Voice of Asia News

چینی قیادت کیساتھ تجارتی و اقتصادی تعاون اور سی پیک پر بات ہوئی ،شاہ محمود قریشی

بیجنگ(وائس آف ایشیا)وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ حالیہ دورے میں چینی قیادت کیساتھ تجارتی و اقتصادی تعاون اور سی پیک پر بات ہوئی ، 16 اگست کو دونوں ممالک مشترکہ حکمت عملی سے آگے بڑھے، جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل اجلاس میں بھی مشترکہ حکمت عملی اپنائی گئی۔ انہوں نے وزیر اعظم کے دورہ چین کے حوالے سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے مختصر دورے پر بھارت روانہ ہو رہے ہیں جس سے قبل ان سے ملنا ضروری تھا، وزیراعظم پاکستان کے دورے کے دوران چینی قیادت کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری، مسئلہ کشمیر سمیت خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے اہم امور پر بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر پوزیشن واضح ہے، چین نے پاکستان کا تاریخ موقف اپنایا،دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر موڑ پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لیتے ہیں،وزیر اعظم عمران خان کا تیرہ مہینوں میں چین کا تیسرا دورہ ہے ہماری خواہش ہے کہ جس طرح انہوں نے مہمان نوازی کی ہے انہیں بھی پاکستان آنے کی دعوت دی جائے ،ہماری چین کے وزیر اعظم کے ساتھ دو ملاقاتیں ہوئی ہے اور وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے ہیں ان مذاکرات میں ہم نے تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ اور سی پیک کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے،ہم نے دو طرفہ اقتصادی تعاون کو کیسے آگے لے کر چلنا ہے اس پر بھی بات چیت ہوئی،بہت سی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے،پانی کے مسئلے پر پر ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے گوادر بھی اس سے مستفید ہو گا،تعلیم کے شعبے میں ایم او یو پر دستخط کئے گئے ہیں،معذور افراد کی فلاح و بہبود کیلئے بھی ایک دو طرفہ یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں ،نارکوٹکس کنٹرول کے حوالے سے بھی ایم و یو پر دستخط کئے گئے۔
وائس آف ایشیا9اکتوبر2019 خبر نمبر11

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •