تنظیم کے بنیادی طور پر بالائی سطح پر کچھ تنظیمی ڈھانچے ہیں، جن میں کیندریہ کاریہ کاری منڈل، اکھل بھارتیا پرتیندی سبھا، پرانت یا ضلع سنگھ چالک، پرچارک، پرانت یا ضلع کاری کاری منڈل اور پرِانت پرتیندی سبھا شامل ہیں۔ پرانت پرچارک جو کسی علاقے یا ضلع کا منتظم ہوتا ہے، کا غیر شادی شدہ یا خانگی مصرفیات سے آزاد ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اس تنظیم کی 100 سے زائد شاخیں ہیں، جو الگ الگ میدانوں میں سرگرم ہیں۔ یونٹس کی تعداد 84880 سے زائد ہے جو بھارت اور بیرونِ ملک مختلف مقامات پر ہندوؤں کے انتہا پسندانہ نظریات کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔آر ایس ایس نے لاکھوں ہندو انتہا پسندتیارکئے ہیں۔ ہندوستان سے باہر ان کے کل 39 ممالک میں یونٹس ہیں، یہ یونٹس ‘‘ہندو سویم سیوک سنگھ’’ کے نام سے کام کر رہی ہیں ہندوستان سے باہر آر ایس ایس کے سب سے زیادہ یونٹس نیپال میں ہیں۔ اس کے بعد امریکا میں ان یونٹس کی تعداد 146 ہے۔ برطانیہ میں 84 یونٹس ہیں۔ یہ کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط حالت میں ہے۔ کینیا کے یونٹس کا دائرہ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ، یوگانڈا، ماریشش اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے، اور وہ ان ممالک کے معتدل مزاج ہندوؤں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔اہم بات یہ بھی ہے کہ آر ایس ایس بیشتر مسلم ممالک میں بھی کام کر رہی ہے، لیکن وہاں زیادہ تر گھروں میں محدود ہوکر کام کیا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ فنڈنگ مشرق وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک سے ہوتی ہے۔ خاص طور پر بابری مسجد کو شہیدکئے جانے کے بعد سب سے زیادہ فنڈ مشرقِ وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک کی جانب سے ہی آر ایس ایس کو ملا تھا۔
بھارت کو ہندو شدت پسند مملکت کا تشخص دینے میں ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 25 ستمبر 1927ء میں بننے والی ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس ناگپور فسادات میں فسطائیت کھل کر سامنے لائی تھی، جب مسلمانوں کے خلاف اس نے سفاکیت کی تاریخ رقم کر دی تھی۔ آر ایس ایس کے رکن ناتھور ام نائک گوڑ نے ہی 1948ء میں مہاتما گاندھی کو قتل کیا تھا۔ 1969ء کے احمد آباد فساد، 1971ء کے کوتلشیری فساد اور 1979ء کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فساد میں آر ایس ایس نے بربریت کی مدد سے اپنے نظریات کو جبراً مسلط کرنے کے متشدد منصوبے بنائے تھے۔ مسلمانوں کے تشخص اور شعائرِ اسلام کے خلاف متحرک و بدنما کردار کی حامل آر ایس ایس کے ہندو انتہا پسندوں نے 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کو بھی شہید کیا۔ اس کو بھارت میں مختلف فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہونے پر نمائشی تحقیقی کمیشن کی جانب سے سامنا کرنا پڑا۔ اس کی ہندو شدت پسندی کو روکنا کسی بھی حکومت کے بس میں نہیں۔ ذرائع کے مطابق آر ایس ایس کی ہندو شدت پسندی کے خلاف باقاعدہ تحقیقاتی کمیشن قائم ہوا، جس میں 1969ء کے احمد آباد فساد پر جگ موہن رپورٹ، 1970ء کے بھیونڈی فساد پر ڈی پی ماڈن رپورٹ، 1971ء کے تلشیری فساد پر وتایاتیل رپورٹ، 1979ء کے جمشید پور فساد پر جتیندر نارائن رپورٹ، 1982 ء کے کنیا کماری فساد پر وینو گوپال رپورٹ اور1989ء کی بھاگل پور فساد کی رپورٹ مرتب کی گئی، لیکن پھر بھی زعفرانی دہشت گردوں کو مذموم کارروائیوں سے نہیں روکا جاسکا۔آر ایس ایس دہشت گردی کے واقعات میں بھی ملوث پائی گئی، جس میں مشہورِ زمانہ مالیگاؤ بم دھماکا، حیدرآباد مکہ مسجد بم دھماکا، اجمیر بم دھماکا اور سمجھوتا ایکسپریس بم دھماکا شامل ہیں۔بھارت میں ہجوم کی جانب سے پر تشدد کارروائیاں عام سی بات ہیں جس میں آسٹریلوی پادریوں کو زندہ جلانے ، چرچوں پر حملے ، گائے کے تقدس کے نام پر مسلم آبادیوں پر حملے اور مسلم کشی کے واقعات شامل ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے ہندو شدت پسند تنظیم کے ایجنڈے کے مطابق مسلم اکثریتی علاقے کو اقلیت میں بدلنے کیلئے آئینی حیثیت کو ختم کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں فوج کے اضافی جھتے میں آر ایس ایس کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو وادی میں بھیجا ہے، جو اس سے قبل بھی کشمیری مسلمانوں کے قتل، خواتین کی عصمت دری جیسے کئی واقعات میں ملوث رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں بھارتی سازشوں میں آر ایس ایس کرفیو کے دوران میں تفتیش اور شک کے نام پر نہتے کشمیریوں کو ٹارچر کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور خود اقوامِ متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشان دہی کرچکی ہے۔بھارتی میڈیا اور فلم انڈسٹری مکمل طور پر آر ایس ایس کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر کوئی ایسا پروگرام یا فلم نہیں چلائی یا بنائی جاسکتی، جس پر آر ایس ایس اعتراض کر دے۔ بھارت کی فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات آر ایس ایس کی منشا کے بغیر سانس بھی لینے سے ڈرتے ہیں۔
ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ایک مرتبہ پھر علی الاعلان اپنے دہشت گردانہ عزائم کا اظہار کیا ہے کہ 2021 کے آخر تک بھارت سے عیسائی اور مسلم مذہب کا نام و نشان مٹادیا جائے گا۔ آر ایس ایس کی دہشت گردی پر مبنی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے راجیشور سنگھ کے بیان کو محض بچکانہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔
مودی کی پالیسیوں کو اور راجیشور سنگھ کے بھارتی حکومت میں اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب محض بیان بازی نہیں ہے بلکہ مودی اور اس کے دہشت گرد ساتھی ایسا کرنے کی مکمل منصوبہ بندی رکھتے ہیں۔ اب اس بیان کے سامنے آنے کے بعد یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر سنگھ پریوارمیں شامل تمام ہی تنظیموں پر پابندی عائد کرے اور انہیں عالمی طور پر دہشت گرد قرار دیا جائے اوران کے ارکان کے خلاف پوری دنیا میں کریک ڈاؤن کیا جائے۔ سنگھ پریوار میں شامل تمام ہی تنظیمیں لاکھوں بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث ہیں اور اعلانیہ طور پر کروڑوں افراد کے مذہب کی جبری تبدیلی کے منصوبے کا اعلان بھی کررہی ہیں۔ یہ پارٹیاں دنیا کے امن کیلئے حقیقی خطرہ ہیں جس کا فوری طور پر سدباب کیا جانا چاہیے۔ یہ پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے پر پوری دنیا کو آگاہ کرے ۔ بھارت میں اس وقت ایک دہشت گرد تنظیم ہی کی حکومت ہے جو سنگھ پریوارمیں شامل ہے۔ جب تک بھارت میں دہشت گرد تنظیم بی جے پی کی حکومت ہے ، اس وقت تک بھارت کو ایک دہشت گرد ملک کا درجہ دیا جائے اور بھارت میں دلتوں، مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت تمام اقلیتوں کے جان ، مال اور مذہب کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔یہ اور بات ہے کہ اسلام کو مٹانے کی کوشش نئی نہیں ہے بلکہ یہ جنگ تو ازل سے جاری ہے اور شر اور بدی کو ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑاہے۔اصل بات تو یہ ہے کہ امت مسلمہ کے حکمران کیا کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی حکومت بھارت کی ہندو شدت پسند تنظیموں اور جماعتوں کے حوالے سے عالمی برداری کو آگاہ کرے، اور آر ایس ایس جیسی شدت پسند تنظیم اور اس کی ذیلی جماعتوں اور تنظیموں کے مکروہ عزائم کو دنیا کے سامنے لائے۔ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں بشمول بھارتی جنتا پارٹی کی زغفرانی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، تاکہ بھارت عالمی برداری کی توجہ مذہبی اقلیتوں اور مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت پر ہونے والے مظالم سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جب تک آر ایس ایس، بی جے پی جیسی ہندو شدت پسند جماعتوں اور تنظیموں کے خلاف سلامتی کونسل و اقوامِ متحدہ متحرک نہیں ہوں گے، خطہ میں امن نہیں آسکتا۔ ہندوستان کی تقسیم کی بنیادی وجوہات میں دو قومی نظریہ اس لئے نمایاں تھا کہ سر سید احمد خان، علامہ اقبال سے لے کر مسلم قیادت اور قائد اعظم محمد علی جناح تک نے مستقبل میں جھانک لیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل تاریک ہوگا اور ہندو شدت پسند، مغلوں اور افغانوں کی ہندوستان پر حکمرانی کا بدلہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں سے لیں گے۔ بھارت میں ہندو مسلم فسادات کی تاریخ ہو، یا مسلم دشمنی، سرِفہرست آر ایس ایس انتہا پسندی میں سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کا آزادی سے قبل اور بعد میں بھی حکومتی سطح پر ہندو شدت پسندوں نے زیادہ تر کھل کر ساتھ دیا، اور اس کے انتہا پسندانہ نظریے کو مزید پرتشدد بنایا۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •