Voice of Asia News

اسلامی ممالک بھارت کا معاشی بائیکاٹ کب کریں گے۔۔۔؟ محمد قیصر چوہان

اقوام متحدہ کا 74 واں اجلاس ختم ہوئے کئی روز گزر گئے لیکن مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، مسلسل کرفیو جاری ، کشمیریوں پر ظلم و ستم میں روز ایک نیا اضافہ ، ان کے باغات کاٹے جارہے ہیں ، اشیائے خور ونوش کی شدید قلت ہے ، ادویات نہ ملنے کے سبب اموات ہورہی ہیں ، گھروں سے نوجوانوں کو بھارتی فوج اغوا کررہی ہے ، کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ، روز کئی نوجوان شہید ہورہے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر گولہ باری جاری ہے جس سے آزاد کشمیر کے نہتے عوام شہید ہورہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی متفقہ منظور کردہ قراردادیں موجود ہیں مگر ان قراردادوں پر برسوں گزرنے کے باوجود عملدرآمد کی نہ تو کوئی عملی صورت ہی سامنے آئی اور نہ ہی اقوام متحدہ کو اس سے کوئی دلچسپی ہے۔ اقوام متحدہ عالمی دہشت گرد امریکا ، اسرائیل اور بھارت کا سب سے بڑا سپوٹر ہے۔پوری دُنیا مسلمانوں کیلئے کربلا بنی ہوئی ہے اس صورتحال میں اقوام متحدہ کا کردار یزد جیسا ہے۔جبکہ مسلم دُنیا کے حکمرانوں کو ان کے ذاتی مفادات نے اندھا کر رکھا ہے۔مسلم ممالک کے حکمرانوں کی اپنے مفادات کے سامنے کشمیریوں کے خون کی کوئی حقیقت نہیں۔ بھارت کو بھی مسلم ممالک کی بے غیرتی کا خوب اندازہ ہے۔جس کا وہ بھر پور فائدہ بھی اُٹھا رہا ہے۔ سعودی عرب جیسا ملک، جسے اسلامی دنیا کا امام سمجھا جاتا ہے اسے بھی بھارت سے معاشی تعلقات عزیز ہیں اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آئندہ بھی بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو ایوارڈز دئیے جارہے ہیں۔
پاکستان میں تو عملی طور پر یہ صورتحال ہے کہ ہر سطح پر سقوط کشمیر کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور روز بیانات کی توپ چلائی جاتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھ نکال لی جائے گی۔بھارت کشمیریوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہا ہے اوراس کے جواب میں عمران خان اور ان کے سرپرستوں کی وہی تکرار ہے کہ اب کی مار تو بتاؤں۔ ہر مرتبہ تان یہیں پر آکر ٹوٹتی ہے کہ اگر پاکستان پر حملہ کیا گیا تو پھر بھارت کی خیر نہیں۔ یہ سوال پہلے بھی کئی بار پوچھا جاچکا ہے ، ایک بار پھر میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آخر بھارت پاکستان پر حملہ کیوں کرے گا۔ اسے تو جو کچھ کرنا تھا وہ کرچکا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایک اچھا موقع تھا کہ پاکستان بھار ت پر عالمی دباوؤپڑواتا اور اسے مجبور کرتا کہ وہ کم از کم 5اگست سے قبل کی پوزیشن بحال کرے اور استصواب رائے کاشیڈول اقوام متحدہ کو فراہم کرے۔ پاکستان نے اس سنہری موقع کو ضائع کردیا۔حالانکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اپنی رپورٹ میں خود مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا کونسل میں قراردار کی منظوری کیلئے صرف 24 ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے بعد جنرل اسمبلی کی بھی ایسی ہی صورتحال رہی کہ بھارت کے خلاف نہ تو کوئی قراردار پیش کی گئی اور نہ ہی کسی قرارداد کے ذریعے 5 اگست کے بھارتی اقدام کی مذمت کی گئی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے رکن ممالک بھارت کا معاشی و سیاسی مقاطعہ کریں تاکہ بھارت پر دباؤبڑھے اور وہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سیاسی ، معاشی و سفارتی دباؤاستعمال کرنے کی ضرورت ہے۔اگر پاکستان نے سیاسی ، معاشی اور سفارتی آپشن استعمال نہیں کئے تو پھر اس کے بعد صرف اور صرف فوجی آپشن ہی بچتا ہے جس کے نتیجے کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی اپنی تقریر میں بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ روایتی جنگ نہیں ہوگی بلکہ ایٹمی طاقت رکھنے والے دو ممالک کے درمیان جنگ ہوگی اور اس کے خوفناک نتائج کا سامنا صرف خطے کے لوگوں ہی کو نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اس کے تباہ کن اثرات پوری دنیا پر ہوں گے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سیاسی ،معاشی اور سفارتی دباؤپاکستان ہی کو ڈالنا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں اب تک زبانی جمع خرچ ہی سامنے آیا ہے۔ بھارت کے معاشی و سیاسی بائیکاٹ کا آغاز پاکستان ہی کوکرنا ہوگا۔ پاکستان کی فضائی حدودسے گزرنے والی بھارتی فضائی کمپنیوں پر پاکستانی حدود سے گزرنے پر فوری پابندی عائدکی جائے ، افغانستان کیلئے بھارت کو دی جانے والی تجارتی راہداری کی سہولت فوری طور پر واپس لی جائے ، بھارت کو پاکستانی نمک کی برآمد فوری طور پر روکی جائے اور کرتار پور کا بارڈر کھولنے کا منصوبہ ترک کیا جائے۔ اس سے پوری دنیا کو پیغام جائے گا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ ہے۔ چونکہ پاکستان نے خود بھارت کا سیاسی و معاشی مقاطعہ نہیں کیا ہے اس لئے سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کو ناکامی کا سامنا ہے۔
بلاشبہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بڑی جاندار تقریر کی تھی جس کی وجہ سے ملک کے اندر بھی ان کی ساکھ بحال ہوئی ہے جس کی عمران خان کو بہت ضرورت تھی۔ سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ لکھی ہوئی تقریر کے بجائے فی البدیہ طویل تقریر میں ان کی زبان نہیں مچلی اور انہوں نے بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا مقدمہ بڑی خوبی سے پیش کیا تھا۔ لیکن قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کیلئے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے سلیکٹروں کے پاس کیا لائحہ عمل ہے۔ وزیر اعظم اور ان کے سلیکٹروں کو علم ہونا چاہیے کہ دنیا کے مسائل پرجوش تقاریر سے حل ہورہے ہوتے تو یاسر عرفات کی اقوام متحدہ میں مشہور زمانہ تقریر کے بعد فلسطین کا مسئلہ حل ہوچکا ہوتا۔ امریکا ویتنام ، کمبوڈیا اور اب افغانستان سے اس لئے واپس نہیں جارہا ہے کہ ان ممالک کے رہنماؤں نے جوشیلی تقاریر کرکے امریکا کے پرخچے اڑا دیے۔ امریکا کو افغانستان میں مسلسل مزاحمت اور جنگ نے پسپائی پر مجبور کیا ہے۔ عمران خان کا تو یہ حال ہے کہ وہ بھارت کے خلاف فوجی معرکہ تو بعد میں لڑیں گے ، ان کی ہمت بھارت کے ساتھ معاشی جنگ کی نہیں ہوپارہی ہے۔ انہیں کشمیر کے بجائے دیگر مفادات اتنے محبوب ہیں کہ وہ کرتار پور کا راستہ یکطرفہ ہی کھولنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ عمران صاحب تقاریر تو آپ مدینہ کی ریاست ، آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے اور لینے کی صورت میں خودکشی کرنے والی سمیت بے شمار کرچکے ہیں۔ عوام کو سیدھا سادا سا نتیجہ بتائیں کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے شکنجے سے نکالنے کیلئے اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے بجائے حقیقی اقدامات بتائیں تاکہ قوم میں پھیلی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔ پاکستان دنیا کی بہترین فوج رکھتا ہے ، اپنے جہاز اور گولہ بارود خود بناتا ہے ، گزشہ چالیس برس سے مسلسل حالت جنگ میں ہے جس کی وجہ سے اس کی فوج کی تربیت میں کوئی شک ہی نہیں رہ گیا ہے ، شہادت کا شوق اس ملک کے بچے بچے کو ہے۔ اس سب کے باوجود بھی اگر پاکستانی قیادت بغیر لڑے ہی بھارت کے آگے ہتھیار ڈال دے تو اسے ایک اور نیازی کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
دنیا بس یہ جانتی ہے کہ مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن چکا ہے۔ اس میں بھارت نے کیا سازش کی اور بھٹو نے کتنی جذباتی تقاریر کیں تھیں ، کسی کو یاد نہیں۔ قوموں کے درمیان فیصلے اخلاقیات کے درس سے نہیں ہوا کرتے بلکہ تلوار وں سے ہوتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اب عمران خان عملی اقدامات پر توجہ دیں۔ اس وقت عمران خان کا خوشامدی ٹولہ واہ واہ میں مصروف ہے اور بہت عرصے تک عمران خان کو اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر کے خمار میں رکھے گا۔ اس عرصے میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنا قبضہ مزید مستحکم کرلے گا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو دنیا تسلیم کرتی چلی جائے گی۔ جس طرح سے فلسطین میں ہونے والا اسرائیلی ظلم و ستم اب معمول بن چکا ہے اور دنیا کیلئے اپنی کشش کھو چکا ہے بالکل یہی صورتحال بھارت کشمیر میں چاہتا ہے۔ پاکستان کو کشمیر پر ثالثی کی نہیں فیصلے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے ، یہ ان کا حق ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •