Voice of Asia News

تعلیم یافتہ نوجوان روشن پاکستان کے ضامن ہیں دی لاہورلائسیم سکول گلبرک کیمپس کی پرنسپل حنا انجم سے گفتگو: انٹرویو: محمد قیصر چوہان

کسی بھی مہذب معاشرے کی تکمیل میں تعلیم و تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے خصوصاً اس وقت جب کسی ملک کے عوام اپنی اقدار کو بھول چکے ہوں ان کو راہ راست پر لانے کیلئے علم کی روشنی بڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے سرکاری تعلیمی اداروں اور تعلیمی پالیسی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم نجی تعلیمی اداروں کو بھی بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوتا ہے تاکہ علم و ہنر، تعلیم و تربیت اور تحقیق کے عمل کو جاری رکھ کر قوم کو اندھیروں سے نکا ل کر اُجالوں میں لایا جاسکے اور ہر معاشی، معاشرتی بحران سے بھی بآسانی بچایا جا سکے۔پاکستان کی نامور ماہر تعلیم حنا انجم ایک ملنسار، خلیق اور نفیس عورت ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے وقف کر رکھی ہے وہ سراپا عمل اور سراپا اخلاص ہیں پاکستان سے ان کی بے پناہ محبت ہر مصلحت سے بالاتر نظر آتی ہے۔ بلاشبہ حنا انجم ان شخصیات میں سے ہیں جو کسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ حنا انجم پاکستان کے نامور تعلیمی اداروں کے ساتھ پرنسپل سمیت دیگر عہدوں پر منسلک رہی ہیں اور وہ آج کل’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘گلبرک کیمپس میں بطور پرنسپل بچوں کی تعلیم وتربیت میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ یہ ان کی بہترین قائدانہ صلاحیتیں اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے کہ ’’دی لاہور لائسیم سکول ‘‘گلبرک کیمپس معیاری تعلیم کو فروغ دے رہا ہے۔گزشتہ دنوں ایڈیٹر ’’وائس آف ایشیا‘‘نے پاکستان کی پاکستان کی نامور ماہر تعلیم اوردی لاہورلائسیم سکول گلبرک کیمپس کی پرنسپل حنا انجم سے ایک نشست کا اہتمام کیا۔ اس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک تعلیم کی کیا اہمیت ہے؟
حنا انجم :کوئی ذی روح اس دنیا میں ایسا نہیں ہے جس کاسیکھنے اور سکھانے کے عمل سے گزر نہ ہو۔نسل انسانی کا آغازحضرت آدم علیہ السلام کے وجود سے شروع ہوا۔ اگر ہم اس وقت پوری کائنات کے رب اور فرشتوں کے درمیان ہونے والے مکالمے پر غور کریں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کے علم میں انسان کا وجود کوئی خاص اہمیت کا حامل نہ تھا۔مگر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔اور پھر آدم علیہ السلام کو تمام اشیا کے ناموں کی تعلیم دے کر ان کو ممتاز اور معتبر ٹھہرا دیاجس سے فرشتے بھی لا علم رکھے گئے تھے۔غرض علم کی اہمیت انسان کے وجود کے ساتھ ہی اجاگر کر دی گئی تھی۔کائنات کے اسرار و رموز سے آگاہی کیلئے علم کی جو اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد ؐ پرجو پہلی وحی اتاری اس کے پہلے لفظ کا ترجمہ ہے ’’پڑھ‘‘ پڑھنے پڑھانے یعنی تعلیم کی حقیقت و اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ تعلیم اقوام کی اخلاقی، معاشی، سیاسی بلکہ ہر قسم کی ترقی کیلئے مسلمہ ہے۔ میرے نزدیک تعلیم روح کی غذا ہے اور تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ تعلیم و تربیت ہی وہ زیور ہے جس سے آراستہ ہو کر ہم ملک و قوم کی اصلاح، ترقی و خوشحالی میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور یہی وہ آلہ ہے جس کی مدد سے حق اور باطل کے درمیان تمیز ممکن ہے۔ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت غربت، جہالت، پسماندگی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اندھیروں سے قوم کو نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے سے انسان کو مسلسل تعلیم حاصل کرنے اور علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلائی ہے۔ قرآن پاک میں تعلیم کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے 100 کے قریب آیات کے ذریعے انسان کو تعلیم کی طرف گامزن کیا ہے۔ دنیاوی تعلیم حاصل کرنا اﷲ تعالیٰ کے سامنے اتنا ہی افضل ہے جتنا دینی تعلیم حاصل کرنا ہے۔ اگر مسلمانوں کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے تو تعلیم کے ہر شعبے میں مہارت حاصل کرنا ہو گی۔ جس طرح ستارے آسمان کی زینت ہیں اسی طرح تعلیم یافتہ لوگ زمین کی زینت ہیں جبکہ قلم و کتاب انسان کے بہترین دوست اور ترقی وخوشحالی کا زینہ ہیں لہٰذا معاشرے میں قلم و کتاب کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک خواتین کی تعلیم کے شعبے میں کتنی اہمیت ہے؟
حنا انجم : ایک مثبت تعمیری اور جمہوری معاشرے کے قیام ،امن و آشتی اور تعمیر و ترقی میں خواتین کی تعلیم و تربیت کی اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے ایک خاتون کو تعلیم دینے کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ ایک خاتون کو تعلیم دینے کا مقصد پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ خواتین کی تعلیم بھی معاشرے کی ترقی کیلئے اہم جزو ہے اور اسلام میں بھی خواتین کی تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے اس لئے ہمارا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی کیونکہ تعلیم یافتہ اور نیک ماں ہی بچے کو معاشرے کا اچھا فرد بنا سکتی ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کسی بھی طرح سے مردوں سے کم نہیں ہیں۔ اگر خواتین کو یکساں مواقع دیئے جائیں گے تو وہ بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تعلیم و صحت حتی کہ انجینئرنگ کے شعبوں میں خواتین مردوں سے کم نہیں ہیں۔ سکول، کالج، یونیورسٹی امتحانات سے لے کر عملی زندگی تک خواتین نے اپنا لوہا منوایا ہے۔
سوال: ایک سکول پرنسپل پر کیا فرائض و ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟
حنا انجم : کسی بھی ادارے کو چلانے کیلئے ایڈمنسٹریشن کا شعور ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا اپنے پیشے سے مخلص ہونا بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔ ادارہ چاہے سکول ہو یا کالج اس کو خلوص سے چلانا چاہئے اور اس میں ایسی صحت مندانہ سرگرمیاں ہونی چاہئیں جس سے طالب علموں کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ سٹاف کی تکلیفوں کا بھی احساس کرنا چاہئے۔ نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں پر ضرور توجہ دینی چاہئے۔ یہ سب ذمہ داریاں کسی بھی ادارے کے پرنسپل پر لاگو ہوتی ہیں۔
سوال: ’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ کا بنیادی نصب العین کیا ہے؟
حنا انجم :’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ کانصب العین ہے کہ طلبہ و طالبات کو علم وتحقیق کی نئی حقیقتوں سے آشنا کریں تاکہ وہ اپنے اندر موجود ان خداداد صلاحیتوں کو تلاش کریں جو ان کو حقیقی کامیابی سے نوازیں تاکہ وہ اہلیت، مستعدی، ذہانت و فطانت جیسے اعلیٰ ترین اوصاف کی تکمیل کریں تاکہ عالمی انسانی معاشرے کی ترقی کو دوام بخشا جا سکے ۔’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ کی تعلیمی پالیسی جدید عصری تقاضوں کے مطابق ہے۔ بنیادی طور پر اس ادارے کے قیام کا مقصد بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے بھی روشناس کروانا ہے تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جا کر اپنی دنیاوی زندگی میں بھی کا میابی حاصل کریں اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں۔’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ کا مقصد پاکستان کی نوجوان نسل کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان اورپاکستان کا ایک باشعور شہری بنانا ہے۔ہمارے لئے تعلیم ایک مشن ہے اس کو کبھی آمدن کا ذریعہ نہیں بنایا۔ہم نئے عزم کے ساتھ فروغ تعلیم اور ملک کے مستقبل کی سیرت وکردار کی تعمیر میں کوشاں ہیں۔ہمارا عزم ہے کہ’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ ایسا تعلیمی ادارہ بن کے اُبھرے جو معاشرے کی مجموعی ترقی کا باعث ہو۔ اس عزم کی تکمیل کیلئے ہماری خواہش ہے کہ ہمارے ساتھ جڑنے والے تمام افراد ہمارے ساتھ حقیقی شراکت داری کریں۔ ہم ان میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کریں۔ ان کی علمیت کو معاشرے کیلئے سود مند بنائیں۔ ان میں اعلیٰ اقدار کو راسخ کریں اور نئی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ و ارفع انسانی افعال کو ان کی ذات کا لازمی جزو بنائیں۔ ’’قسمت نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں‘‘۔’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ کا نصب العین ہے۔’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ طلبہ و طالبات کی معیاری اوربنیادی تعلیم کو یقینی بنانے کا عزم لئے خدمات سر انجام دے رہا ہے۔یہ ادارہ بچوں کی مضبوط تعلیمی بنیاد رکھنے کیلئے کلیدی کردار ادا کررہا ہے ۔اﷲ کا شکر ہے علم کی روشنی پھیلانے کا یہ سلسلہ کامیابی سے جاری و ساری ہے۔طلبہ کی کردار سازی کرکے انہیں مستقبل کے چیلنجز کیلئے تیار کررہے ہیں۔ عالمی کردار، تعلیم یافتہ ، تجربہ کار اور ذہین اساتذہ، جدید نصاب اور اساتذہ کے درمیان گہراربط تعلق اس کی اہم خصوصیات ہیں۔طالبِ علموں کی کے بہترین رہنمائی ،کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کیلئے تمام تر وسائل استعمال کئے جارہے ہیں۔
سوال: ’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے بتائیں؟
حنا انجم :’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘ اعلیٰ تعلیمی وتدریسی ماحول، ہم نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں اور نظم و ضبط کی شاندار روایات کا حامل ہے۔ ادارے کو تعلیم و تدریس، ہم نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں میں امتیازی مقام حاصل ہے۔ یہاں سارا سال مختلف تقریبات کا انعقاد ہوتا رہتاہے۔ طلبہ و طالبات کی ذہنی نشو و نما کیلئے علمی ، ادبی اور سائنسی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ طلبہ اور طالبات میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشوو نما کیلئے مختلف انجمنیں قائم کی گئیں ہیں، جو باقاعدگی سے اپنی سرگرمیاں سر انجام دیتی ہیں۔ہماری مسلسل یہ کوشش رہی ہے کہ یہاں ایسا ماحول فراہم کیا جائے ، جس میں نہ صرف اعلیٰ اور معیاری تعلیم و تدریس کا عمل بلارکاوٹ جاری رہے، بلکہ انہیں ہم نصابی سر گرمیوں ذہنی آزمائش کے مقابلوں اورتحقیقی و معلوماتی سیمینارز میں بھی بھرپور شرکت کا موقع ملے۔ اس سلسلے میں طلبہ و طالبات کیلئے وہ تمام اقدامات کئے جاتے ہیں، جن سے ان کی ذہنی اور تعلیمی ترقی ممکن ہوسکے اور اس کے پہلو بہ پہلو انہیں کھیلوں میں شرکت کا بھی موقع مل سکے۔تعلیم کی بنیادی اکائی تحقیق ہے ، ہم اسے عالمی معیار پر لا رہے ہیں۔ ’’دی لاہورلائسیم سکول ‘ ‘میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت مندانہ سرگرمیوں پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔سکول میں سالانہ کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے مختلف پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں تاکہ بچوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوسکے۔
سوال: پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ان کی نگرانی کا نظام موثر نہیں ہے ،آپ کیا کہتی ہیں؟
حنا انجم : ماضی میں نجی اداروں کو نگرانی میں رکھنے کیلئے کئی ایک کمیشن بنائے گئے ان کمیشنوں کے بنانے کا مقصد پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ریگولیٹ کرنا ہوتا تھا لیکن ان کمیشنوں سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے اور ایسے تمام کمیشن ناکام ہو گئے ۔تعلیم کا شعبہ کبھی بھی پاکستان کے حکمرانوں کی ترجیح نہیں رہامیں سمجھتی ہوں پرائیویٹ اداروں کے سب سے بڑے نگران تو عوام خود ہوتے ہیں کیونکہ جو والدین بھی اپنے بچے کو نجی ادارے میں پڑھنے کیلئے بھیجتے ہیں وہ ہر لحاظ سے خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اورجب کسی ادارے پر اعتماد حاصل ہوتا ہے تب ہی وہ اپنے بچے کو داخل کرواتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ سرکاری سکولوں کا انتظام بھی ٹھیک ہو سکتا ہے اگر اشرافیہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوائے۔جب ایسا ہوگاتو بلاشبہ نظام ٹھیک ہو جائے گا۔
سوال: کیاپرائیویٹ تعلیمی ادارے قومی اُمنگوں کے مطابق ہی نصاب پڑھاتے ہیں؟
حنا انجم :پرائیویٹ تعلیمی تعلیمی ادارے بھی قومی اُمنگوں کے مطابق ہی نصاب پڑھاتے ہیں مگر بدقسمتی سے چند انتہائی سنجیدہ وجوہات کی بناء پر نظام تعلیم میں یکسانیت نہیں رہی۔شعور و غور وفکر اس وقت ممکن ہے جب نصابِ تعلیم نہایت مضبوط بنیاد رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ جملہ کوتاہیوں سے پاک ہو اور جس میں نفرت پھیلانے کے عناصر موجود نہ ہوں۔18ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے شعبہ تعلیم کو نقصان پہنچا ہے۔ کسی بھی نظام تعلیم میں اس کا شعبہ نصاب مرکزی حیثیت رکھتا ہے اورمیرے خیال میں نصاب کا شعبہ صوبوں کے پاس نہیں بلکہ مرکز کے پاس ہونا چاہیے۔وفاق نے ہمیشہ ریاستی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب مقرر کیا ہے۔صوبوں کے نقطہ نظر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور نصاب صوبائی سطح پر مرتب ہونے سے صوبائیت کو ہوا ملتی ہے۔جس سے ریاست کی وحدت کو نقصان پہنچتا ہے۔
سوال: نصاب تعلیم کے ریاستی وحدت پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
حنا انجم : پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور یہ ریاست دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے۔تعلیمی نصاب میں جدت ضرور آنی چاہیے لیکن ریاست کا وجود نظریے کی بقاء سے مشروط ہوتا ہے اور نظریے کی مضبوطی پرائمری ایجوکیشن سے ہی عمل میں آتی ہے۔طبقاتی نظام زندگی، طبقاتی نظام تعلیم کی بڑی وجہ ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے میں میڈیم کا فریق پایا جاتا ہے۔ مختلف نظام تعلیم مختلف ذہنی سوچوں کو جنم دیتے ہیں جہاں ایک طرف اولیول، اے لیول اور کیمبرج سسٹم میں پڑھنے والے بچے لیڈرانہ، قائدانہ اور حکمرانہ سوچ لے کر تربیت پاتے ہیں وہاں دوسری طرف سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے محکومانہ سوچ لے کر تربیت پاتے ہیں اور یہی سوچوں کی تبدیلی ایک طبقاتی تقسیم کوجنم دیتی ہے۔ جس معاشرے میں تعلیمی تفرقات پائے جائیں گے اس معاشرے میں ہم آہنگی قائم نہیں ہو سکتی۔
سوال: آپ کے نزدیک پرائیویٹ سکولوں کا معیارِ تعلیم بہتر ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟
حنا انجم : پرائیویٹ سکولوں کی معیاری تعلیم کی فراہمی اور اس کا ثمر ظاہر ہے امتحانات اور ان کے بہترین نتائج کی صورت میں طالب علموں کو ملتا ہے۔ پرائیویٹ سکولوں نے بہترین مینجمنٹ کا ثبوت دے کر اپنی سبقت کو برقرار رکھا ہواہے اور آج پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے نتائج سرکاری تعلیمی اداروں کے مقابل قدرے بہتر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بالخصوص پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں ٹاپ پوزیشنز پہ ان ہی اداروں کے ذہین و فطین بچے پوزیشنز سٹینڈرز پہ جلوہ افروز ہوتے ہیں ہر دونوں صورتوں میں نونہالان وطن زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری سکولوں کا انفراسٹرکچر بہتر کیا جائے اور جوپرائیویٹ تعلیمی ادارے کسی بھی سطح پر اعلیٰ ومعیاری تعلیم سے اپنے طلباء کو منورکررہے ہیں اور اْن کے نتائج شاندار ہیں ان کی تعلیمی خدمات کو سرکاری سطح پہ تسلیم کیا جائے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر تنقید کرنے والے ان چیزوں کو کیوں نہیں دیکھتے جن کی وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر انحصار کیا جانے لگا ہے۔ اگر سرکاری اداروں کی خامیوں،کمیوں اور کوتاہیوں کو دورکرلیا جائے تو ان کی ساکھ بحال ہوسکتی ہے۔
سوال: اٹھارھویں آئینی ترمیم نے تعلیم کے شعبے پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں؟
حنا انجم:اٹھارھویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات دئیے جانے کے بعد اب صوبوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے ماہرینِ تعلیم کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کریں اور ٹھوس پالیسیاں ترتیب دیں اور ایسی حکمت عملی اپنائیں جس سے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کا تعلیمی معیار ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہوتا کہ غریب آدمی کا بچہ بھی اسی سہولیات کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکے جس طرح سے کسی امیر آدمی کا بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اساتذہ اور پرنسپلز کوبھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہونا چاہیے۔ ہر دور میں حکومت کی جانب سے شعبہ تعلیم میں بہتری کے دعوے اور نئی نئی تعلیمی پالیسیاں دینے کے باوجود ملک میں ہم یکساں نظام تعلیم رائج کرسکے ہیں نہ اس شعبے میں پائی جانے والی خرابیاں دور ہوسکی ہیں۔ ہمارے چاروں صوبوں کی حکومتیں ہربرس تعلیم کیلئے اربوں روپے کا بجٹ مختص کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی سرکاری سکول ،پرائیویٹ اداروں کے تعلیمی نظام کا مقابلہ نہیں کر پارہے ہیں۔
سوال: پہلے تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی کردار سازی پر بھرپور توجہ ہوتی تھی وہ تعلیمی و سماجی زندگی میں اپنا حصہ ڈالتے تھے، مگر اب یہ رجحان کم ہو گیا ہے، اس حوالے سے نصاب میں کچھ شامل کیا جائے تو کیا اچھا نہ ہو گا؟
حنا انجم : اچھا شہری کیسے بنا جائے، حب الوطنی کا جذبہ، نصاب میں شامل کر کے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔طلبہ میں یہ خوبیاں پیدا کرنا ہر تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جو ادارے ایسا نہیں کر رہے ہیں وہ بنیادی ذمہ داری سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ ہم تو اس با ت پر زور دیتے ہیں کہ بچے کو نصابی تعلیم کے ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے کارآمد شہری بنانے کیلئے بھی کام کیا جائے۔
سوال: ہمارے ہاں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ تعلیم کے فروغ میں اہم وسیلہ اساتذہ ہیں اوروہ بے شمار موجود ہیں لیکن کیا وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے تعلیم کی صورت میں منتقل کر رہے ہیں یا نہیں؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ تعلیمی ادارے جو علم کی منتقلی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں کیا وہ مستقبل کے سائنسدان، انجینئر، ڈاکٹر، استاد پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سیرت و کردار میں نصابی عمل کے ذریعے ایسی چیزیں شامل کر پا رہے ہیں جن کی مدد سے ان میں سچ بولنے کی قوت پیدا ہو، ان کا کردار اور عمل ایک ہو، وہ دہری شخصیت کے حامل نہ ہوں، کیا ہمارا نصاب کردار کے اندر پائی جانے والی کمزوریوں کو ختم کرنے میں معاونت کر رہا ہے، کیا ہمارے تعلیمی ادارے اس پہلو کو اہمیت دے رہے ہیں؟
حنا انجم : ہم عالمی معاشرے میں رہ رہے ہیں جس میں ہمیں معاشی، تعلیمی، امن عامہ ، تحفظ اور ثقافتی میدانوں میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ان حالات میں ان تمام پہلوؤں کو جن کا آپ نے اپنے سوال میں ذکر کیا ہے کومدِ نظر رکھتے ہوئے طلباء و طالبات تیار کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے جو کہ زندگی کے میدان میں معیاری علم اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ قائدانہ اہلیت کے حامل ہیں تاکہ مستقبل میں ان چیلنجز سے موثر طریقے سے اور کامیابی کے ساتھ نمبرد آزما ہو سکیں۔
سوال: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ایک طالبِ علم کیلئے مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کیریئر کونسلنگ ضروری ہے؟
حنا انجم : بہت ضروری ہے مگر ہمارے معاشرے میں کیریئر کونسلنگ کا تو تصور بھی نہیں پایا جاتا۔پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ملک کیلئے ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں ان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بھر پور طریقے سے بروئے کار لا کر ملک کی تقدیربدلی جا سکتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے نوجوان بے سمت بہتے چلے جا رہے ہیں۔ کسی بھی فورم پر انہیں ان کے کیرئیر کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی جس سے انہیں مستقبل میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق پروفیشن اختیار کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں اس امر کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو وہی شعبہ اختیار کرنے کی سہولت دیں جن میں ان کی دلچسپی کا عنصر موجود ہو۔اسی ضرورت کے پیش نظر طلباء و طالبات کی رہنمائی کیلئے ہم نے کیرئیر کونسلنگ روم بنایا ہے جس میں سوشیالوجی کے ٹیچرزکو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کی رہنمائی کریں تاکہ انہیں عملی زندگی میں کسی پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑے۔
سوال: آج تعلیمی ادارے تو بہت ہیں شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن جرائم بالخصوص کرپشن بھی بڑھ رہی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
حنا انجم:تعلیم کے ساتھ ایک جملہ بولا جاتا ہے تربیت، یہ سب تربیت کے فقدان کی وجہ ہے۔ بڑی بڑی ڈگریاں دی جا رہی ہیں لیکن بچوں اور نوجوان نسل کی کردار سازی کا فقدان ہے ۔والدین رقم خرچ کرتے ہیں اساتذہ نصاب پڑھا دیتے ہیں ادارے امتحانات کی تیاری کرواتے ہیں تربیت پرکوئی توجہ نہیں دے رہا ۔ایک وہ دور بھی تھا جب ڈگریاں اس طرح نہیں بانٹی جاتی تھیں اس وقت بچوں کی کردار سازی ہوتی تھی۔آج ڈگریاں ہیں لیکن کردارسازی کی کمی نظر آرہی ہے۔ نصاب پر محنت حصول ڈگری کیلئے ہے ڈگر ی کا حصول معاش کیلئے ہے جب مقاصد یہ ہوں تو پھر کردار کہاں سے آئے گا۔ تعلیم کے حقیقی مقاصد کا فیض کہاں حاصل ہو گا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بہت ضروری ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک پرائمری تعلیم کا معیار کیا ہونا چاہیے؟
حنا انجم:پرائمری تعلیم کسی بھی نظام تعلیم کی بنیاد ہوتی ہے یہ جتنی مضبوط ہو گی تعمیر اتنی ہی دیر پا ہو گی اور اسے زیادہ سے زیادہ بلندی تک بھی لے جایا جا سکے گا۔ ہمارے ہاں پرائمری تعلیم کا معیار اچھا نہیں ہے بلکہ تعلیمی نظام میں سب سے زیادہ نظر انداز شعبہ یہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اعلیٰ تعلیم پر بڑے وسائل خرچ کئے گئے ہیں لیکن ان کے ویسے نتائج نہیں ملے۔ اس کی وجہ پرائمری تعلیم کا کمزور ہونا ہے۔ ہماری پرائمری تعلیم کا نظام اعلیٰ تعلیم کو تقویت نہیں دیتا۔
سوال: آپ کے نزدیک کوالٹی آف ایجوکیشن کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
حنا انجم:کوالٹی آف ایجوکیشن کو بہتر بنانے کیلئے اساتذہ کے سماجی و معاشی مقام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ خوشحالی اور ترقی کی منازل حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ معاشرہ استاد کو اس کا جائز مقام دے۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے کہ اعلیٰ قابلیت کے حامل لوگ اس پیشے کو اپنائیں اور یہ کہ معلمی کا پیشہ آج کے نوجوانوں کیلئے آخری انتخاب کی بجائے پہلی چوائس ہو۔
سوال: تعلیم جیسے بنیادی شعبہ کیلئے ہر سال جتنے بجٹ کا تعین کیا جاتا ہے کیا وہ پاکستان کے عوام کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے؟
حنا انجم: پاکستان کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تعلیم کواولین ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ پاکستان میں تعلیم کے شعبہ کیلئے مختص کیا جانے والا بجٹ قومی ضروریات کی تکمیل کیلئے ناکافی ہے۔ حکومت تعلیم کو ملک کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے برابر اہمیت دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تشکیل کردہ سفارشات کے مطابق تعلیمی بجٹ میں کم از کم آٹھ فیصد رقم مختص کرے تاکہ غربت کے باعث تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔
سوال: پاکستان کے نظام تعلیم کو موثر بنانے کیلئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
حنا انجم: نظام تعلیم میں تین بنیادی چیزیں ہوتی ہیں۔ نصاب، اساتذہ، طلبہ۔ سب سے پہلے ان تینوں میں ہم آہنگی ضروری ہے کیونکہ نصاب اگر طلبہ کی ذہنی استعداد کے مطابق نہ ہو گا اور اساتذہ نصاب کے مطابق اور طلبہ کی ذہنی استعداد کو نہیں سامنے رکھیں گے تو کبھی بھی بہتر نتائج نہیں آسکتے۔ اس کے علاوہ نصاب تعلیم میں خاص طور پر پاکستان کے نظریہ، ثقافت، اسلامی اقدار و روایات شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق مشاہرے دیئے جائیں تعلیمی اداروں میں جو ان کی بنیادی ضروریات ہیں ان کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔ انٹر یا گریجویشن کے بعد تمام کورسز کو ریسرچ سے منسلک کر دیا جائے۔ امید ہے کہ ابتدائی طور پر اس طریقہ سے بہتر نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔
سوال:شعبہ تعلیم میں بہتری سے متعلق آپ کا کیا پیغام ہے؟
حنا انجم : خود پسندی اور خود غرضی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ معاشرے میں بہت سی کمزوریاں اور امتیازات ہیں۔ چاہے وہ مذہبی بنیاد پر ہوں، لسانی، علاقائی یا قومیت کی بنیاد پر ہر جگہ اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن بے حد افسوس کی بات ہے کہ وہ شعبہ جو معاشرے اور قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے وہ بھی تفریق کا شکار ہے۔جب تک تعلیم کے شعبہ میں تفریق کو ختم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکے گا۔ارباب اختیار کو چاہیے کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم نافذ کریں۔ ہر طبقے کو بلا تفریق رنگ و نسل علم حاصل کرنے کے یکساں مواقع مہیا کئے جائیں۔ نجی تعلیمی ادارے حکومت کی طرف سے وضع کی گئی ہدایات پرعمل کرتے ہیں اس لئے حکومت کو پالیسی سازی میں نجی سیکٹر کو ضرور شامل کرنا چاہیے۔

 

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •