Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر،کرفیو لاک ڈاؤن کا101روز، غیر یقینی صورتحال

سرینگر( وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو،لاک ڈاؤن اور غیر اعلانیہ ہڑتال اور غیر یقینی صورتحال کے سبب ہر برس کشمیر آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔شہرہ آفاق سیاحتی مقامات پہلگام، گلمرگ، اور سونہ مرگ میں سال کے آخر میں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھ رہتارہتا تھا لیکن آج یہ مقامات سنسان ہیں۔محکمہ سیاحت کی جانب سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 2018کے مقابلے میں رواں برس سیاحوں کی آمد میں 88.41فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے۔محکمہ سیاحت کے ایک اعلی افسررشید احمد نے بتایا کہ مواصلاتی نظام پر پابندیوں اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سیاح وادی کشمیر آنے سے گریز کر رہے ہیں۔محکمہ سیاحت کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ برس محکمہ کی جانب سے چلائی جا نے والی مہم کی وجہ سے 2018 میں کل 841202 سیاح کشمیر آئے تھے۔ ان میں 56029 غیر ملکی جبکہ ملکی سیاحوں کی تعداد 785173 تھی۔ تاہم رواں برس اکتوبر 2018 تک تفریح کی غرض سے وادی میں آنے والے سیاحوں کی تعداد 475830 ہے جن میں غیر ملکی 30293 جبکہ 445537 ملکی سیاح شامل ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق پانچ اگست تک وادی کشمیر میں آنے والے کل سیاحوں کی تعداد 456525 تھی جن میں غیر ملکی28398تھے۔اگست میں ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرنے اور وادی میں موجود سیاحوں کو واپس اپنے وطن لوٹنے کی ایڈوائزری جاری کئے جانے کے بعد سیاحوں کی آمد میں کافی کمی آئی ہے۔ رواں برس اگست میں کشمیر آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 845 ، ستمبر میں 604 اور 18 اکتوبر تک 446 ہے جبکہ 2018 میں یہ تعداد اگست میں 5839، ستمبر میں 6672 اور اکتوبر میں 4239 درج کی گئی ہے۔بھارت سے آنے والے سیاحوں کی بات کریں تو رواں برس اگست کے ماہ میں 9285، ستمبر میں 3958، اکتوبر میں 4167 سیاح وادی پہنچے ۔ 2018 میں کل 79695 ملکی سیاح آئے۔ جن میں ستمبر میں 96523، اکتوبر میں 51712 سیاحوں نے کشمیر کی سیر کی۔محکمہ سیاحت کے مطابق کئی ممالک نے کشمیر کے بارے میں اپنے شہریوں کے نام مشاورت جاری کی تھی جس کے سبب سیاحوں نے کشمیر آنے سے گریز کیا۔انکا مزید کہنا تھا کہ سیاح کشمیر میں زیادہ تر ایڈونچر ٹورزم (Adventure Tourism) سے منسلک ہیں اور وہ وادی کے پہاڑی علاقوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس دفعہ ان کی آمد میں کمی کے سبب کشمیر کے صحت افزا مقامات ویران ہیں۔ایک ٹی وی سے بات کرتے ہوئے جموں کشمیر ماونٹیننگ اینڈ ہائیکنگ کلب کے صدر محمود شاہ کا کہنا تھا کہ وادی میں ایڈونچر ٹورزم 25 دسمبر کے بعد شروع ہوتا ہے جہاں دنیا بھر سے برف پر کرتب کرنے والے کھیل کھیلنے والے سیاح کشمیر آتے ہیں۔ لیکن وادی کشمیر اور ملک سے ان کھیلوں کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لئے تربیتی پروگراموں کا انعقاد برف باری کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ مواصلاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے وقت پر رابطہ نہ ہو پایا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ 25دسمبر کے بعد ان کھیلووں میں رجحان رکھنے والے افراد وادی کشمیر آئیں گے۔ادھر مقبوضہ کشمیر میں رواں برس قبل از موسم برفباری سے سردیوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بجلی کے بحران نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کے بعد کشمیر کی روایتی کانگڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ساتھ ایشین وائر کے مطابق عوام کو شکایت ہے کہ سردی کے ان ایام میں بجلی کی غیر معمولی لوڈشیدنگ کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ٹھٹھرتی سردی سے بچا کے لیے لوگ اب کانگڑیوں کا استعمال کرنے لگے۔ بار بار بجلی بند ہونے کی وجہ سے الیکٹرانک آلات بیکار ہیں اور کانگڑیوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کا کہنا ہے کہ سردی سے بچنے کے لیے کشمیر میں صدیوں سے روایتی برتن، جسے کانگڑی کہا جاتا ہے ،استعمال کی جاتی ہے۔اگرچہ کشمیر میں کانگڑیوں کے استعمال میں قدر کمی ہوئی ہے تاہم اس کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ بازاروں میں کانگڑی فروشوں کے پاس بہت بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے اور لوگ طرح طرح کی کانگڑیاں خریدنے میں مصروف دیکھے جارہے ہیں۔
وائس آف ایشیا14نومبر2019 خبر نمبر13

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •