Voice of Asia News

بھارت میں مسلمان مدد کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں: جنرل زبیر حیات

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ بھارتی ہندوتوا نظریہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ ہے، بھارتی معاشرہ انتہا پسندی کی طرف جا رہا ہے، بھارت میں مسلمان مدد کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار وہ اسلام آباد میں سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کر رہے تھے، انھوں نے کہا جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو نئے چیلنجز درپیش ہیں، بھارت کا بڑھتا جنگی جنون دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے، بھارت دنیا میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ کر رہا ہے۔جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا بھارت نے کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، لیکن کشمیری آج بھی پاکستانی جھنڈے میں دفن ہوتے ہیں۔جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین نے کہا عالمی سطح پر معاشی، طبقاتی تفریق بڑھ رہی ہے، پاپولر ازم اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندانہ سوچ بھی المیہ ہے، قوموں کے درمیان تعلقات سیاسی تناظر کی بنیاد پر بدلتے ہیں، دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی بھی لمحہ فکریہ ہے۔جنرل زبیر نے ملکی معیشت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال توجہ کی طلب گار ہے، دوسری طرف عالمی گورننس اور معیشت ترقی کے مراحل طے کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو سیکیورٹی خطرات لا حق ہیں، بھارت کے دفاعی اخراجات دگنا ہو گئے ہیں، بھارت دنیا کے بڑے اسلحہ خریداروں میں شامل ہے، بھارت کے دفاعی بجٹ کا بڑھنا ایک خطرہ ہے، جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی ایک چیلنج کی شکل اختیار کر گئی ہے۔جنرل زبیر حیات کا کہنا تھا جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی مسائل مسئلہ کشمیر سے جڑے ہیں، پلوامہ واقعہ ایک سازش تھی جو ناکام ہوئی، بھارت جو نتائج پلوامہ واقعے سے حاصل کرنا چاہتا تھا نہیں کر سکا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •