Voice of Asia News

بابراعظم کمزور کپتان ثابت ہو سکتے ہے، سکندر بخت کا دعویٰ

لاہور(وائس آف ایشیا ) پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹا دیاہے اور بابراعظم کو ٹی ٹونٹی کا کپتان مقرر کر دیاہے تاہم ون ڈے کپتان کا فیصلہ بعد میں کیا جائیگاجس پر سابق ٹیسٹ کرکٹر اور تجزیہ کار سکندر بخت میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے پیشگوئی کی ہے کہ بابراعظم کمزور کپتان ثابت ہوں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سکندر بخت کا کہناتھا کہ بیٹنگ کے میدان میں بابراعظم کا شمار دنیا کے بڑے بلے بازوں میں ہوتاہے ، وہ خوبصورت کھیلتے ہیں لیکن خوبصورت کھیلنا اور میچ جتوانا بہت دو مختلف چیزیں ہیں ان میں بڑا فرق ہے ،میچ جتوانا بڑی چیز ہے ، ایک آدمی کھیلتا ہے ، اپنے لیے کھیلتا ہے یہ الگ چیز ہے ، ہم تعریف کرتے ہیں اور انعامات دیتے ہیں لیکن ٹیم کو جتوانااور ساتھ لے کر چلنا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ، اس سے آپ گریٹ بنتے ہیں ، یہاں میں آپکو وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے دیگر کپتانوں کی مثال دوں گا ، یہ لوگ ٹیم کو جتواتے تھے ، میں میچ جتوانے کی بات کر رہاہوں ، یہ جتوانے والا پلیئر نہیں ہے ، یہ اپنے لیے بہت خوبصورت کھیلتا ہے۔سکندر بخت کا کہناتھا کہ کپتانی کی جہاں تک بات ہے ، میری پیشگوئی ہے کہ یہ کمزور کپتان ثابت ہوں گے کیونکہ ابھی بھٹی صاحب نے بتایا کہ بابراعظم بہت ہی نرم مزاج اور تمیزدار بچے ہیں، یاتو مصباح الحق باہر بیٹھ کر کپتانی کررہے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آج میری یہ بات لکھ لیں کہ چھ ماہ میں آپکو پتا چل جائیگا وہ ایک کمزور کپتان ہے ، بچارے کی بیٹنگ پر شائد اثر نہ ہو لیکن ہمیں نظر آ جائیگا ان کی کپتانی میں وہ کرنٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کپتان کا کنٹرول صرف گرا?نڈ میں نہیں گراؤنڈ سے باہر بھی ہوتاہے ، سارا کنٹرول مصباح کے ہاتھ میں چلا جائیگا ، پاکستان کے پاس اسوقت کوئی کپتان نہیں ہے ، کسی نے بھی مستقبل کا کپتان بنانے کی یا ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی۔انکا کہناتھا کہ نجم سیٹھی نے عماد وسیم کو کپتان بنانیکی کوشش کی جس کا نا اپنا کوئی معیار ہے اور نہ ہی اس کی ٹیم میں جگہ بنتی ہے ، میں سارا الزام گزشتہ بورڈ پر ڈالوں گا ، انضمام الحق پر ڈالوں گا ، کسی نے کپتان ڈھونڈنے یا بنانیکی کوشش نہیں کی۔سکندر بخت کا کہناتھا کہ میری پیشگوئی ہے کہ وہ کمزور کپتان ہوں گے ، جس طرح اظہر علی ون ڈے کرکٹ میں تھے ، کمزور تھے تو انہیں مجبورا ہٹانا پڑا جبکہ بڑے بڑے کھلاڑی یہ کہہ رہے تھے کہ بیس میچوں کے بعد اچھا ہو جائیگا ، کپتان بنتا نہیں ہے بلکہ وہ پیدا ہوتا ہے ، وہ نیچرل ہو تا ہے ، اس کے پاس لیڈر شپ اور کپتانی کی صلاحتیں ہوتی ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •