Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر، ذرائع مواصلات پر پابندی’’ای بزنس ٹھپ‘‘ سینکڑوں روزگار سے محروم

سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں ذرائع مواصلات پر عائد پابندی کے باعث ’’ای بزنس‘‘ بھی ٹھپ ہو چکا ہے اور سینکڑوں نوجوان روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پانچ اگست سے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجہ سے ای کامرس سے متعلق تمام ویب سائٹس لگاتار بند ہیں۔ سرور نامی ایک نوجوان نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ ’’فلپ کارٹ‘‘نام کی بزنس ویب سائٹ کے ساتھ کام کر رہا تھا جس سے نہ صرف اس کا اپنا بلکہ گھر کا خرچہ بھی نکلتا تھا لیکن دو ماہ سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ کی بندش کے باعث اب وہ بے روز گار ہو چکا ہے ۔ مشتاق احمد نامی ایک نوجوان نے کہا کہ انٹرنیٹ بند ہونے سے اسکا کام ٹھپ ہو گیا ہے اور نوبت فاقہ کشی تک پہنچی ہے ۔ نوجوان نے کہا کہ اسکا اب نہ ہی اپنی ای کمپنی سے اور نہ اپنے گاہکوں کے ساتھ کوئی رابط ہے۔ محمد حسین نامی ایک نوجوان نے کہا کہ ای کامرس کے ذریعے اس نے کئی کتابیں خریدیں تھیں لیکن انٹرنیٹ بند ہونے سے اب وہ ضرورت کی کتابیں خریدنے سے محروم ہے ۔یاد رہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم فرقہ پرست بھارتی حکومت نے پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی اور اس غیر قانونی اقدام کے خلاف کشمیریوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ اور انٹرنیٹ ، موبائل فون سروسز سمیت تمام ذرائع موصلات معطل کر دیے تھے ۔پابندیوں اور ذرائع مواصلات کی معطلی کو لگ بھگ ڈھائی ماہ ہو گئے جس کی وجہ سے کشمیری گونا گوں مصائب و مشکلات سے دوچار ہیں۔
وائس آف ایشیا12اکتوبر2019 خبر نمبر81a

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •