Voice of Asia News

ہمارامعاشرہ ،نوجوان نسل اور قرآنِ کریم:محمد قیصر چوہان

 
معاشرہ، افراد کے ایک ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے کہ جس کی بنیادی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے سے مشترکہ روابط موجود ہوں اور معاشرے کی تعریف کے مطابق یہ لازمی نہیں کہ انکا تعلق ایک ہی قوم یا ایک ہی مذہب سے ہو۔ جب کسی خاص قوم یا مذہب کی تاریخ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو پھر عام طور پر اس کا نام معاشرے کے ساتھ اضافہ کردیا جاتا ہے جیسے اسلامی معاشرہ، ہندوستانی معاشرہ اور مغربی معاشرہ۔ اسلام میں مشترکہ بنیادی ضروریات زندگی کہ اس تصور کو مزید بڑھا کر بھائی چارے اور فلاح و بہبود کے معاشرے کا قرآنی تصور، ایک ایسا تصور ہے کہ جس کے مقابل معاشرے کی تمام لغاتی تعریفیں اپنی چمک کھو دیتی ہیں،قرآن پاک کے تصور سے ایک ایسا معاشرہ بنانے کی جانب راہ کھلتی ہے کہ جہاں معاشرے کے بنیادی تصور کے مطابق تمام افراد کو بنیادی ضروریات زندگی بھی میسر ہوں اور ذہنی آسودگی بھی ہو۔ کسی بھی انسانی معاشرے کو اس وقت تک ایک اچھا معاشرہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب تک اس کے ہر فرد کو مساوی انسان نا سمجھا جائے اور ایک کمزور کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہوں جو ایک طاقتور کے پاس ہوں۔
انسان سے گھر بنتا ہے اور گھر سے ایک معاشرہ وجود میں آتاہے۔ انسان کا کردار اس کی فکر پر منحصر ہوتاہے۔ انسان ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے ۔جب ایک شخص پیدا ہوتا ہے تو نہ وہ پیدائشی طور پر شریف ہوتا ہے اور نہ ہی مجرم بلکہ اس کے ایک اچھے انسان بننے اور مجرم بننے میں یہ معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچہ اگر ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہو جس جگہ کے افراد پڑھے لکھے، با شعور اور با اخلاق ہوں تو فطری طور پر وہ بچہ اچھے اخلاق کا مالک ہوگا۔ ایک اچھا انسان بنے گا لیکن اس کے برعکس اگر ایک بچہ ایسے معاشرے میں آنکھ کھولتا ہے جس جگہ کے لوگ بے شعور، بد اخلاق اور ان پڑھ ہوں تو یہ باتیں بچے پر منفی اثرات مرتب ضرور کریں گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر وہ معاشرہ مختلف طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو تو یہ سب باتیں چھوٹی چھوٹی برائیوں سے برے کاموں کی طرف لے جاتی ہیں اور ایک اچھے بھلے انسان کو مجرم بنا دیتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ پر سکون ہو اور ہر طرح کی برائیوں سے پاک ہو تو ہمیں سب سے پہلے اپنے نفس کو ٹھیک کرنا ہوگا اور دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے خود اپنے آپ کو بے عیب کرنا ہوگا کیونکہ اچھا معاشرہ بہترین انسانوں سے ہی تشکیل پاتا ہے۔
ہر قوم کی قوت اخلاق و کردار ہوا کرتی ہیں اور اس کی عظمت و سر بلندی کی تاریخ اسی سے رقم ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اخلاق پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: میں اخلاق کی تکمیل کیلئے خدا کی جانب سے دنیا میں بھیجا گیا ہوں مگر افسوس کہ مسلمان رفتہ رفتہ اپنی تہذیب وثقافت بھول گئے اور مذہب سے دوری کے ساتھ ساتھ بے راہ روی کا شکار ہوگئے اور اسلام کی دعوت و تربیت کو فراموش کرگئے۔ جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے شرمی و بے حیائی ,جھوٹ و چغلخوری, فریب, غرور و تکبر سرایت کر گئے اور اس طرح دنیا کو تہذیب و تمدن کا درس دینے والی قوم خود غیر مہذب ہو کر رہ گئی۔ دوسری قوموں کو اپنے عمدہ اخلاق و کردار اور حسن سلوک سے زیر کرنے والی قوم آج خود ان اوصاف سے عاری ہو کر رہ گئی ہے۔ اسلام دینی احکامات کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار سازی، مساوات و بھائی چارگی، امانتداری و رواداری کا درس دیتا ہے۔ بد دیانتی اور رشوت خوری سے روکتا ہے تا کہ عزت و شرف کا تاج ان کے سر پر برقرار رہے۔ کسب حلال، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک اور حق گوئی کی تلقین کی گئی۔ دین کا جزو ہونے کی وجہ سے ہی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ سلم نے پڑوسیوں کی حق تلفی کرنے والے کے ایمان کی نفی کی ہے۔
لہٰذامسلمانوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے اور انہیں خود فیصلہ کرنا پڑے گا کہ نماز کی پابندی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ بد سلوکی، حج بیت اﷲ کی سعادت و ادائیگی کے ساتھ سود و رشوت, پڑوسیوں یا دیگر حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی، زبان پر تسبیح پروردگار سے زیادہ گالم گلوج اور غیبت؟ کیا یہ ایمان کی علامت ہے۔ اسلام میں غیبت سے منع کیا گیا ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا۔اس قدر سخت تاکید کے باوجود مسلمانوں میں یہ برائی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ جھوٹ تو اس طرح بولتے ہیں جیسے ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔ جب کہ اسلام میں جھوٹ کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ وعدہ خلافی مسلمانوں کے یہاں کوئی عیب نہیں جب کہ پیغمبر اسلام ؐنے وعدہ خلافی کو منافقوں کی پہچان میں سے ایک قرار دیا ہے۔ آج مسلم معاشرے میں متعدد اخلاقی کمزوریوں کے ساتھ بے شمار برائیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ خیانت، بد دیانتی، بے راہ روی، اوہام پرستی اور کمزوروں پر ظلم و زیادتی جیسی برائیاں عام ہو گئی ہیں۔ مسلمانوں میں ایثار و قربانی، ہمدردی اور خدمت خلق کا جذبہ باقی نہیں رہا۔ معاشرے میں جھوٹ، دشنام طرازی، غیبت و بے حیائی اور سود خوری کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ جس کی وجہ سے قوم کی حالت تباہ اور عزت ذلت و رسوائی میں تبدیل ہو گئی۔ دین کا نام رہ گیا اور بے جا رسم و رواج نے لوگوں کو اپنی زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج نئی نسل بے راہ روی اور تعلیم سے دور نشہ کی عادی اور تہذیب و تمدن سے عاری ہوگئی۔ یہی وہ برائیاں ہیں جس نے قوم کو سماجی، معاشرتی ، اقتصادی اعتبار سے انتہائی کمزور کردیا۔
اسلام کی پاکیزہ تعلیمات نوجوان نسل کو اچھے اخلاق وکردار کاحامل بنانا چاہتی ہے، صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ اجمعین نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا ، اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم! انسان کو جو کچھ عطا ہوا ہے، اس میں سب سے بہتر کیاہے؟ تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا اچھا اخلاق!حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان والوں میں زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں، جو اخلاق کے اعتبار سے زیادہ اچھے ہیں، بلاشبہ اخلاق کا مقام بہت بلند مقام ہے اور انسان کی سعادت ونیک بختی، فلاح وکامرانی کے معراج میں اخلاق کابڑا اہم اور خاص دخل ہے۔اسلام کی پاکیزہ تعلیمات نوجوان نسل کواخلاقِ حسنہ کا درس دیتی ہیں، بزرگوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی قدر ومنزلت، محتاجوں اور بے کسوں کی دادرسی ہم عمروں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہ ایثار وہمدردی کا سبق دیتی ہے، معلم اخلاق حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث مبارک ہے کہ ’’جو شخص چھوٹوں کے ساتھ رحم اور بڑوں کی توقیر نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں‘‘بظاہر یہ ایک مختصرسی حدیث ہے لیکن اپنے اندر ایسی وسعت وگہرائی رکھتی ہے کہ اگر ساری کائنات اس حدیث پر عمل کرلے تو دنیا کے سارے جھگڑے ختم ہوجائیں، ظاہر ہے کہ اگر ہر شخص اپنے چھوٹوں سے پیارو محبت، شفقت ورحم کا معاملہ اور نرمی کا برتاؤ کرے اور ہر چھوٹا اپنے بڑوں کی عزت واحترام کو ملحوظ رکھے، ان کی تعظیم وتکریم کرے تو جذبہ ایثار وہمدردی پروان چڑھے گا اور اس طرح معاشرہ الفت ومحبت کا گہوارہ بن جائے گا۔اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کے جذبہ ایثار اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کی ایسی بے شمار مثالیں پائی جاتی ہیں، جس کی نظیر کسی دوسری قوم ومذہب میں نہیں ملتی۔
انسانی معاشرہ افراد کے باہمی تعلقات اور روابط کا دوسرا نام ہے جو چند اصولوں اور ضوابط کے تحت استوار ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اسلامی معاشرے میں ان تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور وہ کون سے اصول و ضوابط ہیں جن کے تحت وہ پروان چڑھتے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ بندوں پر خالق کے حقوق کیا ہیں ؟ اس کے بغیر معاشرے میں کسی نظم و ضبط کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃیہ سب بندگی کے تقاضے ہیں کیونکہ خالق و مخلوق کے درمیان حقوق کے بارے میں جب تک انسانی ذہن واضح نہ ہو تب تک بہت سی الجھنیں پڑ جاتی ہیں۔ جب انسان یہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی نماز ، قربانی ، اس کا جینا مرنا سب کچھ اﷲ رب العالمین کے لئے ہے اور پھر ہر کام کو اﷲ تعالیٰ کی رضا پر چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک روحانی حصار میں اﷲ تعالیٰ کے مقررکردہ نظم وضبط کا پابند بنا لیتا ہے۔ پھر اس کے بعد حقوق العباد قرآنی احکام کی نمایاں خصوصیت ہے۔ اﷲ اور بندے کے حقوق متعین کرنے کے بعد بندوں کے باہمی تعلقات کو حقوق العباد کی لڑی میں پرودیا گیا کہ ان پر کاربند ہونے سے ایک صحت مند اور امن و امان کا علمبردار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ قرآن حکیم کی روشنی میں اولاد کے حقوق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی اولاد کی محبت اﷲ تعالیٰ کی رضا اور اس کے احکام سے روگردانی کا موجب بن جائے تو پھر وہ فتنہ بن جاتی ہے۔ دوسری طرف بچوں کی تربیت ، تعلیم ،پرورش اور وراثت کے بارے میں صاف احکام موجود ہیں۔ والدین پر ذمہ داریوں کے ساتھ اولاد سے بھی توقع کی گئی ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کریں۔ سورۃبنی اسرائیل میں ان سے حسن سلوک سے پیش آنے کی تلقین کی گئی۔
والدین اور اولاد کے باہمی تعلقات کے بعد میاں بیوی کے تعلقات ایک صحت مند معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ان کے بارے میں متوازن اور ہمہ جہتی راہ عمل کی نشاندہی ہوتی ہے۔ میاں کو بیوی کا لباس قرار دیا گیا اور بیوی کو میاں کا۔ پھر ان کے درمیان تعلقات کی نوعیت کی وضاحت کر کے ان کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے چند اصول بھی بنا دئیے گئے جو آئندہ نسلوں کی فلاح اور بہتری کیلئے بھی خوشگوار اثرات پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن مجیدسے پہلے عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا۔ قرآن مجید نے اس کو مقام بلند عطا فرمایا اور عورت اور مرد کے درمیان فطری مساوات پید ا کی دی۔ ماں او ر بیوی کے معاشرے میں مقام متعین کرنے کے بعد عورت کو دنیا کی بہترین نعمت قرار دیا۔ جہاں مردوں کو تحصیل علم کی ہدایت فرمائی وہاں عورتوں کو بھی اس سے محروم نہیں رکھا گیا۔ عورت کو وراثت کا حقدار ٹھہرایا مگر افسوس کہ ہم اپنی تعلیمات کے روحانی ورثے کو چھوڑ کر دیگر تصورات کا شکار ہو گئے۔ عورت کو تشہیر کا ذریعہ بنا دیا گیا اور نسوانی وقار کو نام نہاد آزادی کی بھینٹ چڑھا دیا جس سے معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو گیا۔ قرآن کریم نے اپنے غلاموں سے بھی حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم دیا۔ قرآن کریم ہمسائیوں سے بھی حسن سلوک کی توقع کرتا ہے۔ مہمانوں کے بارے میں حکم ہے کہ ان سے محبت اور ایثار سے پیش آؤ۔ اسی طرح مہمانوں سے بھی توقع کی گئی کہ وہ اپنے میزبانوں سے حسن سلوک کریں۔ یتیموں سے نیک سلوک کی بار بار تاکید کی گئی۔ سائل کو بھی جھڑکنے سے منع فرمایا گیا غرضیکہ کوئی طبقہ بھی معاشرے میں ایسا نہیں جسے حسن سلوک کے بارے میں واضح احکامات نہ دئیے گئے ہوں۔
حقوق العباد متعین کرنے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ معاشرے میں حسن معاشرت کس طرح رائج کیا جا سکتا ہے۔ صبرو تحمل کی قرآن پاک میں متعدد بار تاکید کی گئی۔ نماز کے ساتھ صبر کی بھی تلقین کی گئی۔ غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پانا تقویٰ کی عمدہ صورت ہے۔ اسی طرح بلند ہمتی ، مستقل مزاجی ، عفوو درگزر ، عا جزی و انکسار ی، قناعت و امانت ، دیانت و حسن معاملات غرضیکہ معاشرہ میں افراد کے باہمی تعلقات کو خوشگوار بنانے میں جن اخلاق عالیہ کی ضرورت پڑتی ہے ان کی ہدایت کی گئی۔ عمل و انصاف پر زور دیا گیا۔ مختصراً یہ کہ قرآن پاک آدمی کو انسان بننے کا راستہ دکھاتا ہے۔ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد اور تنظیم پر خاص طور پر زور دیا گیا کہ ’’ اﷲ کی رسی مضبوط پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو ‘‘۔ جہاں تک معیشت کے مسائل اور معاشی زندگی کا تعلق ہے اسلامی قانون وراثت میں یہ حکمت ہے کہ وہ جائیداد کے ارتکازکو روکتا ہے۔ اسلام سودی نظام سے سخت منع کرتا ہے۔اسلامی معاشرہ حقوق اﷲ کے ساتھ معاشی اور معاشرتی اقدار کو انسانی فطرت اور روحانیت کی کسوٹی پر پرکھ کر اس کی روشنی میں ایک قابل عمل اور متوازن ضابطہ حیات وضع کرتا ہے جس پر عمل کر کے ہمارے آباؤاجداد نے اﷲ کی نصرت حاصل کی ۔اور ہم اس سے کنارہ کشی کر کے پستی کا شکار ہو گئے۔
قرآن مجید ہمارے لئے مشعل راہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ قرآن مجید نے زندگی کے ہر پہلو اور گوشے سے متعلق رہنمائی عطا کی ہے۔ جن قوموں نے قرآن پاک کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا وہی عروج اور ترقی سے ہمکنار ہوئیں اور جن قوموں نے قرآنی تعلیمات پر عمل نہ کیا وہ ذلیل و خوار ہو گئیں۔قرآنی احکام زندگی کے ہر پہلو اور ہر گوشے پر حاوی ہیں۔ معاشرت ، تجارت ، سیاست ، تعلیم غرضیکہ کونسا ایسا شعبہ ہے جہاں اﷲ تعالیٰ کا کلام ہماری رہبری نہیں کرتا۔ قرآن کریم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کے لائے ہوئے ضابطہ حیات میں اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔ اﷲ تعالیٰ کا حکم بالکل واضح ہے کہ ہم بغیر کسی استشنا کے اپنی زندگی کو اسلامی قوانین کے تحت لے آئیں۔ ہمارے خیالات ، طرز زندگی ، رہن سہن ، طور طریقے ، لین دین اور تمام معاملات سب کے سب اسلامی احکامات کے مطابق ہوں اور اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کھلی منافقت ہے۔زندگی کے تمام مسائل میں قرآنی احکام ہماری رہنمائی کرتے ہیں مگر آج ہماری نظر میں روحانی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ زمانے کا ساتھ دینے کی خواہش سے ہماری اخلاقی قدریں پامال ہو گئیں ، غیروں کا شعار اپنانے کے شوق میں اپنے پرائے ، اچھے اور برے میں تمیز ختم ہو گئی۔ اپنے اسلاف کی روایات کو قدامت پسندی کا نام دے کر ختم کر دیا اور تو اور تمام اخلاقی اور روحانی بندھنوں سے آزاد ہو گئے۔ ان حالات میں کوئی بھی معاشرہ نا صر ف ترقی نہیں کر سکتا بلکہ اپنی تمام اخلاقی قدریں بھی کھو دیتا ہے۔ قرآن حکیم کو جانتے بوجھتے نظر انداز کر کے ہم نے دوسروں کے قانون ، رسم و رواج اور روایات کو اپنا لیا ہے جس وجہ سے معاشرہ مسلسل انحطاط کا شکار ہو گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآنی احکامات پر عمل کیا جائے۔ معاشرے میں اسلامی تصورات اور نظریات لاگو کئے جائیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •