Voice of Asia News

بجلی پر نیا ٹیکس اور عمران خان کے دعوے:محمد قیصر چوہان

 
پاکستان کو ترقی ا ورغریب عوام کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعوے کرنے والی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی حکومت نے خاموشی کے ساتھ بجلی کے استعمال شدہ یونٹوں پر پچاس فیصد ٹیکس عائد کردیا ہے۔ یہ ٹیکس پہلے سے عائد فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، ود ہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کے علاوہ ہے۔ بجلی کے استعمال شدہ یونٹوں پر پچاس فیصد ٹیکس عائد کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب ہر صارف کا بجلی کا بل مزید پچاس فیصد بڑھ جائے گا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بجلی کے نئے بل آنے کے بعد کس طرح سے مہنگائی کا ایک نیا سونامی پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ عمرانی حکومت کی جانب سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری ، شرح سود کو دگنا کرنے اور بجلی ، پٹرول و گیس کی نرخوں میں زبردست اضافے کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی سے ابھی تک عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں کہ حکومت نے ایک اور ڈائنامائٹ فٹ کردیا ہے۔ معیشت کے سارے ہی اشاریے ایک ہی سمت میں اشارہ کررہے ہیں کہ عوام کی اکثریت خط غربت کے نیچے جاچکی ہے اور بقیہ لوگ بھی بمشکل سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں آئی ایم ایف کے حکم پر عمران خان کی جانب سے بجلی کے بلوں میں پچاس فیصد اضافے کا مطلب تباہی پر مزید تباہی ہے۔ عمران خان آخر یہ بات کیوں سمجھنے پر تیار نہیں ہیں کہ معیشت کا پہیہ گھومے گا تو حکومت کو ریونیو ملے گا۔ جب معیشت ہی کساد بازاری کا شکار ہے اور آئے دن صنعتیں بند ہورہی ہیں تو وہ ٹیکسوں کی شرح پچاس فیصد تو کیا پانچ سو فیصد بڑھادیں ، حکومت کو حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی ہی آئے گی۔ کیا ہی بہتر ہو کہ عمران خان آئی ایم ایف کی پاکستان دشمن ٹیم سے چھٹکارا حاصل کریں اور محب وطن اہل افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دیں۔ عمران خان کی معاشی اور خارجی پالیسیاں دیکھ کر کہیں سے اندازہ نہیں ہوتا کہ پاکستان پر ایک پاکستانی ہی حکمراں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان پر عالمی بینک کی حکمرانی ہے اور رسمی طور پر جو لوگ اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھائے گئے ہیں وہ عملی طور پر عالمی بینک کے کارندے ہیں۔
عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی جو پالیسیاں اختیار کیں انہوں نے ملکی معیشت کیلئے دو دھاری تلوار کا کام کیا ہے۔ روپے کی بے قدری ، ٹیکسوں میں بے انتہا اضافہ ، بجلی ، گیس اور پٹرول کے نرخوں میں ہر چند دن کے بعد اضافے نے نجی شعبے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس پر شرح سود میں زبردست اضافے نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ اس کے نتیجے میں صنعتی یونٹ روز بند ہورہے ہیں اور زرعی شعبہ بھی زبردست خسارے کا شکار ہے۔ پاور لومز ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جان ہیں۔ فیصل آباد میں پاور لومز بند پڑی ہیں اور ہزاروں افراد کے گھروں کا چولہا بجھ گیا ہے۔ عمران خان کی پالیسیوں نے جو ماحول پیدا کیا ہے اس سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں اور مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے۔
جن پر ملک لوٹنے کا الزام تھا ، ان سب کو وزیر اعظم عمران خان کی آشیرباد سے عدالتوں سے ضمانتیں بھی مل گئی ہیں۔عمران خان جس جس کو الٹا لٹکا کر اور سڑکوں پر گھسیٹ کر لوٹا گیا پیسہ واپس لینے کی بات کرتے رہے ہیں ، اب ان سب کو گھر پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے یا دی جارہی ہے۔ عمران خان مسلسل کہتے رہے کہ چاہے جو کچھ ہوجائے وہ ملک لوٹنے والوں کو معاف نہیں کریں گے ، کسی صورت این آر او نہیں دیں گے۔نہ ڈیل ہوگی اور نہ ڈھیل دی جائے گی۔ مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دست راست اور ایف بی آر کے سربراہ شبر زیدی نے اعلان کردیا ہے کہ ملک سے باہرگیا ہوا ایک پیسہ بھی حکومت واپس لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لوٹ مار کے الزام میں جتنے لوگ بھی جیل کے اندر کیے گئے تھے ، وہ سب آہستہ آہستہ باہر آرہے ہیں ، یا تو ان کے خلاف کچھ ثابت ہی نہیں کیا جاسکا یا پھر ان کے خلاف اصل کیس دائر ہی نہیں کیے گئے۔ دو جمع دو نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عمران خان کے وہ تمام تر دعوے ہوائی ثابت ہوئے کہ وہ ملک سے لوٹی گئی رقوم واپس لائیں گے اور ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے گی۔ جو عقلمند تھے انہوں نے پہلے ہی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی بقیہ جو بچے تھے اب انہیں عدلیہ نے بھی باعزت کی کلین چٹ دے دی ہے۔ جن لوگوں نے عمران خان کی دی گئی ٹیکس ایمنسٹی سے فائدہ اٹھایا اور ملک سے لوٹا گیا کالا دھن چند فیصد رقم دے کر سفید کیا ، ان میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان بھی شامل ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف میں بھی فرشتے نہیں ہیں۔وزیر اعظم کے قریبی حلقے کہتے ہیں کہ شریف خاندان کو چھوڑنے کی وجہ قطر اور متحدہ عرب امارات کا دباؤتھا۔ پہلے بھی ایسے ہی دباؤکے تحت مشرف نے شریف خاندان کو چھوڑا تھا تو پھر مشرف کے این آر او میں اور عمران خان کی ڈیل میں کیا فرق رہ گیا۔ اب عمران خان قوم کو یہ بتائیں کہ اس سارے کھیل میں ملک کو کیا حاصل ہوا۔ پاکستان سے لوٹے گئے سیکڑوں ارب ڈالر کا کیا بنا اور ان لٹیروں کو کب ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ خود عمران خان کے وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کھل کر کہہ رہے ہیں کہ ڈیل ہوگئی ہے اور شیخ رشید نے بھی نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت ملنے پر جو کچھ کہا ہے وہ بھی بین السطور یہی ہے کہ ڈیل کی جا چکی ہے اور اب آصف زرداری بھی باہر آجائیں گے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •