Voice of Asia News

کشمیریوں کا قتل عام،اسلامی ممالک اور اقوام متحدہ کا ضمیر ??۔۔؟محمد قیصر چوہان

دُنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ممالک امریکا اور اسرائیل کی مکمل سرپرستی اور آشیر باد ملنے کے بعد امن کے دُشمن بھارت نے طاقت کے گھمنڈ میں پانچ اگست کومقبوضہ کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 اور35 اے ختم کر کے کشمیر کی ریاست کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد سے پوری وادی حراستی مرکز میں بدل دی گئی، گھروں میں نظربند شہری سنگین غذائی بحران سے دوچار ہیں، اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہے ہزاروں بیمار ہیں جن کیلئے ادویات دستیاب ہیں، نہ طبیب و معالج تک رسائی ممکن ہے۔ ذرائع ابلاغ، مواصلات کا نظام، انٹرنیٹ، ٹیلی فون اور بجلی و گیس تک کے کنکشن منقطع کئے جا چکے ہیں۔ بیس ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دس ہزار سے زائد نامعلوم اور اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں، جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان میں وہ بدنصیب دفن ہیں جنہیں بھارتی فوج نے گھروں سے اٹھا کر غائب کردیا تھا۔ ان کے علاوہ اسّی ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ مسلسل ظلم و ستم، کشیدگی اور تناؤ کے سبب پچاس فیصد بالغ کشمیری شہری دماغی امراض کے شکار ہوچکے ہیں۔ بے گناہ کشمیریوں پر مظالم کی فہرست بہت طویل ہے۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی آبروریزی اور بے حرمتی، اور نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کے ذریعے بینائی سے محروم کرنا اور حراستی مراکز میں اذیت کوشی روزمرہ کے معمولات میں شامل ہیں۔ ظلم کی سیاہ رات طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق انسانی حقوق کے مسلمہ چارٹر کی ایک ایک شق کی صریحاً خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ مگر بھارت کسی بھی قسم کی مذمت و ملامت کی پروا کئے بغیر پوری ڈھٹائی سے انسانی حقوق کے اداروں کو کشمیر میں جانے کی اجازت دینے سے انکاری ہے، پھر بھی پوری دُنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور عالمی ضمیر گہری نیند سویا ہوا ہے۔بھارت آئے روز پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیاں کرتا ہے، سویلین آبادی پر بمباری کرتا ہے، ہر دوسرے روز کنٹرول لائن پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ پاکستان صرف بھارتی سفیرکو طلب کرتا ہے، احتجاج کرتا ہے اور سخت نتائج کی تنبیہ کرتا ہے۔ یہ بھارت کی روایتی جنگ ہے پاکستان اس روایتی جنگ میں بھارت سے کسی قسم کا کوئی مقابلہ نہیں کر رہا۔بھارت سے لاشوں کا تحفہ اور پاکستان سے صرف احتجاجی مراسلے ۔اسی رویے نے بھارت کی ہمت افزائی کی اورپھر امریکا اور اسرائیل جیسے عالمی دہشت گردوں کی پشت پناہی ملنے کے بعد اس نے کشمیر میں 370 اور 35 اے ختم کر ڈالے۔ پاکستان نے صرف زبانی دعوعے کئے اور اب تک کئے جارہے ہیں۔
پہلے چین کی مہربانی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں نصف صدی سے زائد عرصے بعد مسئلہ کشمیر زیر بحث لایا گیاتھا۔اس کے کچھ عرصہ بعد اقوام متحدہ کا 74 واں اجلاس منعقد ہوا ۔مگر سوال یہ ہے کہ ان اجلاسوں سے حاصل کیا ہوا؟ کیا سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ نے بھارت کو کشمیر کے متنازع علاقے سے متعلق یک طرفہ طور پر کی گئی آئینی ترامیم واپس لینے، اور خطے کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کا حکم دیا؟ کیا بھارت کو نہتے شہریوں پر ظلم و ستم بند کرنے، کرفیو اٹھانے، فوج واپس بلانے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو علاقوں میں رسائی دینے، یا کم از کم ذرائع ابلاغ اور ذرائع مواصلات کے رابطے بحال کرنے ہی کی کوئی ہدایت جاری کی گئی؟۔مگرعالمی اداروں کے غلام پاکستانی حکمران خوش ہورہے ہیں کہ اقوام متحدہ نے حق خودارادیت سے متعلق اپنی ستّر برس پرانی قراردادوں کو موثر قرار دیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ قراردادیں موثر ہیں تو اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل ان پر عمل درآمد کرانے کیلئے متفکر کیوں نہیں؟ ان کے متعلق بے اعتنائی کا رویہ کیوں ہے؟مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے بارے میں قراردادوں کی طرح کشمیر میں حق خودارادیت کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کی تاریخ کا اعلان کرکے مسئلہ حل کیوں نہیں کروا دیا جاتا؟مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے برعکس کشمیر میں رائے شماری سے گریز کا راستہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے انتہا پسندانہ نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، وہ وزیراعظم بننے سے پہلے دنیا بھر میں ’’گجرات کا قصاب‘‘ کے طور پر شناخت رکھتے تھے، اور اسی سبب خود امریکا نے انہیں ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر اْن کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کررکھی تھی جو وزیراعظم بننے کے بعد ختم کر دی گئی، حالانکہ وزیراعظم بننے کے بعد بھی اْن کی انتہا پسندانہ سوچ تبدیل ہوئی ہے نہ عملی کردار میں کوئی فرق آیا ہے۔ اُن کے دور میں بھارت کا سیکولر کردار ختم کرکے اسے خالصتاً ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے تشدد پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، جس نے بھارت کو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کیلئے عقوبت خانے میں تبدیل کردیا ہے، اور اب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے کھلم کھلا ایٹم بم کے استعمال میں پہل کرنے کا اعلان کردیا ہے، جو بھارتی حکومت کی انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ مگر پاکستان کے ایٹمی پروگرام، جو ہمیشہ سے محفوظ ہاتھوں میں اور مربوط نظام کے تابع ہے، کے بارے میں بلاجواز خدشات کا اظہار کرنے والی عالمی طاقتیں اس بھارتی سوچ پر خاموشی کا روزہ توڑنے پرکیوں تیار نہیں؟۔ بھارت میں سرکاری سرپرستی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ پراقوام متحدہ کیوں خاموش ہے؟۔
اقوام متحدہ عالمی دہشت گرد امریکا ، اسرائیل اور بھارت کا سب سے بڑا سپوٹر ہے۔پوری دُنیا مسلمانوں کیلئے کربلا بنی ہوئی ہے اس صورتحال میں اقوام متحدہ کا کردار یزد جیسا ہے۔جبکہ مسلم دُنیا کے حکمرانوں کو ان کے ذاتی مفادات نے اندھا کر رکھا ہے۔مسلم ممالک کے حکمرانوں کی اپنے مفادات کے سامنے کشمیریوں کے خون کی کوئی حقیقت نہیں۔ بھارت کو بھی مسلم ممالک کی بے غیرتی کا خوب اندازہ ہے۔جس کا وہ بھر پور فائدہ بھی اُٹھا رہا ہے۔ سعودی عرب جیسا ملک، جسے اسلامی دنیا کا امام سمجھا جاتا ہے اسے بھی بھارت سے معاشی تعلقات عزیز ہیں اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آئندہ بھی بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو ایوارڈزکادیا جانا کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے رکن ممالک بھارت کا معاشی و سیاسی مقاطعہ کریں تاکہ بھارت پر دباؤبڑھے اور وہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سیاسی ، معاشی و سفارتی دباؤاستعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سیاسی ،معاشی اور سفارتی دباؤپاکستان ہی کو ڈالنا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں اب تک زبانی جمع خرچ ہی سامنے آیا ہے۔ بھارت کے معاشی و سیاسی بائیکاٹ کا آغاز پاکستان ہی کوکرنا ہوگا۔ پاکستان کی فضائی حدودسے گزرنے والی بھارتی فضائی کمپنیوں پر پاکستانی حدود سے گزرنے پر فوری پابندی عائدکی جائے ، افغانستان کیلئے بھارت کو دی جانے والی تجارتی راہداری کی سہولت فوری طور پر واپس لی جائے ، بھارت کو پاکستانی نمک کی برآمد فوری طور پر روکی جائے اور کرتار پور کا بارڈر کھولنے کا منصوبہ ترک کیا جائے۔ اس سے پوری دنیا کو پیغام جائے گا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ ہے ۔چونکہ پاکستان نے خود بھارت کا سیاسی و معاشی مقاطعہ نہیں کیا ہے اس لئے سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کو ناکامی کا سامنا ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ افغانستان میں روس اور امریکا کا مقابلہ کسی باقاعدہ فوج نے نہیں کیا بلکہ یہ جذبہ ایمانی سے سرشار لوگ تھے جنہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں دنیا کی طاقتور ترین افواج کو خاک چٹادی۔ اس بہترین سرمائے کے ہوتے ہوئے عمران خان کی اگر بھارتی نیتاؤں کے سامنے گھگھی بندھی ہوئی ہے اور وہ معاشی مقاطعہ جیسا پہلا قدم بھی اٹھانے کو تیار نہیں تو اس پر انا ﷲ وانا الیہ راجعون ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ تقسیم پاکستان کے وقت بھی پاکستان کے کئی اہم علاقے بھارت کو بلاجواز دے دیے گئے ، اس کے بعد 1971 میں مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کردیا گیا اور اب 2019 میں مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا باقاعدہ حصہ بنادیا گیا ہے اور عمران خان محض تقریروں سے مسئلہ حل کرنے کی امید کئے بیٹھے ہیں۔ انہیں وقت کی آواز سننی بھی چاہیے اور ملک کی آزادی کیلئے قائدانہ کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس قائدانہ کردار کو ادا کرنے کا اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتے تو بہتر ہے کہ وہ خود کسی دوسرے کیلئے یہ جگہ خالی کردیں۔
مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو عجلت میں علیحدہ کرنے والی اقوام متحدہ کو 72 برسوں سے کشمیر میں بہتا خون نظر کیوں نہیں آرہا؟۔کشمیری عوام کے قتل عام پر،اسلامی ممالک اور اقوام متحدہ کا ضمیر کب جاگے گا۔۔۔؟
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •