Voice of Asia News

لوٹی گئی دولت کی برآمدگی کیلئے سر توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے‘ جسٹس (ر) جاوید اقبال

لاہور( وائس آف ایشیا )قومی احتساب بیورو (نیب )کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے دوسرے روز بھی نیب لاہور بیورو کا دورہ کیا جہاں انہیں ڈائریکٹر جنرل سلیم شہزاد نے میگا کرپشن کے مقدمات اور نیب لاہور کی جانب سے بدعنوان عناصر سے ہونے والی ریکوری پر جامع بریفنگ دی۔چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور قومی دولت لوٹنے والے بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقوم کی برآمدگی کو نیب کی اولین ترجیح سمجھتاہے۔ انہوں نے نیب لاہور کی جانب سے ڈبل شاہ کیس میں ملزمان سے اربوں روپے کی تاریخی وصولی اور ہزاروں متاثرین میں برآمد کی گئی رقوم کی تقسیم کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیب کے افسران و اہلکار عوام سے لوٹی گئی دولت کی برآمدگی کیلئے سر توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔نیب لاہور نے چند روز قبل ڈبل شاہ کیس کے متاثرین میں 19کروڑ35لاکھ روپے کی رقم تقسیم کی جبکہ آئندہ چند روز میں دیگر متاثرین کے میں مزید 36کروڑ روپے تقسیم کئے جائینگے۔ مجموعی طور پر نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس میں ہزاروں متاثرین کو ڈیڑھ ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے برآمد کروا کر تقسیم کی جا چکی ہے جبکہ ملزم ڈبل شاہ کے خلاف نیب لاہور کے بروقت اقدامات سے عوام کے نیب پر اعتماد میں بھرپوراضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ چندماہ کے دوران 71ارب روپے کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کروائی ہے جو نیب کی تاریخی کامیابی ہے۔ہاؤسنگ سیکٹر کے مقدمات میں ہونے پیشرفت پر جسٹس جاوید اقبال نے نیب لاہور کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ سیکٹر کے مقدمات بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا گزشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے ہاسنگ سیکٹر کے54,000متاثرین کو انکے حقوق واپس دلوائے جو انتہائی قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی ہاسنگ سوسائٹیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد روکنے کیلئے عوام کو انکی بر وقت نشاندہی کرنی چاہئے اور ریگولیٹرز کو بھی اپنا کردار موثر انداز میں ادا کرنا چاہئے۔ چیئر مین نیب نے کہا کہ غیرقانونی ہاسنگ سوسائٹیوں کے کیسز میں گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے 26ارب مالیت پر مشتمل 14بدعنوانی کے ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ نیب لاہور نے مجموعی طور پر دو سالوں کے دوران 31ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی۔چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کے اب تک کے تمام اقدامات ملک و قوم کے بہتر مفاد اور آنے والی نسلوں کیلئے کرپشن فری ماحول کی فراہمی کیلئے اٹھائے گئے ہیں۔ نیب ایک قومی ادارہ ہے جسکی وابستگی صرف اور صرف ملک و قوم سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں میگا کرپشن کے مقدمات بھی فیس نہیں کیس کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ نیب کی تحقیقات قانون اور شواہد کی بنیاد پر کی جاتی ہیں جس میں تمام اقدامات کسی دبا کو خاطر میں لائے بغیر اٹھائے جارہے ہیں۔
وائس آف ایشیا15نومبر2019 خبر نمبر166

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •