Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر لاک ڈاؤن نے کشمیری ہائی ٹیک انڈسٹری کاروبار تباہ کر دیا

سرینگر (وائس آف ایشیا)سری نگر میں رنگریتھ کا صنعتی علاقہ دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کے سبب ویران پڑاہے۔ سری نگر کے کنارے واقع رنگریتھ کے صنعتی علاقے میں درجن بھر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کمپنیاں ہر سال دسیوں لاکھوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔لیکن 5 اگست کو جب نئی دہلی حکومت نے کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کردی تو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے رابطوں کے منقطع ہونے کے باعث کاروبار ٹھپ ہو گیا۔مارکیٹیں ، بینک ، اسکول ، کپڑے کے اسٹور اور ہائی ٹیک انڈسٹری سب بند کردی گئی۔نیوز ایجنسی ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بہت سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رنگریتھ کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ہب کے بڑے بڑے آفس ،جو عام طور پر نوجوان ٹی شرٹڈ پروگرامروں سے بھرے ہوتے تھے، خالی پڑے ہیں۔”یہ لاک ڈاؤن کشمیر میں سافٹ ویئر کے کاروبار کو ایک تباہ کن دھچکا ہے۔ انٹرنیٹ ہمارے کاروبار میں آکسیجن کی طرح ہے اور اسے چھین لیا گیا ہے ”۔ محمد راشدنے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے کہا۔ ان کی کمپنی کے کلائنٹس تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور اب ہمارے کلائنٹس کا صبر ختم ہو رہا ہے۔اور جلد ہی ہمیں خطرہ ہے کہ ہم ان تمام کلائنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ایک انٹرنیٹ پرووائڈر STCکے چیف ایگزیکٹو ، جہانگیر رسول نے ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انھیں اپنی عمارت میں ایک کمپنی، جس کے امریکہ میں کلائنٹ ہیں، کی مدد کرنے کے لئے ان کی انٹرنیٹ لائنز کھلی رکھنے پر انہیں پولیس نے چھ دن کے لئے حراست میں لیا تھا۔”انہوں نے ہمارے سسٹم کا معائنہ کرنے کے لئے پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو بھیجا۔ ہم نے انہیں بتایا کہ آئی ٹی سیکٹر انٹرنیٹ کے بغیر تباہ ہو جائے گا۔ لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔حکام نے زیادہ تر لینڈ لائنز کو کھول دیا دیا ہے۔ لیکن پولیس اور سرکاری عہدیداروں کے زیر استعمال 6000 موبائلوں کے علاوہ ، کشمیر کے 880000 موبائل کنیکشن اور انٹرنیٹ کنیکشن معطل ہیں۔ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے اگست میں کہا تھا کہ لائنیں بنیادی طور پر "دہشت گردوں اور پاکستانیوں کو متحرک کرنے اور اغوا کے لئے” ایک "ہتھیار” کے طور پر کارآمد تھیں۔کچھ آئی ٹی کمپنیوں نے پہلے ہی کارکنوں کوفارغ کردیا ہے ،اور بہت سے اپنے کاروبار کو کشمیر کی بجائے کہیں اور منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔STCکمپنی کے چیف ایگزیکٹو جہانگیر رسول نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست سے ان کی کمپنی نے 2.8 ملین ڈالر سے زیادہ کا کاروبار کھو دیا ہے اورکمپنی کے370 ملازمین میں سے دو تہائی نے ملازمت چھوڑ دی ہے۔ایس ٹی سی کے فنانس چیف عابد بھٹ نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم مکمل طور پر بلیک آؤٹ میں کام نہیں کرسکتے۔”ہائی ٹیک اندسٹری اس نقصان میں تنہا نہیں ہے۔سرینگر کے ایک کار ڈیلرشپ کے سربراہ اعوان احمد ناررونے ایک نیوز ایجنسی کو نے بتایا کہ وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں سوداگروں نے دو ماہ میں ایک بھی کار یا ٹرک فروخت نہیں کی ہے۔انہوں نے پچھلے سال انہی دو مہینوں میں تقریبا 5،000 5000 گاڑیاں اور موٹر بکس فروخت کیں۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں دکھایا گیا ہے کہ 5 اگست سے رجسٹریشن آفس کوئی نئی گاڑیاں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر ناصر حامد خان نے فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ، "یہ کشمیر کی معیشت کا خاتمہ ہے۔ اس سے ہونے والے نقصانات کا حساب لگانا ممکن نہیں ہے۔”

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •