Voice of Asia News

جرمنی، خواتین کی نازیبا تصاویر کھینچنا جرم قرار

برلن(وائس آف ایشیا)جرمنی کی وفاقی کابینہ نے ایک ایسا قانونی بل منظور کر لیا ہے جس میں خفیہ طور پر خواتین کے جسمانی اعضا کی تصاویر کھینچنے کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ حادثوں میں ہلاک ہونے والوں کی تصاویر لینا بھی قابل سزا جرم ہو گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اپ سکرٹنگ( خواتین کی مرضی کے بغیر اسکرٹ ) کپڑوں کے نیچے خفیہ طور پر نازیبا تصاویر کھینچنا اب جرمنی میں قابل سزا جرم ہو گا۔ جرمنی کی وفاقی کابینہ نے وفاقی کابینہ سے منظور کردہ قانونی بل میں اپ سکرٹنگ کے ساتھ ساتھ حادثوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر کھینچنے کے عمل کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل کو ربر نیکنگ کہا جاتا ہے۔جرمنی کی وزیر انصاف کرسٹینے لامبریشٹ کا کہنا تھاکہ خواتین کی سکرٹ کے نیچے سے تصاویر کھینچنا توہین آمیز اور خاتون کی نجی زندگی میں بے جا مداخلت ہے۔ انہوں نے حادثوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر لیے جانے کے حوالے سے کہاکہ ہمیں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو ان کے مر جانے والے عزیزوں کی تصویریں پھیلا کر مزید اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہیے۔نئے قوانین کے تحت اپ سکرٹنگ اور ربر نیکنگ کرنے والوں کو دو برس قید کی سزا دی جا سکے گی۔
وائس آف ایشیا14نومبر2019 خبر نمبر76

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •