Voice of Asia News

’’العلاء جزیرہ نما عرب کا تاریخی مقام‘‘ کے عنوان سے پیرس میں نمائش شروع

پیرس (وائس آف ایشیا)پیرس میں عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام 9 اکتوبرسے ایک نمائش شروع ہو چکی ہے جو 19 جنوری 2020ء تک جاری رہے گی۔’’العلاء جزیرہ نما عرب کا تاریخی مقام‘‘ کے عنوان سے اس نمائش میں سعودی عرب کے علاقے العلاء کی سات ہزار پرانی تاریخی اور تہذیبی نوادرات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے سائنس وثقافت سنہ 2008ء العلاء کو ’’عالمی ثقافتی ورثہ‘‘ کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ اس میں سعودی عرب کے علاقے العلاء کی تاریخی نوادارت، نمونے اور مجسمے پیش کیے جا رہے ہیں۔نمائش میں قدیم تہذیبوں کے حقائق سے پردہ اٹھانے والے نادر نمونے بھی شامل ہیں۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی نمائش میں سعودی عرب کے علاقے العلاء میں گذشتہ سات ہزار سال سے اس علاقے کی تہذیبوں، زمانہ جاھلیت کی یادگاروں، اْموی، عباسی اور عثمانی خلافتوں کے ادوار میں ہونے والی تہذیبی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ علاقہ پانی کے چشموں اور سرسبز وادیوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ اس کے ساتھ اس کے سمندر کو ہندوستانی تاجر جزیرہ نما عرب، مصر اور دوسرے علاقوں میں عطریات اور دیگر اشیا فراہم کرتے تھے۔عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کے صدر جیک لینگ نے کہا یہ تاریخی دن ہے اور دنیا کی پہلی نمائش میں العلا کی خوبصورتی اور اس کی 7000 سالہ تاریخ کا پتہ چلتا ہے۔ ہم نے مل کر کام کیا۔ گویا ہم فنون اور آثار قدیمہ سے پیار کرنے والا ایک کنبہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس میں لگائی نمائش یورپی یونین اور امریکا کے عجائب گھروں میں بھی لگائی جائے گی۔یہ ایک انوکھی نمائش ہے جس میں ایک ایسی جگہ کی کہانی بیان کی گئی ہے جہاں تہذیبوں اور قونوں کے فنون لطیفہ، تعمیرات اور زراعت اور دیگر شعبوں کے آلات اور تاریخی نودارات پیش کی گئی ہیں۔ماہرین آثار قدیمہ لیلی نعمہ نے جو برسوں سے العلاء سائٹ پر کام کرتی رہی ہیں نے کہا کہ انہیں العلاء کے کھنڈرات میں کھدائیوں سے یکے بعد دیگر کئی تہذیبوں کے آثار ملے جنہوں نے اس علاقے میں ماہرین آثار قدیمہ کی دلچسپی مزید بڑھا دی۔العلاء کے حوالے سے لگائی کی نمائش میں مجسمے اور زائرین کی تفریح کے لیے دیگر تاریخی نوادرات کی بڑی تعداد، ٹیکسٹائل ، چمڑے اور کپڑے، رومن مخطوطات اور دیگر تاریخی آثار شامل ہیں۔نمائش کو مزید دلچسپ اور زائرین کے لیے پرکشش بنانے کے لیے العلاء کی جان آرٹوس برٹرینڈ کی لی گئی فضائی تصاویر بھی پیش کی گئی ہیں جنہیں دیکھ کر زائرین علاقے کے صحراء ، نخلستان، سرسبز باغات، چٹانوں اور دیگر خوبصورت مناظر میں ڈوب جاتے ہیں۔عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر معجب الزہرانی نے کہا کہ یہ منفرد نمائش فرانسیسیوں اور عربوں کو متاثر کرے گی کیونکہ انہیں العلا کی تہذیبوں کے بارے میں دریافت کرنے کو بہت کچھ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے سائنس وثقافت سنہ 2008ء العلاء کو ’’عالمی ثقافتی ورثہ‘‘ کی فہرست میں شامل کر چکا ہے جس کے بعد اس علاقے کی عالمی سیاحتی اہمیت مزید دو چند ہو گئی ہے۔
وائس آف ایشیا9اکتوبر2019 خبر نمبر34

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •