Voice of Asia News

بچوں کی تربیت: والدین اور اُستاد کا کردار: محمد قیصر چوہان

انسانی زندگی خوبصورت ہے لیکن اس کا خوبصورت ترین حصہ بچپن ہے۔ بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ وہ نرم و ملائم ہوتے ہیں اور بڑی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور بیش قدر سرمایہ ہوتے ہیں۔ان کی اعلی تربیت ،عمدہ تعلیم اور مناسب پرورش مہذب نگہداشت اور خصوصت دیکھ بھال والدین کی ذمہ داری ہے۔آج کے اس پْر فتن دور میں والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے بچوں میں تعلیم کی خواہش پیدا کرانا اہم ہے بچوں پر سرمایہ کاری سب سے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری ہے۔بچے کی شخصیت اندرونی اور بیرونی عوامل مثلاً والدین، تعلیم و تربیت، سازگار ماحول اور افرادِ معاشرہ سے مل کر تشکیل پاتی ہے۔ اگر معاشرہ صحت مند اقدار کا حامل ہو تو اس کی آغوش میں بچے کیلئے تعمیرشخصیت کا عمل آسان ہو جاتا ہے، اس کے برعکس اگر معاشرہ شرپسند عوامل پر مشتمل ہو تو نسلِ نو خودبخود گمراہی کا شکار ہو جاتی ہے ۔چنانچہ جو اعلیٰ اقدار کی روش اختیار کرنا چاہیں تو انہیں کٹھن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ معاشرہ افراد کیلئے تربیت گاہ بھی ہے اور کسوٹی بھی، اس لئے معاشرے سے الگ رہ کربچوں کی تعمیر شخصیت کی کوشش کرنا پانی سے باہر تیراکی سیکھنے کے مترادف ہے۔بچے کا دل ایک عمدہ، صاف اور سادہ آئینہ کی مانند ہوتا ہے جو بالفعل اگرچہ ہر قسم کے نقش و صورت سے خالی ہے اس کے باوجود ہر طرح کے نقش و اثر کو فوری قبول کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ اْسے جس چیز کی طرف چاہیں مائل کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس میں اچھی عادات پیدا کی جائیں اور اسے علم نافع پڑھایا جائے تو وہ عمدہ نشو و نما پا کر دُنیا و آخرت کی سعادت حاصل کر لیتا ہے۔ یہ ایک ایسا کارِ خیر ہے جس میں اس کے والدیناور اساتذہ سب حصہ دار ہو جاتے ہیں لیکن اگر اْس کی بری عادات سے صرفِ نظر کیا جائے اور اسے جانوروں کی طرح کھلا چھوڑدیا جائے تو وہ بداخلاق ہو کر تباہ ہو جاتا ہے جس کا وبال اس کے ولی اور سرپرست کی گردن پر پڑتا ہے۔
بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت اوران کی کردار سازی میں والدین کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ والدین بطور خاص آغوشِ مادر دُنیا کی پہلی درس گاہ ہے جو نومولود کے سطحِ ذہن پر ابتدائی نقش و نگارمرتسم کرتی ہے۔ ایک صالحہ ماں بچے کی تربیت اس انداز میں کرتی ہے تاکہ وہ بڑا ہو کر اچھے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار بہتر طور پر ادا کر سکے۔ایسی ہی عظیم ماؤں کے بارے میں نپولین نے کہا تھا:’’تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔‘‘جبکہ علامہ اقبال نے فرمایا تھا:’’قوموں کی تاریخ اور ان کا ماضی و حال ان کی ماؤں کا فیض ہے‘‘۔تاریخ کا بغور مطالعہ کرنے سے ہمیں ہر عظیم شخصیت کے پیچھے ماں کا کردار کار فرما نظر آتا ہے۔ باکردار نیک ماؤں نے بچوں کی بے مثال تربیت کرتے ہوئے معاشرے کو ایسے باکمال افراد پیش کئے کہ جن میں سے ہر کو ئی اعلیٰ و ارفع کردار سے مزین، انسانی اقدار کا حامل اور معاشرے کیلئے مفید اور موثر ثابت ہوا۔ماں کی طرح باپ بھی اولاد کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دُنیا کے تمام مذاہب نے بچوں کی قبل از پیدائش سے بلوغت تک کی بنیادی ضروریاتِ زندگی مثلاً خوراک، لباس، رہائش، تعلیم اور علاج کی فراہمی پر خرچ کرنا والدکی اولین ذمہ داری قرار دیا ہے۔
اُولاد کی اچھی یا بْری تعلیم و تربیت کا دار و مدار والدین کی پرورش اور نگہداشت کے ساتھ ساتھ ان کی صحیح خطوط پر ذہن سازی اور اخلاق و کردار پر منحصر ہوتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ عزت افزائی، حوصلہ افزائی اور تعریف میں سب سے زیادہ اولیت بچوں کی کامیابیوں کو دیں خواہ وہ کامیابی ان کی نظر میں کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ اس لئے کہ وہ کامیابی بچے کی ذاتی صلاحیتوں کے اعتبار سے بہت بڑی ہوتی ہے لہٰذاوالدین کو چاہیے کہ بچوں کی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی کو بھی سراہیں۔ جب انہیں والدین کی ایسی محبت اور تعریف و توصیف ملے گی تو انہیں محسوس ہوگا کہ ان کے والدین اْن پر اعتماد کرتے ہیں۔ پھر خود اعتمادی کا یہ احساس انہیں مزید سیکھنے، نشو و نما پانے اور کامیاب ہونے کی طرف راغب کرے گا اور دوسروں سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے میں بھی ممد ومعاون ثابت ہو گا۔والدین کے پیش نظر ہمیشہ یہ امر رہنا چاہیے کہ اپنے بچوں کا کسی بھی دوسرے بچے سے موازنہ نہ کریں۔ اگر کسی بچے میں جسمانی نقص ہو یا وہ ذہنی طور پر کمزور ہو تو بجائے اس کو یہ احساس دلانے کے کہ وہ معذور یا کمزور ہے، بلکہ اس کا حوصلہ بڑھانے کیلئے اسے ایسے لوگوں کے واقعات سنانے چاہیں جنہوں نے معذوری اور کمزوری کے باوجود دُنیا میں اتنا نام کمایا۔دورانِ تربیت والدین کو چاہیے کہ اگر کسی بچے سے کوئی غلط کام صادر ہو جائے تو اسے ملامت نہ کی جائے اور نہ اسے کسی بْرے لقب سے نوازا جائے۔اس کے غلط رویے پر تنقید ضرور کی جائے مگر اس کی عزتِ نفس ہرگز مجروح نہ کی جائے۔ اس کیلئے کسی مناسب موقع کا انتظار کر کے مجموعی طور پر اس بچے کا نام اور مخاطب کیے بغیر اس کوتاہی یا غلطی کی طرف اشارہ کرنا چاہیے۔ اس سے ایک تو غلطی کرنے والے کو خود احساس ہو جاتا ہے اور وہ اسے ترک کر دیتا ہے اور اسے یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ بات خاص طور پر اسے کہی جا رہی ہے۔ دوسرا باقی سب بچوں کو بھی تنبیہ ہو جاتی ہے۔ ہاں اگر انفرادی تنبیہ زیادہ بہتر ہو تو مثبت انداز میں تنہائی میں کر دینی چاہیے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لاڈ پیار میں والدین بچے کی ناجائز ضد اس کے چیخنے چلانے کی وجہ سے پوری کر دیتے ہیں، اس سے بچے کی عادت بگڑ جاتی ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ رونا اور ضد کرنا اپنا مطالبہ منوانے کا موثر طریقہ ہے۔
بچوں کی تعلیم و تربیت اور تعمیرشخصیت کو بہتر بنانے کیلئے والدین کو بطورِ خاص یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ باہمی گھریلو اختلافات اور ازدواجی جھگڑوں سے جس قدر ممکن ہو گریز کریں۔ کسی بات پر اختلاف ہونے کی صورت میں بچوں کے سامنے بحث و مباحثہ سے اجتناب کریں کیونکہ ان کی باہمی رنجش اور چپقلش کے اثرات بچے کے ذہن و دماغ پر شعوری اور لاشعوری طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچے کم عمر ہوتے ہیں مگر ان کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے۔ جب والدین آپس میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں تو بچے اپنے کسی رد عمل سے انہیں محسوس نہیں ہونے دیتے مگر وہ دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں اوریہی بھیانک منظر ان کی یاد داشت پر ثبت ہو رہا ہوتا ہے۔وہ اکثر سوچتے ہیں کہ ہمارے والدین کے آپس کے جھگڑے تو ختم نہیں ہوتے۔ خوامخواہ ہم پر رعب ڈالتے ہیں۔ جب ماں بچوں پر کسی وجہ سے ناراض ہو رہی ہوتی ہے تو وہ دل میں کہتے ہیں کہ والد کی ناراضگی کا غصہ ہم پر نکال رہی ہیں۔ اسی طرح جب باپ غصے میں بچوں سے بات کرتا ہے تو وہ سوچتے ہیں کہ امی، ابو کی بات نہیں مانتیں تو ابو غصہ ہم پر نکال رہے ہیں۔اس لئے والدین کو چاہیے کہ گھر کا داخلی ماحول خوشگوار بنائیں اور اپنے باہمی لڑائی جھگڑے یا اختلافات کا بچوں کے سامنے اظہار کرنے سے گریز کریں۔
عام طورپر یہ سمجھاجاتا ہے کہ اُستاد کا کام صرف تعلیم دینا ہوتا ہے ا ور تربیت کرنا والدین کا فرض ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت دو مختلف چیزیں نہیں اور جدید تعلیمی نفسیات نے دونوں کو کچھ اس طور پر یکجا کیا ہے کہ تعلیم بغیر تربیت کے اور تربیت بغیر تعلیم کے اپنا کوئی مقام نہیں رکھتیں،اساتذہ اوروالدین کا باہمی رابطہ ان کی گاہے گاہے ملاقاتیں دونوں کیلئے انتہائی ضروری ہیں،والدین کیلئے تو اس واسطے کہ وہ بچے کی سکول کی مصروفیات اس کی تعلیمی ترقی کھیل کے میدان میں اس کی کار گزاریوں نیز ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ اس کے روابط سے واقف ہوسکیں،اور اساتذہ کے واسطے اس لئے کہ وہ بچے کو مکمل طور پر سمجھ سکیں اور اس کی نجی زندگی کا کوئی رخ ان سے پوشیدہ نہ رہے۔ والدین ،اُستاد کو گھر میں بچے کے رویے اس کے مزاجی رجحانات اس کی عادات اور اس کی پسند و ناپسند کے بارے میں بہت کچھ بتاسکتے ہیں گھر میں ہونے والے مختلف واقعات و حالات اور حادثات بچے کی جذباتی زندگی پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں،استاد کا ان سب سے باخبر رہنا نہایت ضروری ہے اساتذہ اور والدین کا باہمی ربط اس لیے بھی بے حد ضروری ہے کہ والدین بچے کا بہت قریبی علم رکھتے ہیں اور اساتذہ بچوں کی نفسیات کے بارے میں ماہرانہ علم رکھتے ہیں لہٰذا دونوں فریقوں کے ملنے اور تبادلہ خیال کرنے سے ایسے نتائج مرتب ہوسکتے ہیں جو بچے کی زندگی پر خوشگوار اثر ڈالیں اور جن سے بچے کے لیے مفید رہنمائی حاصل ہوسکے،اُستاد اور والدین دونوں کے پیش نظر ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے:بچہ اور اس کی بہبود پس جب دونوں ایک ہی مقصد کیلئے کام کرتے ہیں تو اگر ان میں اشتراک و تعاون ہو وہ ایک دوسرے سے ملتے رہیں ایک دوسرے کے نظریات اور ایک دوسرے کی مشکلات کا علم رکھیں تویہ کام یقینا زیادہ احسن طریق پر انجام پاسکتا ہے۔اُستاد کا سب سے بڑا اور سب سے مقدس فرض یہ ہے کہ وہ بچے کو زندگی کر کڑے امتحان کیلئے تیار کرے اور اس کیلئے نہایت ضروری ہے کہ وہ بچے کی علمی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کی عملی زندگی پر بھی نظر رکھنے کیلئے اساتذہ کو والدین کی مدد ان کے اشتراک و تعاون اور ان کے ساتھ رابطہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ سکول میں استاد بہت تھوڑے وقت کیلئے بچوں سے ملتے ہیں اور اس وقت میں بھی حجاب درمیان میں رہتا ہے جس کی باعث بچے اُستاد سے مکمل طور پر بے تکلف نہیں ہوپاتے۔اس کے مقابلے میں بچہ گھر میں پورے طور پر آزاد ہوتا ہے اوروالدین کے سامنے اْس کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ موجودہ دور میں تعلیم اور اس کا مقصد ہی بچے کی تمام صلاحیتوں کی تربیت اس کی کل جبلتوں کی تسکین یعنی اس کی بھرپور نشوونما ہے۔بچے کی گروہی جبلت گھر میں بھی ظاہر ہوتی ہیں لیکن زیادہ نمایاں سکول میں ہوتی ہیں جبکہ اسے بہت سے ہم جولی اور ہم عصر کھیلنے کیلئے ملتے ہیں اُستاد کو بچوں کی بھاری تعدادکو کنٹرول کرناپڑتا ہے اسے بچوں کی گروہی جبلت سے فائدہ اٹھانا چاہیے بچے بہت کچھ آپس میں بھی ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں مل بانٹ کر کھانا ،کسی کا حق نہ مارنا،خراب حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا،گروپ اسپرٹ اور اپنی پارٹی کیلئے کام کرنا،یہ سب وہ باتیں ہیں جو بچے کی گروہی جبلت کی تربیت میں آجاتی ہیں بچے جو کھیل کھیلتے ہیں ان میں اپنی اسی جبلت کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
انسان ایک سماجی حیوان ہے مل جل کر رہنا اس کی فطرت میں ہے۔ انسان کی معاشرتی زندگی بہت پہلے شروع ہوئی اور اس کا آغاز اسی وقت ہوگیا تھا جب انسان نے آنکھ کھول کر یہ دیکھا تھا کہ وہ انفرادی طور پرآفات ارضی و سماہی سے نپٹنے کے قابل نہیں ہے،انسان کی گروہی جبلت نے اسے سمجھایا کہ تنہا رہنے میں نقصان اور مل جل کر رہنے میں فائدہ ہے اور یوں معاشروں کی تشکیل ہوئی،انسان جس معاشرے کا بھی فرد ہوتا ہے اس پر معاشرے کی جانب سے کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اسی طرح معاشرے پر انسان کے کچھ حقوق بھی ہوتے ہیں،انسان اگر ایک اچھا شہری ہے تووہ ان حقوق و فرائض کو بخوبی سمجھتا اور ان کو پورا کرتا ہے۔اگر نہیں تو وہ معاشرتی زندگی میں درست طرز عمل اور چلن کا مظاہرہ نہیں کرتا،والدین اوراساتذہ کے مقدس فرائض میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کو معاشرتی زندگی کا درست تصور دیں اور انہیں معاشرے کا احترام کرنا سکھائیں۔ ہمارے کچھ افعال تو محض انفرادی ہوتے ہیں لیکن کچھ کا اثر بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمارے ارد گرد کے لوگوں پر پڑتا ہے یعنی ہمارے بعض افعال اجتماعی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں سماجی نفسیات اس چیز کی متقاضی ہے کہ بچے کی گروہی جبلت کی درست تربیت کی جائے تاکہ وہ اپنے اردگرد کی دنیا کے ساتھ صحیح طریقے پر ہم آہنگ ہوسکے اور بڑا ہوکر ایک کامیاب شہری بن سکے۔کسی بھی بچے میں پڑھنے کے شوق کے ساتھ اخلاقیات بھی ہوں تو تب ہی کامیابی ممکن ہوتی ہے۔ ایک ٹیچر کی کوشش ہونی چاہیے کہ بچے کو پڑھانے کے ساتھ اس کی اخلاقی تربیت بھی کرے۔ سکول کا ایسا نصاب ہو جس میں نصابی اور غیرنصابی دونوں سرگرمیاں شامل ہوں۔ غیر نصابی سرگرمیوں میں ٹیبلوز، کہانیاں، مضامین اور وہ تمام باتیں جو کہ ایک اچھے شہری میں ہوتی ہیں، ان پر فوکس کیا جائے۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ سکول میں داخل ہوں تو ٹیچرز کو کیسے سلام کرنا ہے، ان کی عزت کیسیکرنی ہے،گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کیسے کرنا اور والدین کی عزت کیسے کرنی ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے باادب با مراد، جب بچے اپنے والدین اور اساتذہ کی عزت کر یں گے تو اﷲ تعالیٰ بھی کامیابی دے گا۔ خواتین اساتذہ کے حوالے سے ہر سکول کا ڈریس کوڈ ہونا چاہیے، سینئر ٹیچرز کو دیکھ کر جونیئر ٹیچرز کاپی کرتی ہیں، پھر یہی کچھ بچوں کے دماغ میں فیڈ ہو جاتا ہے، اس لئے کوشش ہونی چاہیے کہ سادگی کو اپنائیں، اس سے انہیں بھی آسانی رہے گی اور بچوں کو بھی سادگی کا سبق ملے گا۔
والدین چونکہ اُولاد کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ اس لئے بچوں کے حقوق کا تحفظ ہر لحاظ سے انہیں ہی کرنا ہوگا ورنہ ناقص تربیت اور لاپرواہی کی پاداش میں جہاں نئی نسل کا مستقبل تباہ و برباد ہوگا۔ ہمارے ہاں عام طور پر بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی نگہداشت میں جن کوتاہیوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ان میں سے بعض کا ذکر ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔بچوں پربے جا سختی کرنا:بعض والدین اپنے بچوں پر بے جا سختی کرتے ہیں اور ان کو معمولی بات پر بھی سخت سزا یا شدید ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے تمام جذبات و احساسات مرجاتے ہیں۔ ان کی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں اور گھر کو جیل خانہ تصور کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے بچے والدین سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے دور رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ بچوں کو مناسب وقت نہ دینا:آج کل اکثر والدین نے مادیت پرستی کو اس قدر اپنے دل و دماغ پر سوار کررکھا ہے کہ ان کے پاس اپنی اولاد کے لئے بھی وقت نہیں ہے اور دن رات اسی فکر میں سرگرداں ہیں کہ کس طرح دنیاوی اسباب ووسائل کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر کیا جائے۔ ایسے والدین کے بچے احساس محرومی کے بوجھ تلے دفن ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو تپے ہوئے صحرا میں محسوس کرتے ہیں، جہاں دور دور تک کہیں سایہ نظر نہیں آتا۔ دنیا کمانا اور روزی کے اسباب اختیار کرنا ہر انسان کے لئے ضروری ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو بھی پس پشت ڈال دے۔اُولاد میں فرق کرنا:بعض والدین اپنی اُولاد کے ساتھ یکساں سلوک کا اہتمام نہیں کرتے۔ وہ بڑے بچے کو چھوٹوں پر یا لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جس بچے کے ساتھ زیادہ شفقت اور پیار کا رویہ رکھا جائے اور دوسروں کی حق تلفی کرکے اسے اہمیت دی جائے گی وہ ضدی، ہٹ دھرم اور خودسر بن جائے گا جبکہ بقیہ بچے احساس کمتری کاشکار ہوکر والدین کے خلاف سوچنے پر مجبور ہوں گے۔بچوں کے زیر مطالعہ چیزوں سے بے خبر ہونا:بعض والدین کبھی بھی اس بات کی طرف توجہ دینے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے بچے کون سی کتب پڑھ رہے ہیں۔ کس قسم کا لٹریچر ان کے زیر مطالعہ ہے۔ وہ کون سی چیزیں اپنے استعمال میں رکھتے ہیں۔ کن آلات اور کن چیزوں سے کھیلتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں کیا ہیں؟ ان کی سوچ کے دھارے کس سمت بہہ رہے ہیں۔ ایسے والدین اپنی ذمہ داری کو پس پشت ڈالنے والے ہیں اور امانت میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔بڑھوں سے بد تمیزی پر خوش ہونا:بعض والدین اس قدر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اگر ان کا چھوٹا بچہ بڑوں کے ساتھ بدتمیزی، اونچی آواز یا ان سے بداخلاقی سے پیش آئے تو وہ بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کا بچہ انتہائی جرات مند ہے اور بڑوں سے بات میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔ یہ درحقیقت بہت بڑی غلطی ہے۔ بڑوں کی عزت کرنا اور ان سے شرم کرنا اچھی چیز ہے۔بچوں کو نوکروں اور خادماؤں کے سپرد کر دینا:بعض والدین اپنے بچوں کو نوکروں، خادماؤں اور ڈرائیوروں کے سپرد کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ براں ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ ان لوگوں کا تعاون حاصل کرنا بعض دفعہ مجبوری ہوسکتا ہے مگر بچوں کو اپنی محبت سے محروم کردینا عقلمندی نہیں۔ جو حقیقی پیار، محبت اور شفقت ماں باپ کی آغوش میں اولاد کو مل سکتی ہے، وہ پرائے ہاتھوں میں کہاں ہے؟ والدین کو چاہئے کہ بچوں کا خود خیال رکھیں اور مجبوری کے وقت نوکروں اور خادماؤں سے مدد لیں۔بچوں کے سامنے اُستاد کو برا بھلا کہنا:بعض والدین اُستاد کی ڈانٹ ڈپٹ کے ردعمل میں بچوں کے سامنے ہی اُستاد کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں۔ اس سے جہاں اُستاد کا وقار مجروح ہوتا ہے وہیں بچوں کے دل سے استاد کا خوف اور اس کا احترام ختم ہوجاتا ہے۔ اگر اُستاد نے کہیں پر بے جا سختی سے کام لیا ہو تو اسے الگ بیٹھ کر سمجھائیں اور اس سے تنہائی میں تبادلہ خیال کریں۔ بچوں کے سامنے ایسا ہرگز نہ کریں۔بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑا:بعض والدین بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑے کے نقصانات کو پس پشت ڈال کر چھوٹی چھوٹی بات پر انحصار شروع کردیتے ہیں، والدین کی لڑائی اور کثرت نزاع بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی توہین اور ایک دوسرے کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو بچے پریشان اور فرار ہوجاتے ہیں۔ اگر والدین بچوں کے سامنے مسلسل لڑتے ہیں اور آئے روز ایک دوسرے سے کشیدگی پیدا کرتے ہیں تو بچے بھی چڑچڑے اور بداخلاق بن جاتے ہیں۔
الغرض بچے مالک کائنات کی انتہائی خوبصورت اور بہترین نعمت ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ بات تو ان سے پوچھی جائے جن کو اﷲ تعالیٰ نے اس نعمت عظمیٰ سے محروم رکھا ہے۔ اس نعمت کی قدر کرنا اور ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا والدین کا فرض ہے۔ یاد رہے کہ اولاد کی درست سمت میں تعلیم و تربیت والدین کیلئے صدقہ جاریہ اور ذخیرہ آخرت ہے۔
مشعل یوتھ سوسائٹی پاکستانی معاشرے میں کھیلوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعمیرشخصیت میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔بچوں کی اخلاقی آبیاری کیلئے مشعل یوتھ سوسائٹی سکولز کی سطح پر اپنے ایک بُک لیٹ کے ذریعے احوال بدلنے کا سامان بھی فراہم کر رہی ہیں تاکہ حتی الامکان متوازن معاشرتی زندگی کے فروغ کیلئے بچوں کی شخصیت کی تکمیل احسن انداز میں ہو اور وہ اس کارگاہِ حیات میں پوری توانائی سے اپنا کردار ادا کرسکیں کیونکہ بچوں کی صلاحیتوں کا ارتقا ء اور قومی ترقی کا راز بچوں کی اچھی تربیت اور اعلیٰ تعلیم میں مضمر ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •