Voice of Asia News

بچے کی تعمیر شخصیت کے لازمی جزو: محمد قیصر چوہان

 

شخصیت فر د کے ذہنی ،جسمانی ،شخصی ،برتاؤ ،رویوں ،اوصاف ا ور کردار کے مجموعہ کا نام ہے باالفاظ دیگر اگر سہل انداز میں شخصیت کی تعریف کی جائے تو یہ انسان کے ظاہری و باطنی صفات ،نظریات اخلاقی اقدار ،افعال احساسات اور جذبات سے منسوب ہے۔ ظاہری حسن وجمال وقتی طور پر کسی کی توجہ تو مبذول کرسکتا ہے لیکن کردار کا دائمی حسن ہی انسان کو زندہ جاوید بنا تا ہے۔تعمیر کردار میں فکر و نظریات کا کلیدی رول ہوتا ہے۔ہماری سب سے بڑی اور عظیم دولت مال و متاع سونا چاند نہیں بلکہ ہمارے بچے ہیں۔ جن کے دم سے ہمارے آنگن جنت کی تصویر نظر آتے ہیں۔گھر میں رونقیں لگی رہتی ہیں۔اس عظیم دولت کا بگاڑ ہی دراصل ہمارے لئے سب سے بڑی تکلیف کی بات ہے۔ اگر ہم حقیقت میں ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو پھر افراد کی شخصیت ساز ی بالخصوص بچوں کی اخلاقی،روحانی اور سماجی تربیت پر ہمیں توجہ مرکوز کرنی ہوگی تاکہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکے، معاشرے کی تعمیر کا انحصار افراد کی تعمیر پر ہوتا ہے۔افراد کی تعمیر میں خاندان ،سماج ،مدارس، سکول،یونیورسٹی اورمعاشر ے کاکلیدی کردار ہوتا ہے۔ حال کے احوال کی تبدیلی اور مستقبل کی تعمیر ، نسل نو کی تعمیر سے ہی ممکن ہے۔نئی نسل کو ڈاکٹر ،انجینئر،ماہر قانون،کامیاب بزنس مین یا کچھ اوربنانے سے پہلے ایک،خوش اخلاق ،باوقاراور اچھا انسان بنا نا ہوگا جس کیلئے کردار کی تعمیر ( شخصیت کی تعمیر ) بہت ہی ضروری ہے۔اچھے اوصاف واخلاق سے آراستہ لوگ انسانیت کے سفیر ہوتے ہیں اسی لئے زندگی کی بے شمار ترجیحات میں شخصیت کی تعمیر کو اولیت حاصل ہے۔ تعمیر شخصیت میں کردار کو بانکپن عطا کرنے والے عناصر کی پہچان بہت ضروری ہے۔بچے جس ماحول میں پروان چڑھتے ہیں اس کا رنگ ان کی شخصیت پر غالب رہتا ہے وہ افراد جن کی تربیت مختلف ماحول اور طرزمعاشرت پر ہوئی ہو وہ صالح نظریات ،اعلیٰ اخلاق ،اوصاف حمیدہ کو ایک زنجیر خیال کرتے ہیں۔بچے سے قربت رکھنے والا ہر شخص اور ماحول اس پر اپنے نقش چھوڑتے ہیں اور انہی تجربات اور ماحول کے زیر اثر بچے کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔بچے بچپن ہی سے احساس ،اقدار اور رویے سیکھتے ہیں جن کا وہ اپنی عملی زندگی میں مظاہرہ کرتے ہیں۔دراصل آدمی اپنے ان رویوں اور نظریات کی غمازی کرتے ہیں جنہیں وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پراپناتا ہے۔ لاشعوری طور پر فکر اور رویے یقین میں بدلتے رہتے ہیں۔انسانی شخصیت، تخلیق اور تعمیر کی دوجہات سے عبارت ہے۔تخلیقی اعتبار سے انسان کوکائنات میں ساری مخلوقات پر برتری حاصل ہے۔لیکن انسانوں پر انسانوں کی برتری کے بھی اﷲ نے اصول مقرر کئے ہیں جس کی بنیاد پر انسان کو اعزاز و افتخار حاصل ہوتا ہے۔یہ دنیا دارالعمل ہے‘ اچھے اعمال سے شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ برے اعمال تخریب شخصیت کا باعث بنتے ہیں۔ انسان کو پیدائشی طور پر ہی تما م مخلوقات پر برتری اور فضیلت بخشی گئی لیکن اپنے ہم جنسوں پر برتری اور فضیلت کے حصول کیلئے انسان کو اپنی شخصیت کی تعمیرکی ضرورت ہوتی ہے اسی وجہ سے دنیا کو دارالعمل قرار دیا گیاہے ۔بچے کی تعمیر شخصیت میں ایمان ویقین،علم،تفکر، نیت،ارادہ،عمل اور نتیجہ عمل اور احتساب شخصیت سازی کے اہم عناصر قرار دیئے گئے ہیں۔
ایمان و یقین :
ایمان و یقین سے مراد وہ جذبہ ہے جو انسان کو غفلت ،بخل اور بزدلی سے آزاد کرکے تذبذب اور بے یقینی کا خاتمہ کردیتاہے۔ ایمان اقرار ،تصدیق اور عمل سے مربوط ہے۔ایمان دعوے کانہیں بلکہ رویوں کانام ہے ایما ن ایک ایسا جذبہ ہے جوانسان کو خالق کائنات کی ہیبت ،عظمت ،کبریائی اور محبت سے سرشار کرتا ہے۔ایمان سلوک اور مسلسل عمل کانام ہے۔ایمان جب ٹھیک ہوتا ہے توزندگی کے سارے معاملات درست ہوجاتے ہیں۔ایمان آدمی میں اچھا کردار پیدا کرتا ہے۔، چوری،جھوٹ،خیانت،رشوت ،دھوکہ،فسق و فجور،شراب خوری،زناسے اسے باز رکھتا ہے۔ برے کاموں سے روکتا اور اچھائی کاحکم دیتا ہے۔ایمان زبانی دعوے کا نہیں بلکہ عمل کا نام ہے۔ایمان و یقین کی اسی طاقت نے دنیا میں ایک مثالی انقلاب برپا کیا۔علم ،اخلاق،فکر و فلسفہ ،سیاست اور حکومت کے میدان میں ایسی بے شمار عبقری شخصیات پیدا کیں جس کی نظیر آج تک نہیں ملتی۔ایمان استقامت اور ثابت قدمی کا نام ہے۔
علم:
تعمیر ذات میں علم کی کلیدی حیثیت ہے۔ علم انسان کو خیر و شر سے آگاہ کرتاہے اور جاہلوں سے آدمی کو ممتاز کرتا ہے۔علم عرفان ذات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ،نفس کی پہچان کیلئے علم ضروری ہے۔پاکیزہ علم دل اور دماغ کی تربیت کرتا ہے۔علم انسان میں کردار کی مضبوطی ،ضبط نفس ،سننے ،سیکھنے اور جاننے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
تفکر:
علم کا دوسرا مرحلہ تفکر اورغور و خوض ہے۔غور و فکر کی صلاحیت انسانی ذات کوگہرائی اور گیرائی عطا کرتی ہے۔تفکر انسان پرانفس اور آفاق کی حقیقتیں کھول دیتا ہے۔تفکر ذہن و عقل پر پڑے راز و ظلمتوں کے پردے چاک کردیتا ہے۔فطر ی صلاحیتوں کے حساب سے انسان دنیا میں پائی جانے والی بہت ساری مخلوقات میں بہت کم فطری صلاحیتوں کا حامل ہے۔یہ پرند ے کی طرح اڑنا نہیں جانتا،چیتے کی طرح دوڑ نہیں سکتا ،مچھلی کی طر ح تیر نہیں آتا،بندر کی طرح درختو ں پر چڑھ نہیں سکتا،نہ عقاب کی طرح تیز نظر ہوتی ہے اور نہ بلی کے پنچوں کی طرح مضبوط پنچے۔ پھر بھی انسان عظیم اس لئے ہے کہ اس میں سوچنے کی عظیم صلاحیت پائی جاتی ہے۔یہ اپنا ماحول خود تخلیق کرسکتا ہے جبکہ جانور اپنے ماحول کے تابع رہتے ہیں۔انسان غور و فکر کی کوتاہی کی وجہ سے مکمل طور پر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ تسخیر کائنا ت کیلئے تسخیر ذات ضروری ہے اور تسخیر ذات و کائنات کے عمل میں تفکر اور غورو فکر انسان کیلئے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔
نیت یا ارادہ :
نیت کے بغیر شخصیت کی تعمیر ناممکن ہے۔ عمل و کردار کی دُنیا میں نیت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔انسان کا عمل اس کی نیت کا عکاس ہوتا ہے۔جیسی نیت ہوگی ویسا ہی اس کا عمل ہوگا۔ اسی وجہ سے شخصیت کی تعمیر میں نیت کی درستگی پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔نیت دراصل ایک بیج ہے اگر بیج اچھا ہوگا تب ہی اس سے بہتر پودا اور عمدہ پھل حاصل ہوں گے۔
عمل :
شخصیت کی تعمیر محض خواہش ،علم، غوروفکر، اچھی نیت و ارادے سے انجام نہیں پاتی بلکہ شخصیت معاون عناصر کوعمل کے قالب میں ڈھالنے سے ممکن ہوتی ہے۔ شخصیت کی تعمیر آرزؤں سے نہیں بلکہ آرزؤں کو حقیقت میں بدلنے سے ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ انسان شخصیت کی تعمیر میں سعی و عمل سے کام لے۔عمل سے فرار نہ اختیار کرے خواہشات پر اکتفا نہ کرے بلکہ خواہش کے بیج کو اپنے عمل ، تدبیر اور سعی و کوشش سے بیج کو سایہ دار ،ثمر آور شجر میں تبدیل کردے۔ خواہش کو عمل کے سانچے میں ڈھالیں۔
نتیجہ عمل:
نتیجہ عمل شخصیت کے تعمیر ی عمل میں آخری پڑاؤ ہے لیکن یہ ازحد اہمیت کا حامل ہے۔ کامیابی کی صورت میں آدمی غرور و تکبر کا شکار ہوسکتا ہے یا ناکامی کی صورت میں ناامیدی اور بے یقینی کا۔ یہ دونوں بھی کیفیات انسانی شخصیت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے ،شخصیت کی تعمیر کاایک اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی کامیابی کو اﷲ کے فضل و کرم سے تعبیر کرے اور کامیابی پر شکر ادا کرے۔تکبر اور غرور کا ہرگزمظاہر ہ نہ کرے۔ناکامی کی صورت میں اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لیں اور صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ناامید ہونے کے بجائے دانشوری اور حکمت سے کام لیتے ہوئے کامیابی کے بہتر راستے ڈھونڈے۔ کامیابی کیلئے عمل میں دوام و استقامت کردار کاایک لازمی جزو ہوتاہے۔ محض ایک یا دو مرتبہ کی کوشش سے دل خواہ نتائج حاصل ہونا ضروری نہیں ہے۔مقاصد کے حصول کیلئے مسلسل جدو جہد درکار ہوتی ہے۔ اس وقت تک سعی و کوشش سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں جب تک آپ کی محنت رنگ نہ لائے۔ اس کیلئے آپ کو خواہ کتنی ہی محنت ،مشقت، اذیت و تکلیف سے ہی کیوں نہ گزرنا پڑے۔یہی فکر حقیقی طور پر انسان کی شخصیت کو سنوار کر اسے فخرا ور تقلید کے قابل بناتی ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •