Voice of Asia News

ہرا بھرا ’زرد‘ بلوچستان ۔۔محمد نوازطاہر۔ دوسری قسط

پاکستان کو کوئٹہ سے راستے افغانستان تک لے جانے والے والی کوئٹہ چمن پسنجر پاکستان کی اہم ترین گاڑی ہے جبکہ اس کی حیثیت انٹرنیشنل ہے بس فرق اتنا ہے کہ چمن افغانستان کے بارڈر پر افغان ریل ہی نہیں اس لئے ’نصف انٹرنیشنل ‘ ٹرین کے ساتھ بھی ویسا ہے جیسے برانچ لائنوں کی بوگیوں کا ہے۔ ریل وقت پر آجائے تو خیال کیا جاتا ہے کہ گذرے کل والی گاڑی ہوگی ، یہ لطیفہ بھی ہے ، واقعہ بھی اور پاکستان کے حالات بھی۔۔۔ لیکن اگر واقعی ریل وقت پر آجائے تو کتنے مسافر ہاتھ ہلاتے رہ جائیں گے ، یہ مجھ جیسے مسافر سے پوچھا جاسکتا ہے ہے جس سے چند سیکنڈ کی تاخیر نے گاڑی چھڑوا دی۔۔ جی ہاں! یہ چمن پسنجر تھی جو ریل کے اس ٹائم ٹیبل پر درج وقت کے عین مطابق چل پڑ جس ٹائم ٹیبل پر ہمیں اعتبار ہی نہیں رہا۔۔چمن پسنجر میری آنکھوں کے سامنے پلیٹ فارم چھوڑ کر جارہی تھی اور میں خیالوں میں اس کی کھڑکی سے باہر جھانکتا ہوا ، کوئٹہ شہر کے باغات کھا جانے والے کچے پکے مکانوں اور یہاں زندگی کی بنیادی سہولتوں اور انسانی محرمیوں میں گم تھا۔۔
کوئٹہ ریلوے سٹیشن کے پل سے اترتے ہوئے میں محسوس کررہا تھا کہ اب میں شیلا باغ ریلوے اسٹیشن پر اتر چکا ہوں اور کھوجک سرنگ کی جانب دیکھ رہا ہوں ، سب سے پہلے یہ سرنگ پانچ روپے کے نوٹ پر دیکھا کرتے تھے ، اسی کی دہائی میں پہلی بار یہ سرنگ اس کی دونوں دیواریں چھو کر دیکھی تھی ، وسط میں کھڑا ہو گہرے سانس بھرتے ہوئے ان مزدوروں کی خراجِ عقیدت پیش کیا تھا جن کی محنت ، خون اور جان کی قربانی سی یہ سرنگ کھودی گئی تھی ، خاص طور پر انگریز انجینئر کو خراجِ عقیدت پیش کیا جس نے محض اس وجہ سے خود کشی کرلی تھی کہ وہاپنے مقررہ وقت پر سرنگ مکمل نہیں کرسکا تھا اور جس روز اس نے( اپنی مقررہ وقت میں سرنگ کی عدم تکمیل پر ) خود کشی تھی اس سے اگلے روز ہی سرنگ سے پہاڑ کے آر پار روشنی پھیل گئی تھی اور راستہ مکمل ہوگیا تھا ، سلام ہے ایسے لوگوں کو جو اپنی کمٹمنٹ پر جان قربان کردیتے ہیں جبکہ انہیں ہم کافر بھی کہتے ہیں اور غیر مسلم ہونے پر خود کو مسلمان بن کر بالا قراردیتے ہیں جبکہ کمٹمنٹ پر قائم رہنا ضروری نہیں سمجھتے۔۔ ان گنت منصوبے ، نعرے اور دعوے اس کی زندہ مثال ہیں۔
مجھے چمن ایکسپریس کا شیلا باغ سے چمن کی وادیون میں اترنا اور چڑھنا ، پرکشش اور دلکش خواب لگتا ہے جس میں کھلی آنکھوں سے ایک سے زائد بار دیکھ چکا ہوں لیکن اس بار پاکستان کے ’نکمے‘ محکمے کی’ نکمی ‘ گاڑی نے گھڑی کی سوئی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مجھے شکست دیدی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ محکمہ چمن ایکسپریس کی اس ’حرکت‘ کو اپنا نصب العین کیوں نہیں بنا لیتا تاکہ مجھ جیسے سست مزاج لوگ بھی چست ہوجائیں اور زندگی میں وقت کی اہمی سمجھ سکیں۔۔۔ ریل کے افسروں اور ان افسروں کے حاکموں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی جیسے مجھے یہ سمجھ نہیں آئی تھی کہ چند سیکنڈ کی تاخیر بھی انسان سے گاڑی چھڑوا دیتی ہے۔۔
میں ریلوے اسٹیشن سے ملحقہ ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹ ( ڈی ایس ) کے سیکرٹریٹ میں چلا گیا ، وہاں صاب ( صاحب ) سے ملنے کا ارادہ ترک کیا اور تھوڑی سی معلومات حاصل کرکے کنٹرول روم پہنچ گیا جہاں نوجوان چیف کنٹرولر محمد کاشف سے ملاقات ہوئی اور میں نے چمن پسنجر کی ’شکایت‘ کی۔ کاشف میں لاہوریئے جراثیم محسوس کیے ، ’میری شکایت‘ پر مسکراتے ہوئے بولے کہ جناب غلطی تو ٹرین سے ہوگئی ہے لیکن اس سے جواب طلبی واپسی پر ہی ممکن ہے ،عجیب آدمی ثابت ہوئے ، میری ’شکایت‘ پر ’شرمندگی‘ ہی محسوس نہیں کی بلکہ بڑی ’ڈھٹائی‘ سے بولے کہ ہم تو ہر روز ہی ایسی’ گھٹیاحرکت‘ کی کوشش کرتے ہیں کبھی کامیاب ہوجاتے ہیں کبھی سو فیصد کامیاب نہیں ہوپاتے۔۔۔ ملاقات اچھی رہی ، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ملاقات اچھی تھی ، ریل افسر کا رویہ یا چائے ؟۔
ڈی ایس سیکرٹریٹ سے نکلتے میں پھر کھوجک کے تصور میں گم ہوگیا ، قدرت کا حسین نظارا ، ایسٹ انڈیا کمپنی کی ایک بہت بڑی ’سازش‘ کہ بھلے اپنے کسی مفاد میں ہی سہی بلوچستان کے عوام کو قریب لانے ، دوسرے علاقوں کے لوگوں کو آسان رسائی فراہم کرکے قبائلی، سرداری نظام دیکھنے ، اور سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ فرنگی کی سازش تھی کہ جن سرداروں کو قابو نہیں کرپائے تھے ،آج اسٹلبشمنٹ کا حصہ بنتے اور ’کچھ حلقوں میں با’غی یا غدار‘ کہہ کر بلائے جانے والے اچکزئی اقابرین کی مزاحمتی خدمات کو فراموش کئے ہوئے ہیں۔ اب میں محسوس کررہا ہوں کہ بلوچستان کے عوام میں ، محکوم ، پسماندہ عام آدمی میں سرداری نظام سے بغاوت اْٹھ رہی ہے ، انہیں اسٹیبلشمنٹ سے بھی بہت سی شکایات ہیں ، بیورو کریسی سے شکایات تو اتنی زیادہ ہیں جتنی زیادہ زیادی صوبے کا رقبہ ، بنجر ، نظر انداز زمین اور عوام آدمی کے نام پر جاری ہونے والے فنڈز کی خورد برد۔۔۔وسائل کی عدم فراہمی کے باعث ضائع ہوتے ہوئے پھل خاص طور پر کھجور جو چند فیصدی یہاں سے منتقل ہوتی ہی اور پھر اسلامی کھجور بن کر واپسی لوٹتی ہے۔۔۔ان کھجوروں کو بھی یہاں کی زمین کی طرح یقین ہے کہ ایک دن وہ اپنا جوبن دیکھیں گی اور باقی دنیا بھی ان کا جوبن دیکھ کر ان کی شان بیان کریں گی ، آج کا بااختیار انسان ابھی یہ آواز نہیں سن رہا لیکن قدرت کے رنگ نرالے ہیں ، بارشوں نے بلوچستان کو ہرا بھرا کرنا شروع کردیا جس سے خاکی زمین کو’ زرد ‘ قراردینے والے شرمندہ ہورہے ہیں۔ سیکڑوں مربع اراضی پر پھیلی کپاس ان کا منہ چڑا رہی ہے اور کھجوروں کے پتے سبز ہیں ، دور تک ہریالی دکھائی دینے لگی ہے ، کوہسار کے صحرا ہرے بھرے بھرے ہیں ، مچھ کی آبادی بڑھی ہے اور گھروں کی دیواروں پر کھلے پھول انسان کو چینلج کررہے کہ ہمیں اْگنے نہ دینے والوں ہمار’ا اسقاطِ حمل‘ تو ہوسکتا ہے ،لیکن کوکھ بنجر نہیں۔۔
(جاری)
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •