Voice of Asia News

قول اور فعل میں تضادحکومت کا طرہ امتیاز:محمد قیصر چوہان

 
پاکستان کی غریب عوام کو کرپشن ،مہنگائی اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات دلاکر ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعویدار عمران خان کے قول اور فعل میں زبردست تضاد ہے۔ انہوں نے ہوائی تیر چلائے اور لوگوں کو لبھانے کیلئے غیر حقیقی وعدے کیے، تحریک انصاف کی حکومت کے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگیں ، روزگار دینا حکومت کا نہیں نجی شعبے کا کام ہے ، حکومت صرف ماحول پیدا کرتی ہے ، حکومت نوکریاں نہیں دے سکتی۔فواد چودھری نے تحریک انصاف کے منشور ہی کی تردید کردی ہے۔ عمران خان نے مسند اقتدار سنبھالتے ہی پہلے سو دن کا جو منصوبہ پیش کیا تھا اس میں نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے اور 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا اعلان تھا۔ ایک سال گزرنے کے بعداب فواد چودھری نے عوام سے فرمایا کہ وہ حکومت سے نوکریاں نہ مانگیں۔فواد چودھری نے مزید فرمایا کہ حکومت سرکاری شعبے میں روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا تو دور کی بات، چار سو محکموں کو بندکرنے پر غورکررہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر ہم روزگار دلانے لگیں تو معیشت تباہ ہوجائے گی۔فواد چودھری کے فرمودات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ یا تو پہلے عمران خان اور ان کے مشیروں کو علم نہیں تھا کہ وہ کیا وعدے کررہے ہیں یا پھر اب فواد چودھری کو حقیقت حال کا علم ہو ا ہے کہ سرکار ایک کروڑ نوکریاں نہیں فراہم کرسکتی۔ بعد ازاں فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نوکریاں دینا نجی شعبے کا کام ہے ،حکومت صرف ماحول پیدا کرتی ہے۔ عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد جو ماحول پیدا کیا ہے اسے عالمی بینک کی رپورٹ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے اور شہروں شہروں ہونے والی تاجروں کی ہڑتال سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے معاشی دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہماری بجٹ دستاویز ہماری معاشی غلامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی جو پالیسیاں اختیار کیں انہوں نے ملکی معیشت کیلئے دو دھاری تلوار کا کام کیا ہے۔ روپے کی بے قدری ، ٹیکسوں میں بے انتہا اضافہ ، بجلی ، گیس اور پٹرول کے نرخوں میں ہر چند دن کے بعد اضافے نے نجی شعبے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس پر شرح سود میں زبردست اضافے نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ اس کے نتیجے میں صنعتی یونٹ روز بند ہورہے ہیں اور زرعی شعبہ بھی زبردست خسارے کا شکار ہے۔ پاور لومز ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جان ہیں۔ فیصل آباد میں پاور لومز بند پڑی ہیں اور ہزاروں افراد کے گھروں کا چولہا بجھ گیا ہے۔ عمران خان کی پالیسیوں نے جو ماحول پیدا کیا ہے اس سے روزگار کے مزید مواقع کیا پیدا ہوتے ، جو لوگ روزگار سے لگے ہوئے تھے وہ بھی اب بے روزگاروں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔ نیب کی کارکردگی پر اعلیٰ عدالتیں کئی مربہ تنبیہ کرچکی ہیں مگر اس کی چال وہی پرانی ہے۔ یہ ادارہ صرف اور صرف گرفتاریاں کرتا ہے ، اس کے افسران مول تول کرتے ہیں اور یا تو گرفتار شدگان کو تاوان وصول کرکے رہا کردیا جاتا ہے یا پھر کیس اتنا کمزور بنایا جاتا ہے کہ وہ عدالتوں سے بری ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ نیب افسران کو تاوان ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ، وہ برسوں نیب کی جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں اور ان میں سے کئی کی اموات بھی نیب کی حراست میں ہوچکی ہیں ۔
عمران خان کے اہم وزیر فواد چودھری نے یہ بھی کہا کہ سرکاری اداروں کا آج جو حال ہے اس کی بنیادی وجہ سرکاری اداروں میں نوکریاں بیچنا اور میرٹ سے ہٹ کر نوازنا ہے۔ وفاقی حکومت کے تحت پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی میں گزشتہ دنوں افسران کی بھرتیوں میں فی نوکری تیس تا چالیس لاکھ رشوت وصول کرنے کی بازگشت اب بھی باقی ہے۔ اب تو ان بھرتیوں کے خلاف نیب کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی انجمن اکاؤمیں بھی درخواست دی جاچکی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی میں رشوت کے عوض بھرتیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ ملکی معیشت کی ترقی کیلئے پیش کیے گئے تحریک انصاف کے انڈہ مرغی اور کٹا منصوبوں پر اب تو عوام کے ساتھ ساتھ خواص میں بھی تنقید شروع ہوگئی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •