Voice of Asia News

سبھی ہیرو ،سبھی زیرو۔۔۔۔؟ محمد نوازطاہر

ہمیں آزادی دو ، آزادی ہمارا بنیادی حق ہے۔۔۔یہ مطالبے ،نعرے سنتے لکھتے عمر بیت جاتی ہے کس کو کیا آزادی ملی ؟ کون کیسی آزادی چاہتا ہے ؟ آزادی ہے کیا ، اس کا اسی طرح تعین نہیں ہوسکا جیسے عشق وچاہت، پسند و ناپسند، حریت، بغاوت دہشت گردی ، عسکریت پسندی کے سامنے قانون ، خواہش ، اقدار، انا،ریتی، رواج ، سماج، معاش ،کھڑادکھائی دیتا ہے ، ہر کوئی آزادی کا تعین اپنے طور پر کرتا ہے جیسے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا کیا جاتا ہے اور خاص طور پر نائن الیون کے بعد دہشت گردی کا متنازع ڈنڈا استعمال کیا گیا لیکن ابھی تک عالمی سطح پر دہشت گردی کا باقاعدہ اور سبھی کے لئے قابلِ قبول تعین نہیں ہوسکا ،ایسے ہی ابھی تک آزادی کا تعین بھی نہیں ہوسکا۔ بلکہ آزادی کو ادر پدر آزادی اور غلامی میں ہی گڈ مڈ کیا گیا ہے آزادی کا یہ تعین’میرا ہاتھ دوسرے کی ناک تک نہ پہنچنا‘‘ بھی مسخ ہوچکا ہے کیونکہ بڑے لوگوں اور قوتوں کی ناک اتنی لمبی ہوجاتی ہے کہ میری بغل تک سے ٹکراتی اور جب نہ ٹکرا رہی ہو تو وہ ناک میری بغل کے اندر بھی خود بخود گھس جاتی ہے۔
مجھے یہ آزادی حاصل ہے کہ میں کسی بھی لڑکی سے محبت عشق اور شادی یا فلرٹ کی خواہش رکھوں لیکن جب میری بیٹی ، بہن یا ایسا رشتہ مجھ جیسی ایسی خواہش کا اظہار کرے تو خاندان ، ریتی ،رواج سے بغاوت اور غیرت کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے یعنی یہ آزادی طاقت وغیرہ کے دائروں میں قید ہوجاتی ہے۔ حالانکہ جط اسی گھر میں ہیر رانجھا ، سسی پنوں ، لیلیٰ مجنوں ، جیسے کرداروں کی بات ہوتی ہے اور ان داستانوں پر لکھے و گائے جانے والے گانے سنے جاتے ہیں تو قابلِ قبول ہوتے ہیں ، یعنی عشق زندہ ہے تو بغاوت اور برائی ، مرگیا تو امر ہوگیا اور ہیروقرار پایا۔۔۔ یوں چاہت کی آزادی کاسادہ فہم مطلب منافقت قرار پاتا ہے۔ آزادی کا تعین کرنے کیلئے بہت سے حوالے تلاش کئے ، کم علمی آڑے آئی، عمرانیات ، سماجیات ، معاشیات اور سیاسیات سبھی میں منافقت ہی ملی۔ کہیں آزادی کا قابلِ قبول تعین نہیں کیا گیا۔
پیشہ صحافت اور خاص طور پر برصغیر میں پیدا ہونے والے بھی آج تک آزادی صحافت کی جنگ لڑ رہے ہیں ، صحافت کی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی میں کوئی بہت زیادہ نہیں لیکن فرق بہرحال موجود ہے ، آزادی اظہارِ رائے انفرادی بھی ہوسکتا ہے اور اجتماعی بھی جبکہ آزادیٗ صحافت اجتماعی آزادی اظہار رائے کا نام ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ صحافت کا استعمال کرنے والوں نے ہی اس کا منفی و مثبت استعمال کیا منفی استعمال کو زرد صحافت قراردیا گیا ، پروپیگنڈا کا ہتھیار بنایا گیا اور پھر بلیک میلنگ کا سب سے بڑا ذریعہ بنایا گیا۔ بدقسمتی سے پوری دنیا اس وقت زرد صحافت کی ذد میں ہے جسے کوئی ملک ، ریاست ، ادارہ ، معاشرہ اور طبقہ اپنی حکمتِ عملی قراردیتا ہے تو دوسرے کے اسی عمل کو منفی رنگ میں پیش کرتا ہے۔ یعنی صحافت بھی سفارت اور منافقت بن چکی ہے حالانکہ ہمارے اکابرین اس پہیشے کا تقدس بیان کرتے ہوئے پیغمبری کردار قراردیتے رہے ہین اور اس مین دیانتداری پر ہر صورت قائم رہنے کی تلقین کرتے رہے ہیں ، یہی کرتے وہ رخصت ہوگئے۔ اب صرف ’خبر ‘ کو ہی صحافت قراردیا جارہا ہے اور ’خبر‘ کی تعریف بھی من مانی کی جارہی ہے حالانکہ’ خبر‘ کی سادہ ترین کسی معاملے ، وقوعے کی فوری یا پہلے ملنے والی اطلاع ہے۔ دنیا بھر کے اخبارات اپنے معاشرے میں دستیاب آزادی میں رہ کر خبری آزادی کا استعمال کررہے تھے جس میں الیکٹرانک میڈیا کے پھیلا? میں تھوڑی تبدیلی ، پھر سوشل میڈیا کا ’انقلاب‘ آیا تو اظہارِ رائے کو مادر پدر آزادی مل گئی۔ اب پوری دنیا میں اس مادر پدرآزادی سے تنگی وتکالیف اور ہیجانی کیفیت پر قابو پانے کی تراکیب و تدابیر تجویز کی جارہی ہیں۔
سوشل میڈیا استعمال کرنے والے چونکہ حدودو قیود کے پابند نہیں ہیں اس لئے ان سے تکلیف پہنچنا لازمی امر تھا ، باقاعدہ صحافت میں کچھ اصول بہر حال لاگو ہوتے ہیں جن میں اول اور ناقابلِ تحریف خبر یا شائع و نشر کیے جانے والے مواد کی صحت کی تصدیق ہے۔باقی اصول ہر معاشرے میں الگ الگ ہیں ، یعنی قطعی طور پر برہنہ تصویر شائع نہیں کی جاتی لیکن اگر دنیا کی کسی معوروف ترین شخصیت کی بالکل برہنہ تصویر کسی کے پاس ہوتی تو شائد وہ کسی نہ کسی رنگ میں چھاپ دی جاتی جبکہ بحیثیت مجموعی اس کی اجات نہیں اور ہر کسی نے اس پابندی کو قانون کے ذریعے نہیں بلکہ خود بخود اکلاقی اقدار کے تحت لاگو کررکھی ہے ، برصغیر کی بات کی جائے تو یہاں کسی وقت عورت کی پنڈلی پپر بھی لائنیں لگا کا برہنہ پنڈلی ڈات ذدہ کردی جاتی تھی ، پھر سینہ کھلا نظر آنے کا رواج ہوا تو قبل از ابھار اس پر لائینیں لگنے لگیں۔ مغربی معاشرے نے یہ لائنیں تنہیں لگائیں لیکن ابھی تک کسی کی باقاعدہ اخبار میں قطعی برہنہ تصویر شائع نہیں کی نہ ہی دکھائی۔ بلکہ ایک ایسی پابندی لگائی ہے اور اس کی تائید کی جارہی ہے کہ خون میں لت پت لاش شائع یا نشر نہ کی جائے یعنی معاشرے میں ہیجان سے گریز کی سعی کی جائے۔اگر کسی کو اس بربریت سے قتل کردیا گیا ہے کہ اس کے جسم کے ٹکڑے کردیے گئے ہیں تو لوگوں نہ دکھایا جائے کہ اس کے ساتھ کیا بربریت کی گئی ہے ی ہے ؟ مقتول کی حد تک کیا یہ پابندی درست ہے ؟ اسے ماننا چاہئے ؟ دہشت گردی میں معصوم انسانوں کے اعضاء دور دور تک بکھر جاتے ہیں ، اس دہشت گردی سے نفرت کے لئے عوام الناس کو آگاہ نہ کیا جائے کہ ان معصوموں کا کیا حشر کیا گیا ہے؟ یا یہ دلیل درست مانی جائے کہ ان تصویروں اور مناظر سے معصوم بچوں کے ذہن متاثر اور خوف پیدا ہوتا ہے اور کیا یہ دلیل بھی مان لینا چاہئے کہ یہ خوف پیدا ہونے سے دہشت گردی کرنے والوں کے عوام الناس کو خوفزدہ کرنے کے مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے ؟۔ کونسی دلیل قابلِ قبول ہے ؟ اور کس پر عملدرآمد کرنا مناسب یا ممکن ہے ؟جب تمام حقائق دلائل اور تجاویز پر غور کیا جائے گا تو یقینی طور پر کوئی نہ کوئی لائحہ عمل یا، طریقِ کار یا اصول وضع کیا جائے گا، کوئی ضابطہ(بشرطیکہ بدنیتی پر مبنی نہ ہو) بنایا جائے گا تو یقینی طور پر اجتماعی مفاد میں کوئی نہ کوئی انفرادی مفاد متاثر بھی ہوگا۔
آزادی کا تعین کرنے سے پہلے ، عسکریت پسندی ، غلامی ، دہشت گردی کا تعین بھی کرنا ہونا ہے ، جب تک ان کا تعین نہیں کیا جاتا تب تک اظہارِ رائے ، ابلاغِ عامہ اور صحافت کی آزادی کا تعیم مملن اور موثر و قابلِ عمل نہیں ہوگا۔ عسکریت پسندی ، دہشت گردی ، بغاوت ، حریت اور صحافت ایسے ہی چلے گی اور معاشرہ بگاڑ سے سدھار کی طرف نہیں بڑھے گا ، طاقت ور کا ڈنڈا چلتا رہے گا اور کمزور مرتا رہے گا۔
۔ کمزور معیشت والے ممالک عالمی ’غلامی ‘ سے نجات نہیں پاسکیں گے، یہ غلامی بدعنوانی اور لوٹ مار کو جنم دیتی رہے گی۔
پاکستان بھی ایک کمزور معیشت ہے یہاں اس کی ضرورت باقی معاشروں سے کہیں زیادہ ہے ، ان حالات میں کیا یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہمیں اپنی سمت متعین کرنا چاہئے ؟ سماج کی ، رسم و رواج کی ، معیشت کی سیاست کی صحافت کی۔۔۔۔۔؟اگر نہیں کیا جاتا تو صحافت سمیت ہر آزادی پر طاقت وقر کا ڈنڈا چلتا رہے گا ، آزادی دو کے نعرے لگائے، سنے جاتے رہیں گے اور رد ہوتے رہیں گے۔ ہیر، لیلیٰ ، سہتی ،سسی ، ماروی ، آج کی ہیرو نہیں، ماضی کی باغی ہی کہلائیں گی ،دلا بھٹی پنجاب کا ہیرو نہیں قابض حاکم کا باغی مانا جائے گا۔۔۔۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •