Voice of Asia News

آرمی چیف نے آغاز میں مختصر بات کی، اْن کا مزاح اچھا تھا اور وہ کافی باخبر تھے

راولپنڈی ( وائس آف ایشیا) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کاروباری طبقے کی ملاقات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس کے شرکا میں سے ایک شخص نے بتایا کو آرمی چیف نے آغاز میں مختصر بات کی، اْن کا مزاح اچھا تھا اور وہ کافی باخبر تھے۔ اجلاس کے کچھ شرکا نے بتایا کہ کھانے میں کچھ اسپیشل نہیں بلکہ بنیادی طور پر میس کا کھانا تھا اور اس دوران اجلاس میں شریک وفود کمرے میں موجود میزوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک ٹھوس پیغام دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ ایک پیج پر ہیں اور اجلاس کے شرکا سے پیچھے نہ دیکھنے بلکہ آگے دیکھنے اور معیشت میں مدد کرنے کا کہا۔اجلاس میں شریک ایک شخص نے کہا کہ آرمی چیف نے وہاں موجود افراد کو بآور کروایا کہ سالوں کی زیادتی راتوں رات تبدیل نہیں ہوگی، چیزوں کو بہتر بنانے میں وقت لگے گا لیکن کاروبار معمول کے مطابق جاری نہیں رہ سکتا۔اجلاس کے شرکا کے مطابق حکومتی ٹیم کے خطاب کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کاروباری شخصیات کے وفد کی جانب سے میاں منشا کو بات چیت کا آغاز کرنے کا کہا۔ اجلاس کے شرکا نے نیب کی جانب سے کاروباری سرگرمیوں میں مداخلت کا ذکر بھی کیا۔ اجلاس میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ ایسے اجلاس شاید آرمی چیف ورنہ یقینی طور پر وزیراعظم کے ساتھ جاری رہیں گے۔اس اجلاس میں اس بات کا اشارہ دیا گیا کہ دسمبر کے بعد مہنگائی کی شرح میں کمی آنا شروع ہوجائے گی اور شاید اسی طرح شرح سود میں بھی کمی آجائے گی۔ یاد رہے کہ دو روز قبل ملک کی نامور کاروباری شخصیات نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں عشائیے پر ملاقات کی تھی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کاروباری شخصیات کی ملاقات میں ایف بی آر چئیرمین شبر زیدی اور وزیر مملکت حماد اظہر بھی موجود تھے۔
وائس آف ایشیا4اکتوبر2019 خبر نمبر38

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •