Voice of Asia News

ہرا بھرا ’زرد‘ بلوچستان ۔۔۔ پہلی قسط محمد نوازطاہر

برِ صغیر میں برطانوی راج کے کمزور ایام میں نحیف جسم والے پُرعزم محمد علی جناح ؒ کے ایک ساتھی سے منسوب جعفر ایکسپریس پر سوار ہوتے ہی گاڑی کے ڈبوں کی حالت نے واضح کردیا کہ یہ بلوچستان کے صحرا اور پہاڑ چیرتی ہوئی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ جانے والی ٹرین ہی ہے ، یہ صرف ’دو طاقتور‘ شہروں راولپنڈی اور لاہور کے درمیان چلنے والی ٹرین نہیں ہے اور میں بھول کر کسی دوسری ٹرین میں نہیں بیٹھا جبکہ اس کی حالت سیالکوٹ ، نارووال ، ، لاہور ہوتے ہوئے چوبیس گھنٹے سے زائد سفر کرکے کراچی پہنچنے والی علامہ اقبال ایکسپریس سے بالکل مختلف نہیں تھی ،لاہور، نارووال سیکشن پاکستان ریلوے کا نمائندہ سیکشن ہے جہاں نوے کی دہائی تک سب سے زیادہ ٹرینیں چلا کرتی تھیں لیکن اب بس ۔۔۔ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب۔۔۔۔ ہاں! یہ ہوسکتا ہے کہ کرتاپور راہداری کھلنے سے ریلوے کا چک امرو سیکشن بھی بحال ہوجائے جس کی راہ میں مقامی منتخب عوامی نمائندے ہیں، ٹرینیں چلنے سے ان کے ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر اثر پڑتا ہے
پینے کے صاف پانی کی بوتلیں دھیان کے ساتھ سنبھالتے ہوئے میں نے ہمسفر قیصر چوہان کو تاکید کی کہ اگر مجھے اونگھ آجائے تو دوران سفر زیر استعمال برتن ملتان میں بھرے جانے والے پانی سے دھونا نہ بھولے ورنہ روہڑی سے بھرے جانے والے دریائی گدلے پانی سے برتن صاف نہیں ہونگے ۔۔میری بات سن کر اسی کوچ میں پشاور سے سکھر تک کے مسافر عادل ( خصوصی صنف ) نے زنانہ اور مردانہ مسکراہٹ سے جو طنز کیا ،وہ محسوس تو کیا جاسکتا ہے الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے اور حاکمانِ پاکستان کے لئے تو بہت ہی تکلیف دہ اور ناقابلِ برداشت ہوسکتا ہے ۔۔
ٹرین کہیں رینگتی اور کہیں فراٹے بھرتے ہوئی ، ہر بریک لگنے پر ڈراتی ہوئی کہ جیسے ابھی اس کے ڈبے الگ ہوجائیں گے یا احتجاجاً پٹڑی کو چھوڑ کر وہیں پر دھرنا دی دیں گے ، ۔ جیکب آباد جا کر اسے طے شدہ وقت سے زیادہ رُکنا پڑا ، سٹیشن ماسٹر نے بتایا کہ سیکیورٹی کلئرنس ملنے پر اسے چلادیا جائے گا ، سٹیشن ماسٹر ست گفتگو کے دوران میری دلچسپی ریلوے ٹریک کے نقشے پر تھی۔ یہ نقشہ برِ صغیر پر قبظہ کرنے والی فرنگی حکومت کے اہلکاروں نے پٹڑی بچھاتے ہوئے بنایا تھا اور اس کی لائینیں کم کرنے اور مٹانے کے ماسوا ہم ابھی تک اس میں اور کوئی تبدیلی نہیں کرسکے ، اس کے بعد ایک سٹیشن پر رُکی جہاں پاک سیکیورٹی فورسز کے سدھائے ہوئے کتے باردی اہلکاروں سے بھی مستعد ہر مسافر اور سامان کو سونگھ رہے تھے، مجھییقین ہوگیا کہ یہ ٹرین بلوچستان میں داخل ہوچکی ہے اور ڈیرہ الہ یار سٹیشن پر رکی ہوئی ہے جو سیکیورٹی کی پہلی چیک پوسٹ ہے۔ سیکیورٹی ہلکار اپنا کام کرتے ساتھ ساتھ مسافروں کو ’تکلیف کی معذرت ‘ کے الفاظ بھی ادا کررہے تھے لیکن ان کی آنکھیں زبان کے برعکس زاویوں میں متحرک تھیں ۔ سبی ریلوے سٹیشن پر میں ایک بُک سٹال کے سامنے ساکت کھڑا تھا جہاں کل ملا کر چالیس کتابیں اور پرانے رسالے پڑے ہوئے ، ان سے زیادہ جگہ خالی تھی، مجموعی طور پر اسی فیصد جگہ فریج اور پینے کے صاف پانی کی بوتلوں نے گھیر رکھی تھی دوسری جانب مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ جاری تھا اور اس سٹالپر بیٹھا شخص خود کلامی میں مصروف ھا ، یہ جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگا کہ سماج نے اس خود کلام کتنے عرصے سے نظر انداز اور بیگانہ کررکھا ہے ، کسی وقت یہ شخص اعلیٰ کلام بھی رہا ہو گا ، لیکن اب تو اپنے آپ سے بھی انجان تھا۔ یہ بُک سٹال اور خود کلام دونوں ہمارے مجموعی رویوں کے عکاس ہیں ۔ اب میں بلوچستان میں تھا۔زندگی کی بہت سی نعمتوں سے محروم اکثریت کے طویل الرقبہ صوبے میں ۔ جو معدنیات سے بھرا پڑا ہے ، ساتھ ہی بدنیات‘ سے بھی ۔تو دماغ سوال کرنے لگا کہ بلوچستان کیا ہے ، کیا بنا رکھا ہے ۔۔۔۔
خشک پہاڑ ، طویل صحرا ، غربت و افلاس ، گہری آنکھیں ان گنت سوال ۔۔۔یہ کل کا صوبہ بلوچستان ہے ، ۔۔ یہ پنجابی ے اس کا شناختی کارڈ دیکھو اور گولی ماردو، بم دھماکے ، بے شمار معصوم لاشیں ، مظاہرے احتجاج ، انسانیت کی تذلیل ، سماجی سیاسی معاشی استحصال ،ریاست گردی ، نواب گردی اور دہشتگردی ۔۔۔ یہ ہے موجودہ بلوچستان ۔۔۔
ایک بلوچستان کل کا بھی ہے ، ایک نیا بنگلہ دیش ۔۔ ایک نیا پاکستان۔۔۔ پاکستان کی قیادت کرتا ہوا روشن خیال اور ہرا بھرا بلوچستان جوپاکستان کا مستقبل اور ترقی یافتہ ممالک میں مضبوط معیشت کے ساتھ کھڑا ہوا پاکستان۔۔۔
موجودہ بلوچستان اپنی ویسے ہی دھرتی پر بدنیتی، کرپشن ، غلط ریاستی پالیسیوں اور استحسالی سیاسی و معاشی نظام کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی اور جنونیت کے جِن کے کندھوں پر سوار ہوا نئے بنگلادیش کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جیسے مشرقی پاکستان ، بنگلہ دیش بننے سے پہلے کاسفر کررہا تھا، جنہیں نظر آرہا ہے وہ زمین پر بہت نیچے سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے اس جِن کو آوازوں اور نعروں کے ساتھ روکنے کی اپنی سے کمزور ترین کوشش میں لگے ہوئے ہیں سوچنا ، اچھا سوچنا اور اجتماعی و قومی مفاد میں سوچنا جن کے دماغ کی چِڑ ہے اور دھیان صرف پیٹ کی طرف ہے ، انہیں ان حالات سے نہ ستر کی دہائی کے اوائل میں کوئی غرض تھی نہ اب ہے ۔
مظلوم ،مجبور، بھوکے ، پیاسے محکوم پاکستانیوں کو کالے انگریزوں کے سماج میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی یاد ستانے لگی ہے، سبی ریلوے سٹیشن پر ٹرین کا انجن رخ بدل رہا تھا ، پانی کی ٹینکی پر اور باوردی سیکیورٹی اہلکار مستعد کھڑا تھا ، میں نے ایک بوڑھے شخص سے حال احوال کیا تو وہ بولا ’بابا انگریز کی مہربانی ہے کہ اس ٹینکی سے ہم بھی پانی لے لیتے ہیں ،یہ انگریز کا کمال ہے جس نے ان راستوں پرریل بچھائی ،وہ رہتا تو یہاں پانی کا مسئلہ بھی حل کرچکا ہوتا ، اوریہ بلوچستان ہرا بھرا بنا چکا ہوتا‘ میں نے ہلکے پھُلکے انداز میں پوچھا ’بابا جی یہ اہلکار انجن کو نشانہ بنا رہا ہے؟ تو وہ مسکرا دیا، بولا نہیں ، یہ بیچارہ توگرمی اور سردی دونوں میں اسی جگہ کھڑا ہوتا ہے اور ایسے ہی ہوتا ہے،یہ بھی تو انسان ہے ، میں کہا یہ تو فوجی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فوجی صرف گولی چلاتے ہیں اور لوگوں کو مارتے ہیں تو وہ بولا ہاں! یہ بھی گولی چلاتا ہے، فوجی ہمیں مارت ہیں ، ہمارے لوگوں کو گم کردیتے ہیں ، میں نے پوچھا کہ بابا جی پھر آپ اس اکیلے کھڑے فوجی کو پکر کیوں نہیں لیتے تو وہ بابا بولا یہ وہ نہیں ہے ، یہ تو حفاظت کے لئے کھڑا ہے،جب ٹرین مرین آتا ہے تو یہ گولی سیدھی کرکے کھڑا ہوجاتا ہے۔ٹرین جدھر جدھر جائے گی ، اس کے دونوں طرپ(طرف) فوجی بندوقیں اٹھائے نظر آئیں گے،پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا بیس پچیس سال سے ہی ہو رہا ہے ۔۔۔ بابا درست بول رہا تھا، میدانی علاقوں میں رہنے والوں کے لئے ٹرین کا سفر ایک تفریح ہوا کرتا تھا، میرے لئیآج بھی کوئٹہ ،چمن سیکشن کا سفر اتنی ہی کشش رکھتا ہے جتنی چالیس سال پہلے۔۔۔دشوار گذار علاقوں میں سرنگیں کھود کر ٹرین کی پٹڑی بچھانا بہت بڑا کام تھا جو کافروں نے اتنے عرصے میں کیا جتنے عرصے میں صالح مسلمانوں نے یہ پٹڑیاں اکھاڑی ہیں اور کئی سیکشن ہی بند کردیے ہیں جن میں خواجہ غلام فرید کی جنم بھومی، خانپور ،چاچڑاں سیکشن بھی شامل ہے ۔پھر لوگوں کو ایسٹ انڈیاکمپنی یاد تو آئے گی ۔۔۔ اب سدرن چائنا، پاک کمپنی بھی ایک ٹریک بچھا رہی ہے گوادر میں پٹڑی بچھتی ہوئی میں خود دیکھ چکا ہوں ، عام آدمی سی پیک منصوبے سے بہت سی امیدیں رکھتا ہے جبکہ یہ منصوبہ اپنے اندر بڑی’ تباہی ‘ لئے ہوئے ہے، اس منصوبے کی وجہ سے پاکستان کے عوام کی ممکنہ خوشحالی، روزگار کے مواقع اور ترقی کے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ بلوچستان میں سفر کرنے والے دیکھتے ہیں کہ گیس پائپ لائن کے پائپوں کی حالت کیا ہوچکی ہے، گوادر کے منصوبے کو ہر حکمران اور برسرِ اقتدارجماعت کی طرف سے پاکستان کی بدلتی تقدیر قراردیا جاتا ہے لیکن اس کی سست روی پر کسی کو کوئی پرابلم نہیں ۔۔۔ مکران کے نیلگوں ساحل دنیا کا خوبصورت پانیوں کو پیچھے چھوڑتے ہیں جو گوادرمنصوبے کی ناقص منصوبہ بندی سے زرد ، کالے اور آلودہ ہوتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اس منصوبے میں مستقبل کے عالمی شہر کا سیوریج سسٹم ایک چھوٹے سے گاؤں کے نکاسی آب جیسا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ گندا پانی سمندر کی آلودگی کا باعث بنے گا، اس کی حالت کراچی کے ساحل سے بھی بُری ہوگی ۔ گوادر کے نواح میں جہاں جہاں پانی دستیاب ہے ریت ہری اور خوشگوار مہک میں بدل چکی ہے ، اب بھی اگر وسیع ترین گوادر منصوبے میں تین چار سو کلومیٹر کا سیوریج رِنگ روڈ طرز پر ڈرین ڈیزائن کیا جائے جسے مختلف بارشی پانی کے نکاس کے لئے پوائنٹس سے راستے دیے جائیں ، اور بارشی پانی کے ذخیرے کا انتطام کیا جائے تو وسیع علاقہ زرخیز ہوجائے گا ، قابلِ کاشت ہوگا ، سمندری آلودگی بھی نہیں ہوگی ۔ کوئی بتاسکتا ہے کہ میرانی ڈیم کتنا پانی د ے گا؟ مزید ڈیم بنانا کوئی مسئلہ نہیں ہے ،ابھی تو کسی نے یہ بھی بتانا گوارا نہیں کیا کہ سی پیک کے منصوبے پر عملدرآمد کرتے ہوئے جب ٹرین کی پٹڑی بچھے گی ، سرکیں بنیں گی تو پہاڑوں کے قتل سے سے کون کونسی معدنیات نکالی اور ضائع کی جائیں گی ، ان کی مالیت کیا ہے ؟
بلوچستان کے ریگستان اور پہاڑی چٹانیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ یہ کبھی سمندر میں تھیں،قدرت ناراض ہوگئی یا پانی اور زمیں میں آپسی جھگڑا ہوگیا اور نفاق نے دونوں کو دور کردیا ، پانی کو سہارا دینے کا غرور کرنے والی زمین بنجر ہوگئی ۔۔۔۔ اسے نظر انداز کرنے والوں نے بانجھ بنادیا جبکہ یہ بانجھ ہرگز نہیں ہے ، ذرا غور کریں تو سبی سے ٹرین چلتے ہی ریل کی پٹری کے اطراف میں لہلہاتی فصلیں اس زمین کی زرخیزی اور انسانی غفلت کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ غفلت کیسے ختم ہوگی جبکہ کوئٹہ کے باغات تو بڑھتی ہوئی آبادی اور حاکمانِ وقت کی لاپرواہی کھا گئی ، جس نے سرسبز علاقے پیلے کردیے ہیں ، بلوچستان کی سر زمین پکار کار کر کہہ رہیہے انسان کی آنکھ دیکھنے کی حس کھو چکی ہ جو مجھے زرد دیکھ رہی ہے ، میں زرد نہیں ہوں ، میں ہری بھری ہوں ، ایک سال میں بلوچستان کے تین وزِٹ ، خاص طور پر اندرونِ بلوچستان کو دیکھنے کا موقع ملا تویہاں بسنے والوں کی بالغ نظری پنجاب ، سندھ کے بڑے شہروں میں رہنے والے بابوؤں سے کہیں دوراندیش پائی،بس ان کی آبیاری کی ضرورت ہے ،تھوڑی سے سپورٹ درکار ہے جو قدیم قبائلی نظام کے باعث دبی ہوئی ہے، اس دانش ، سوچ ، اپروچ اور وسیع النظری کو وہ مدد درکار ہے جس سے یہ اس سرداری نظام سے چھٹکارا پا کر آگے بڑھ سکیں ،لوگ اب غلام اور محکوم نہیں رہنا چاہتے ، ریاست انہیں سپورٹ نہیں کرترہی ، بلکہ سرداروں کو سپورٹ کرکے اپنی عمارت کے لئے ستون لیتی ہے بڑھتے ہوئے شعور کے سامنے یہ ستون اور کتنی دیر ؟ریاست کو یہ کیوں دکھائی نہیں دیتا کہ کتنے بچے اس سرداری نظام سے باغی ہوچکے ہیں ، وہ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کے قابل بھی ہیں اور خواہاں بھی ہیں ، کیوں موقع فراہم نہیں کیے جاتے ؟
حالیہ بارشوں نے بیابان بلوچستان کے صحراؤں میں ہریالی پیدا کردی ہے ، جڑی بوٹیاں اور کھجور، درخت پھوٹ چکے ہیں ، میں نے پچھلی بار انجیر توڑکر کھائے تھے ، اس بار بیر کا بُور چکھا ہے۔ یہ تو جعفر ایکسپریس کے راستے ہیں ، ابھی ہرنائی سیکشن بحال ہونے جارہا ہے ، اس پر سفر کریں گے تو ایسٹ اندیا کمپنی کو پھر یاد کریں گے ، ساتھ ہی ساتھ اس سیکشن کو بحال کرنے والوں کی تحسین بھی کریں گے اور یہ بھی یاد کروائیں گے کہ پاکستان میں ضیاء کی طویل آمریت کے دوران یہ سیکشن برباد ہوا تھا ، اسی کی دہائی کے وسط میں اس سیکشن کی بحالی کے لئے صرف پانچ کروڑ رپے درکار تھے ، لیکن بلوچستان کی ترقی بھلی نہیں لگ رہی تھی ، نتیجہ یہ نکلا کہ پٹڑی کے گارڈر تک لوگ اٹھا کر گھروں میں لے گئے یا ریل کے نظام کا لوہا لاہور کی لوہے کی فیکتریوں کی یہیں کہیں کسی قریبی فیکٹری میں ڈھل گیا ۔
اب بارشوں نے ہریالی یدا کردی ہے زرد بلوچستان ہرا بھرا ہورہا ہے اور مستقبل میں پاکستان کی قیادت کرتا دکھائی دیتا ہے ، بس دو چار بڑے لینڈ انویسٹرز کی نظر پڑنے کی دیر ہے ۔ بلوچستان سے باہر رہنے اور بلوچستان میں تحفظ کی خدمات انجام دینے والوں کو یہاں زمین بڑھتی ہوئی الاٹ منٹ بھی ہریالی میں اضافے کا سبب بنے گی لیکن لازم یہ بھی ہے کہ مقامی بے زمینوں کو الاٹ منٹ کے ساتھ ساتھ کاشتکاری کی سہولتیں اور وسائل بھی فراہم کیے جائیں ، ورنہ ہرا بھرا بلوچستان زرد بلوچستان کی جانب بڑھ جانے کا اندیشہ ہے اور پھر اس کی رفتار ستر کی دہائی جیسی ہونے کا خدشہ ہے خدا کرے ایہ خدشہ ہی رہے اور حکمران ہوش کے ناخن لیں۔جعفر ایکسپریس نے مغرب کے وقت کوئٹہ اتار دیا ہے جب چمن پسنجر پر سوار ہونگے تو باقی بلوچستان کی بات کریں گے ۔
(جاری ہے )
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •