Voice of Asia News

اگر استعفیٰ شرط ہے تو پھر مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (و ائس آف ایشیا) جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے مطالبے پر بضد ہیں۔ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی پانچ ملاقاتوں پر چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان کو بریف کیا۔ذرائع کے مطابق چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان کو مذاکرات کے تعطل کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا۔ جبکہ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات جاری ہے جس میں رہبر کمیٹی سے ہونے والی ملاقاتوں پر وزیراعظم کو بریفنگ دی جا رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی کی رہبر کمیٹی کی شرائط پر وزیراعظم سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بار بار استعفےکی بات ہو رہی ہے، اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔خیال رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کو اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالے آج نواں روز ہے۔مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ اور دھرنے کو ناکام ہوتا ہوا دیکھ کر حواس باختہ ہو گئے ہیں اور حکومت کو دھمکیاں دینے پر بھی اُتر آئے ہیں۔گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو واضح تنبیہہ کی کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ملک میں افراتفری ہوگی۔ ہم شہادتیں لیں گے اور نعشیں اٹھائیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ یہاں موجود لوگ تفریح کے لیے نہیں آئے ہیں۔ یہ لوگ ایک نظریے کے تحت آئے ہیں۔عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔مولانا کی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ان کے مارچ کو سنجیدہ نہ لیا تو پھر ملک کی گلی گلی میں دنگا فساد ہوگا۔ ملک میں جو کچھ ہو گا پھر اس کے بعد لوگ ماڈل ٹاؤن واقعے کو بھول جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ حکومت مطالبات قبول کرے اور 2 سے 3 ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات کا اعلان کرے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •