Voice of Asia News

بادشاہ سلامت ،قاضی شریح اور احتساب:سیف اعوان

کسی ملک پر ایک بادشاہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ بادشاہ عدل و انصاف کا دلدادہ تھا اور رعایا کو سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کا شوقین بھی۔ رعایا ان باتوں کی عادی نہ تھی لہٰذا اس کو اکثر بد ہضمی کی شکایت رہنے لگی لیکن بادشاہ وقت انصاف کرنے سے باز نہ آیا۔اس کے عدل کا ایک قصہ بڑا مشہور ہے۔ ایک دن بادشاہ کو ایک پرانا دوست ملنے کے لیے آیا (جس کے ساتھ مل کر بادشاہ کبھی وارداتیں کیا کرتا تھا) اور اپنے میٹرک پاس بیٹے کے لیے نوکری کی درخواست کی۔ بادشاہ نے وزیرِ خاص (جس کی ڈگری بعد میں جعلی ثابت ہوئی ) کو حکم دیا کہ ’’بچے کو سول ہسپتال میں سرجن لگا دو‘‘۔وزیرِ خاص ہکا بکا رہ گیا۔ ’’عالی جاہ! تو پھر پہلے سے موجود سرجن کا کیا کروں؟‘‘۔ حکم ہوا، ’’اسے تھانیدارلگا دو۔ ‘‘ وزیر نے پھر دہائی دی، ’’تھانیدار کو کہاں بھیجوں؟‘‘۔ ’’اسے جیل میں ڈال دو‘‘، بادشاہ نے زچ ہو کر کہا۔ درباری نورتن (جنہیں مخالفین کفن چور ٹولہ کہتے تھے) اس فیصلے پر عش عش کر اٹھے۔ بادشاہ اس مقولے کا قائل تھا کہ زبان اوراختیارات سنبھال کر رکھنے کی چیز نہیں ہوتے بلکہ خوب استعمال کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اختیارات اور زبان کو استعمال کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتا۔
پاکستان پر آج ایک ایسا بادشاہ حکومت کررہا ہے جو اپنی زبان اور اختیارات کا خوب استعمال کرہا ہے ۔عدالتوں کے کام بھی وہ کررہا ہے ،فوج کے کام بھی وہ کررہا ہے ،نیب سمیت باقی اداروں کے کام بھی وہ کررہا ہے جبکہ میڈیا کے کام کرنے کا بھی خوا ہاں ہے۔بادشاہ سلامت جس دن سے ایوان اقتدار میں پہنچے ہیں اس ایوان اقتدار کو یونیورسٹی بنانے کا خواب سجائے ہوئے ہیں ۔لیکن بادشاہ کے مشیروں اور وزیروں عالی جاہ اس بات پر قائل کرلیا ہے کہ حضور والا یہ ایوان تو ہمارے اقتدار کی علامت ہے لہذا اس کو یونیورسٹی بنانے کا ارادہ ترک کردیں ۔ہمیں کفاعت شعاری کا پروگرام شروع کرنا چاہیے ۔یہ تدبیر بادشاہ کو بہت پسند آئی ۔بادشاہ نے فوری ایوان اقتدار کی بھینسیں اور گاڑیوں کی نیلامی کے ساتھ لنگرخانے بھی کھولنے کا حکم صادر کردیا ہے۔کچھ ہی عرصے بعد بادشاہ کو معلوم ہوا یہ تجویز بھی سومند نہیں ہے۔
پھر کچھ عرصے بعد بادشاہ نے سوچا کیوں نا پرانے بادشاہ کی فائلیں نکال کی دیکھی جائیں اس بادشاہ نے رعایا کیلئے کیا کیا منصوبے شروع کیے تھے ۔بادشاہ نے اپنے مشیر کو حکم صادر کیا کہ پرانے بادشاہ کے تمام منصوبوں کی فائلیں لے کر آؤ ،مشیر خاص فورا وہ فائلیں لے آیا مشیر خاص بادشاہ کو باری باری فائلیں دیکھاتا رہا ان فائلوں میں سڑکیں،انڈر پاسز،پل،دیمامر بھاشہ ڈیم،سی پیک ،کسان پیکج،گوادر پورٹ،نئے سکول کالجز اورہسپتال تھیں۔سب سے آخر میں مشیر خاص نے جو دو فائلیں دیکھائی وہ بادشاہ کو بہت پسند آئی ۔بادشاہ نے ان دو فائلوں دوبارہ کام شروع کرنے کا فرمان جاری کردیا ۔مشیر خاص نے کہا ’’عالی جاہ جان کی امان پاؤ یہ وہ وہی دو منصوبے جن کی آپ ایوان اقتدار میں آنے سے پہلے مخالفت کرتے ہیں‘‘ ۔’’بادشاہ سلامت نے کہا اگر تم اتنے سمجھدار ہوتے تو آج میری جگہ پر بیٹھے ہوتے ،یہ دونوں منصوبے صرف نوجوانوں کیلئے ہیں اور اس وقت ہمیں نوجوان طبقے کے تعاون کی اشد ضرورت ہے ‘‘ ۔مشیر خاص وہ دونوں فائلیں لے کر دوبار سے باہر نکلے سامنے سے وزیر خزانہ ملے وزیر خزانہ نے کہا بھائی لگتا ہے تم میرے لیے نئے اخراجات کے احکامات لیکر آئے ہو ۔مشیر خاص نے مسکراتے ہوئے کہا بس جناب ہم تو نوکر ہیں اور نوکری کررہے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا یہ کیسے احکامات ہیں مشیر خاص نے کہا ایک فائل نوجوانوں کو آسان قسطوں پر قرضے دینے اور دوسری فائل مفت لیب ٹاپ دینے کی ہے۔وزیر خزانہ نے جیسے یہ الفاظ سننے غصے میں آگئے اور کہا یہ تو پرانے بادشاہ کے منصوبے تھے ان دونوں منصوبوں کیلئے میرے پاس پیسے نہیں فی الحال تم بادشاہ سے کہنا نوجوانوں کومفت لیب ٹاپ کی فراہمی اور قرضے دینے کا اعلان ہی کرنا اس سے ابھی آگے نہیں بڑھنا ۔۔۔۔
دوسری جانب بادشاہ سلامت کو آج غلط مشورے دینے والوں اور خوشامدیوں نے گھیر رکھا ہے۔جبکہ بادشاہ خود بھی بہت تلخ لہجے والے ہیں ۔کسی صورت میں بھی اپنے تخت’’کنٹینر‘‘ سے نیچے نہیں اترنے کا نام نہیں لے رہے۔بادشاہ سلامت نے اپنے مخالفین کو چن چن کے زندان میں ڈال دیا ہے۔ان سب مخالفین پر ایک ہی الزام اور وہ ہے کرپشن کا الزام،ان تمام مخالفین میں واحد ایک شخص ہیں جن ہیروئن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔اس شخص پر اتنی ہیروئن ڈالی گئی ہے کہ اس کے متعلق تو ایک سابقہ بادشاہ نے بھی کہہ دیا تھا کہ ’’اس کو تو اب سزائے موت ہی ہو سکتی ہے‘‘۔ٓاس شخص کو یکم جولائی کو انسداد منشیات فورس نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے موٹر وے سے حراست میں لیا تھا۔’’جبکہ حکومت کے وزیر مملکیت داخلہ شہریار آفریدی پارلیمنٹ ،ٹاک شو،دربار عالیہ اور پریس کانفرنسز میں باربار دعوے کرتے رہے ہیں کہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں ۔اس معاملے پر ان کو ایک ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا ہے’’میں نے جان اﷲ کو دینی ہے‘‘ جس کو گلی محلوں میں خوب انجوائے کیا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ کب تک چلتا رہے گا؟
موجودہ بادشاہ سلامت کی انا اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے دو سابقہ بادشاہ اس وقت کئی طرح کی خطرناک بیماری کے ساتھ ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔جبکہ موجودہ بادشاہ روزانہ ایک ڈائیلاگ بول رہے ہیں کہ ’’میں ان کو نہیں چھوڑوگا‘‘۔ایک طرف بادشاہ اور ان کے وزیر مشیر کہتے ہیں ان پر کیس ہم نے نہیں بنائے اور قاضی شریح آزاد ہے دوسری طرف اے سی اتارنے اور ٹی وی بند کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں ۔
بادشاہ سلامت کو چاہیے کہ وہ ملک و قوم کے بارے میں سوچیں ۔ملک کی معاشی صورتحال مستحکم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور مہنگائی کا جن کنٹرول نہیں ہورہا ایسے حالات میں وزیراور مشیر بھی بادشاہ کا دفاع کرکے پریشان نظر آرہے ہیں۔بادشاہ سلامت کو مشورہ ہے کہ وہ صرف اپنی حکومت کو مضبوط کرنے اور ملک و قوم کو درپیش مسائل حل کرنے پر توجہ دیں ۔اگر ان سابقہ بادشاہوں اور ان کے وزیر وں مشیروں نے کوئی کرپشن کی ہے تو ان کا احتساب قاضی شریح کو کرنے دیں ۔

journalist042@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •