Voice of Asia News

منگائی میں اضافہ اور معیشت کی بحالی کا حکومتی راگ:محمد قیصر چوہان

 
مہنگائی کا اژدہا پاکستان میں ہر چیز کو نگلتا جارہا ہے۔شہری مہنگائی کے طوفان تلے دب کر سسک رہے ہیں مگر اس کا تدارک کرنے کے بجائے وزیرا عظم عمران خان اپوزیشن کوچور ،ڈاکو کہنے کی راگنی بجا رہے ہیں۔تحریک انصاف کے برسراقتدار آتے ہی ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا جو طوفان آیا ہے ، اس نے ہر پاکستانی کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں روز کی بنیاد پر کمی کرنا شروع کی جس کے نتیجے میں مہنگائی کا سیلاب آیا۔ جس کے نتیجے میں بجلی ، پٹرول اور گیس بھی مہنگے ہوئے اور پھر ان سب کے اثرات نے صنعت و حرفت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ا س پر مستزاد عمران خان کی ٹیم نے ٹیکسوں میں اضافے شروع کردئیے اور شرح سود کو ساڑھے سات فیصد سے بڑھا کر ساڑھے تیرہ فیصد پر لے آئی۔ اس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں ختم ہی ہوکر رہ گئیں اور ملک میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔پہلے آئی ایم ایف کے احکامات پر معاشی پالیسی کی تشکیل کرکے تباہی پھیری گئی اور اس کے بعد ملک کی وزارت خزانہ ، ٹیکس جمع کرنے والا ادارہ اور مرکزی بینک ہی آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین اور پسندیدہ افراد کے براہ راست حوالے کردیے گئے۔ عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی حالت میں مزید ابتری کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں پاکستان کی معاشی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔ عالمی بینک نے اپنی رپور ٹ میں عمران خان کی کامیابی کے تمام ہی دعووں کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت افراط زر ، عوامی قرضوں اور مالی خسارے میں کمی کے اہداف آئندہ دو برسوں میں بھی پوری نہیں کرسکے گی۔ عالمی بینک نے بھی مہنگائی میں بے پناہ اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں بھی مہنگائی میں کمی نہیں آئے گی بلکہ یہ اس خطے میں بلند ترین سطح پر ہوگی۔ عالمی بینک نے پاکستان میں ترقی کی کم شرح کی وجہ عمران خان کی مانیٹری پالیسی کو قرار دیا ہے۔ سارے معاشی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ملک میں معاشی استحکام کیلئے روپے کی شرح تبادلہ کو نہ صرف مستحکم کیا جائے بلکہ اسے ایک سو روپے فی ڈالر کی سطح پر لایا جائے ، بجلی کے نرخوں میں لوٹ مار کو بند کرکے حقیقی سطح پر لایا جائے اور ارزاں بجلی پیدا کرنے کے جدید طریقے اختیار کیے جائیں ، گیس کے نرخ کم کیے جائیں ، ٹیکس کم کرکے مناسب سطح پر لائے جائیں اور ان کی وصولی کا بھی مناسب طریقہ اختیار کیا جائے ، ایف بی آر کے صوابدیدی اختیارات ختم کیے جائیں ، نیب کے سارے ہی افسران اور احتساب عدالت کے ججوں اور اہلکاروں کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کی جائے ، کاروبار دوست معاشی پالیسی تشکیل دی جائے تو ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ عمران خان کی پالیسیوں کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ کون سا طبقہ ہے جو اس وقت احتجاج نہیں کررہا اور ہڑتال پر نہیں ہے۔ ٹیچر، کسان ، تاجر ، دکاندار، سیاسی پارٹیاں ، کون ہے جو سڑکوں پر نہیں ہے۔عمران خان کو ان کی معاشی پالیسیوں کے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے اب اور مزید کیا چیز درکار ہے۔ سارے ہی اشاریوں میں مہنگائی کے اونچے ہوتے گراف ، عالمی اداروں کی رپورٹ ، ملک کے معاشی ماہرین کی تنبیہات ، شہروں شہروں تاجروں کی ہڑتال، کاروباری افراد کا اسلام آباد میں مسلسل احتجاج ،یہ سب حکومت کو اس کی کارگزاری سے آگاہ کرنے کیلئے کافی ہیں مگر حکومت ہے کہ بیانات سے ہی کام چلانا چاہتی ہے کہ گراں فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔ کارخانے،فیکٹریاں اور صنعتیں بند پڑی ہیں۔ کپاس کی پیداوار میں کمی ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ٹیکسٹائل، فوڈ پرودکشن، مشروبات، تمباکو، پیٹرولیم، کیمیکل اور ادویات کے شعبے تنزلی کا شکار ہیں۔ان حالات میں عمران خان کے نئے پاکستان میں حکمرانوں، وزیروں اور مشیروں کے بیانات آرہے ہیں کی ملکی معیشت بحال ہورہی ہے ۔اگر معیشت بہتر اور اعتماد بحال ہو رہا ہے تو چھوٹے تاجر، صنعتکار، جیولرز، تجارتی ایسوسی ایشنیں وغیرہ یہ سب احتجاج پر کیوں اتر آئے ہیں۔ اگر کرنسی کے استحکام کی بات کی جائے تو یہ دعویٰ قوم کے ساتھ مذاق ہے بلکہ ظالمانہ مذاق ہے۔ ڈالر 80 سے 85 یا 90 کے درمیان ڈول رہا تھا کہ اچانک اسے پر لگ گئے اور وہ 170 تک جا پہنچا۔ اب 155 سے 160 کے درمیان ہے ایسے میں پاکستانی کرنسی کو مستحکم قرار دینا جھوٹ نہیں تو مذاق ہی قرار دیا جائے گا۔
عوام کو غریب کرکے معیشت مستحکم نہیں کی جاسکتی۔ عوام کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے۔ وہ خریداری نہیں کر رہے تو پروڈکشن نہیں ہو رہی، کارخانے بندش کی طرف جا رہے ہیں۔ پاکستان کی کاروباری برادری مقامی منڈی پر انحصار کرتی ہے کیونکہ تین سو ارب ڈالر کی معیشت کی برآمدات صرف 19 ارب ڈالر ہیں۔ صنعتی اور زرعی خدمات کے شعبوں کو مقامی منڈی نے قائم رکھا ہوا ہے جسے آئی ایم ایف کی ہدایت پر کمزور کیا جارہا ہے۔ اب یہ سوال کرنے یا تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کون ہے۔ اب ذرا معیشت کے بہتری کے دعوے کا عام آدمی کی سطح پر جائزہ لیں تو ساری کہانی سامنے آجاتی ہے۔ دالیں مہنگی، تیل مہنگا، آٹا مہنگا، روٹی مہنگی، دوائیں مہنگی، ہسپتالوں کے ٹیسٹ مہنگے، پیٹرول بجلی گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ، جو پیٹرول 80 روپے کا تھا اب 113 روپے لیٹر ہو گیا ہے۔ سی این جی 80 سے 85 روپے تھی 123 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ ایل پی جی بھی مہنگی ہے۔ اوبر اور کریم والوں نے بھی ریٹ بڑھا دیے ہیں۔ غریب آدمی دال، روٹی، سبزی کھا کر گزارہ کرتا تھا۔ پیاز 100 روپے، ٹماٹر 80 اور 100 روپے، پالک 100 روپے مل رہا ہے۔ آلو بھی کبھی 40 اور کبھی 60 روپے کا، کپڑے، جوتے چپلیں مہنگی، روزمرہ کی کوئی چیز غریب کی پہنچ میں نہیں رہی۔ کراچی غریب پرور شہر تھا لیکن ٹرینوں کے کرایے اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف کی ٹیم نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے، جبکہ ہمارے حکمران معیشت کی بحالی کے راگ الاپ رہے ہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •