Voice of Asia News

شہدائے جموں نے اپنے خون سے تحریک آزادی کی شمع روشن کی، وزیراعظم آزاد کشمیر

برسلز(و ائس آف ایشیا)وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہاہے کہ شہدائے جموں نے اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر کی شمع روشن کی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے شہدائے جموں کی مناسبت سے کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام شہدائے جموں اور کشمیر کی موجودہ صورتحال کے عنوان سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ راجہ فاروق حیدر خان ان دنوں کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام یورپی پارلیمنٹ برسلز میں جاری کشمیرای یو ویک کی تقریبات میں شرکت کے لیے بلجیم کے دورے پر ہیں۔برسلز میں کشمیرکونسل ای یو کے مرکزی سیکریٹریٹ میں شہدائے جموں کے حوالے سے سیمینار سے چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید، کشمیرگلوبل کونسل کی رکن ثریا صدیقی، وزیراعظم آزاد کشمیرکے پرنسپل سیکرٹری امجد پرویز، بلجیم میں کشمیری رہنما سردار صدیق، برسلز کی مقامی حکومتوں کے پاکستانی نڑاد نمائندگان عامرنعیم سنی اور چوہدری محمد ناصر نے خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض کشمیرکونسل ای یو کے سینئرعہدیدار چوہدری خالد جوشی نے انجام دیئے۔ مقررین نے شہدائے جموں اور کشمیر کے دیگر شہدا کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ کشمیریوں کی ستر سال کی تاریخ قربانیوں کی بھری ہوئی ہے اور مقبوضہ کشمیرکے لوگ آج تک قربانی دے رہے ہیں۔ راجہ فاروق حیدر نے کشمیرکونسل ای یو کی پوری ٹیم خصوصا کونسل کے سربراہ علی رضا سید کی مسئلہ کشمیر پر یورپ میں جاری کوششوں کو سراہا۔ کشمیرکونسل ای یوکی پوری ٹیم سے اظہارتشکر کرتے ہوئے انھوں کہاکہ وہ گذشتہ چند سالوں سے مسلسل کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام کشمیرای یو ویک کی تقریبات اور برسلز میں دیگر مواقع پر کشمیر کے حوالے سے کونسل کے پروگراموں میں شرکت کررہے ہیں۔ سیمینار کے منتظم اور چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر لاکھوں شہدا کے خون سے لکھی گئی ہے اور ہم شہدا کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچا کر رہیں گے۔علی رضا سید نے وزیراعظم اور دیگر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہاکہ وزیراعظم کشمیریوں کے ایک منتخب نمائندہ ہیں۔ ان کی آواز تسلیم کی جاتی ہے کیونکہ وہ کشمیریوں کے ترجمان ہیں اور بہتر طریقے سے مسئلہ کشمیرکو دنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔ گلوبل کشمیرکونسل کی رکن اور کشمیری نڑاد کینیڈین دانشور ثریاصدیقی نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر میں جموں کے شہدا کا کردار بہت اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان یقینا کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کرتا ہے لیکن کشمیری عوام کو کشمیر کے تنازعہ کے حل میں مرکزی حیثیت حاصل ہونا چاہیے۔ انھوں نے خاص طور پر کشمیری ڈائس پورہ پر زور دیا کہ وہ متحد ہوکر مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا مسئلہ اجاگر کریں۔ وزیراعظم آزاد کشمیرکے پرنسپل سیکرٹری امجد پرویز جن کا تعلق جموں کی سرحد سے ہے، نے جموں کے شہدا کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایاکہ جموں کا قتل عام مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا قتل عام تھا۔ تقریبا اڑھائی لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور اس وقت کے مہاراجہ کے ریاستی سرکار بھی اس میں ملوث تھی۔ پاکستان لے جانے کے بہانے گاڑیاں بھر بھر کشمیری مسلمانوں کو لے جایا گیا اور راستے میں شہید کردیا گیا۔ دوسری جانب کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر ای یو ویک جاری ہے۔ پروگرام کے تیسرے روز ایک ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں کشمیرای یو کی اختتامی قراردادوں اور اعلامیے کو حتمی شکل دی گئی۔ جمعرات کو چوتھے روز وزیراعظم کشمیر اور چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے اپنے وفد کے ہمراہ متعدد اراکین یورپی پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کیں۔ یورپی پارلیمنٹ میں کشمیرای یو ویک جس کی میزبانی ایم ای پی شفق محمد اور دیگر اراکین پارلیمنٹ کررہے ہیں، جمعہ آٹھ نومبر تک جاری رہے گا۔
وائس آف ایشیا08نومبر2019 خبر نمبر34

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •